طالبان کے مقابلے میں افغان فوج کی کامیابی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246559-طالبان_کے_مقابلے_میں_افغان_فوج_کی_کامیابی
منظرعام پر آنے والی رپورٹوں سے طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے مقابلے میں افغان فوج کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۵:۰۶ Asia/Tehran
  • طالبان کے مقابلے میں افغان فوج کی کامیابی

منظرعام پر آنے والی رپورٹوں سے طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے مقابلے میں افغان فوج کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے-

افغان فوج کی تازہ ترین کارروائی میں صوبہ بدخشاں کے ضلع راغستان میں واقع اس ملک کے سونے کی سب سے بڑی کان چالیس دن کی جنگ کے بعد طالبان کے قبضے سے آزاد کرالی گئی ہے اور یہ علاقہ طالبان دہشت گردوں کے وجود سے پاک کرالیا گیا ہے- صوبہ بدخشان میں واقع سونے کی کان گذشتہ دو برسوں سے طالبان کے قبضے میں تھی اور اس گروہ کو اس کان سے ہر مہینے پانچ ملین افغانی یا پچھتر ہزار ڈالر کی آمدنی ہوتی تھی - اس بنا پر افغان فوج کی یہ کامیابی اس وجہ سے بھی بہت اہم ہے کہ یہ کان ، طالبان کا ایک اہم ذریعہ آمدنی تھا- افغانستان کے صوبہ بدخشاں کی صوبائی کونسل نے ابھی حال ہی میں راغستان کی سونے کی کان پر طالبان کا قبضہ جاری رہنے کے سلسلے میں خبردار کیا تھا- افغانستان کے سیاسی ماہرین کی نظر میں جب تک معدنیات ، منشیات اور ٹرانزیٹ جیسے مختلف شعبوں سے طالبان کی آمدنی اور اس کے یہ مالی ذرائع ختم نہیں ہوتے اس وقت تک اس گروہ کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور مختلف علاقوں کو اس کے قبضے سے آزاد نہیں کرایا جا سکتا- منشیات کی پیداوار کے سب سے بڑے مرکز کی حیثیت سے صوبہ ہلمند پر طالبان کے حالیہ حملے اس کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں- اس بنا پر سیاسی ماہرین ، راغستان کی سونے کی کان کو طالبان کے قبضے سے واپس لینے کو اہم کامیابی اور طالبان پر کاری ضرب سے تعبیر کرتے ہیں- طالبان اپنی بھاری آمدنی سے جنگجو بھرتی کرنے کی توانای رکھتے ہیں اور اس کی آمدنی کا سلسلہ منقطع ہونے سے جنگجو بھرتی کرنے کے لئے اس کی مالی توانائی کم ہوسکتی ہے- اس صورت میں افغان حکومت کو امید ہے کہ طالبان گروہ ، امن مذاکرات میں شرکت کو قبول کرلے گا-  طالبان گروہ کے مالی ذرائع منقطع ہونے کے ساتھ ہی اس گروہ کے ساتھ جنگ میں افغان فوج کی کامیابی سے طالبان کے حوصلے بھی پست ہوں گے- اگرچہ طالبان کا خیال تھا کہ افغان فوج اور خاص کر پشتون ، اس گروہ کے ساتھ جنگ میں محاذ جنگ کو ترک کردیں گے لیکن عملی طور پر نہ صرف یہ کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ افغان فوج نے طالبان کے مقابلے میں یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ دہشت گرد عناصر اور مسلح جنگجؤوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے- جدید فوجی ساز و سامان اور افغان فوج کی عسکری طاقت کی تقویت سے بھی ثابت ہوگیا کہ اگر افغان فوج کے پاس جدید فوجی ہتھیار ہوں تو وہ طالبان اور دوسرے تمام جنگجؤوں اور دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے- یہاں تک کہ خبری ذرائع صوبہ بغلان کے بورکہ ضلع میں طالبان کی ناکامی کی خبردے رہے ہیں- رپورٹوں کے مطابق اس حملے میں پڑوس کے صوبوں سے جنگ میں شامل ہونے والے طالبان کی بڑی تعداد کو کچل دیا گیا ہے - اس کے باوجود افغان فوج کی ایک دیگر کارروائی میں فاریاب میں طالبان کے دہشت گردانہ کارروائیوں کے سربراہ قاری احمد خالد کو بھی گرفتار کرلیا گیا کہ جو ایک بڑی کامیابی ہے- افغانستان میں جنگ کے محاذوں پر طالبان اور فوج کے درمیان جنگ کا ایک قابل توجہ نکتہ عوام کی جانب سے اس کی کارروائیوں کی مخالف ہے- افغانستان کے عوام طالبان کو عوام کی زندگی میں خلل کا باعث سمجھتے ہیں کہ جو جنگ جاری رہنے سے قیام امن میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں-

افغان طالبان کے ترجمان کا یہ بیان کہ قندوز تخار ہائی وے کو عوام کی مطالبے پر کھولا گیا ہے اس سلسلے میں قابل توجہ ہے - طالبان نے جنگ کی وجہ سے اس ہائی وے کو بند کر رکھا تھا تاہم عوامی مطالبات کے با‏عث وہ اسے کھولنے پر مجبور ہوئے کہ جو اس گروہ کے لئے اس اہم پیغام کا حامل ہے کہ افغانستان کے عوام اب جنگ سے پیدا ہونے والے مسائل برداشت کرنے کی توانائی نہیں رکھتے کہ جس کا ایک حصہ دربدری اور ان کے عزیزوں کا قتل ہے -