مغرب کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں پر پوتن کی شدید تنقید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246574-مغرب_کی_مداخلت_پسندانہ_پالیسیوں_پر_پوتن_کی_شدید_تنقید
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتے کے روز مختلف ملکوں میں جمہوریت کے فروغ کے بہانے مغربی ملکوں کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۶:۰۲ Asia/Tehran
  • مغرب کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں پر پوتن کی شدید تنقید

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتے کے روز مختلف ملکوں میں جمہوریت کے فروغ کے بہانے مغربی ملکوں کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔

روسی صدر نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہر معاشرے میں تبدیلیاں اس کے اندر سے آنی چاہییں نہ کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے۔ ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ گزشتہ پندرہ سال کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان دوستانہ مداخلت کی آڑ میں مغرب کی خارجہ پالیسی، آزادی کے لیے جنگ اور استبداد کے مقابل مخالفین کو مضبوط بنانے کا نتیجہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافے اور عدم استحکام کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا ہے۔ عراق، شام اور لیبیا کے موجودہ حالات مغرب کی مداخلت پسندی کے واضح مصداق ہیں۔

پوتن نے اپنے بنیان میں مغرب کو مخاطب قرار دیا ہے لیکن واضح ہے کہ ان کی مراد امریکہ اور مغرب کے وہ ممالک ہیں کہ جو اپنے تسلط پسندانہ نظریات دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ قدرتی بات ہے کہ روس کے لیے کہ جو خود کو ایک بین الاقوامی طاقت سمجھتا ہے، مغرب کا یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے۔ یوکرین کا بحران پھیلنے اور مغرب اور روس کے آمنے سامنے آنے کے بعد امریکہ نے روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مل کر روس کے خلاف وسیع پیمانے پر مالی اور اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔ مغربی حکومتوں نے روس کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کی ہے اور وہ اس ملک کو عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں روس بھی مغرب پر، دنیا پر تسلط حاصل کرنے اور اپنے اقدار مسلط کرنے کی کوشش کا الزام لگاتا ہے۔ روسی صدر نے اس سلسلے میں انسان دوستانہ مداخلت پرمبنی مغرب کے دعووں اور شام، لیبیا اور عراق میں آزادی کے لیے جنگ کی طرف اشارہ کیا اور اسے دنیا پر اپنا تسلط جمانے کے لیے مغرب کی براہ راست کوشش کے مترادف قرار دیا ہے۔

مغرب کے ان اقدامات کا قتل و خونریزی بڑھنے اور بین الاقوامی دہشت گردی پھیلنے کے  سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ ولادیمیر پوتن کے بیان سے تسلط پسند مغربی طاقتوں اور دنیا میں رقیب طاقتوں کے درمیان جدال اور محاذ آرائی کی نشان دہی ہوتی ہے۔

مغرب والوں نے کئی بار لبرل ڈیموکریسی کو دنیا میں برتر آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کیا ہے اور حتی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی دانشور فرانسس فوکو یاما نے تاریخ کے خاتمے کی بات کی۔ بظاہر مغرب والوں کا یہ خیال ہے کہ اقدار صرف وہ ہیں کہ جو ان کی نظر میں معتبر ہیں اور جو ممالک مختلف عقیدہ یا آئیڈیالوجی وغیرہ رکھتے ہیں انھیں مغرب کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ شاید اسی بنا پر امریکہ نے روس کو عالمی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور اس کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

روس مغربی اقدار کو کہ جن کی عالمی اقدار کے عنوان سے تبلیغ کی جاتی ہے، قبول نہیں کرتا ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ مغرب والوں کو بین الاقوامی اصول و قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ روس کے خلاف مغرب کی وسیع نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگ کی وجہ بھی اس کی جانب سے مغربی اقدار کی مخالفت ہے۔

دوسرے ملکوں میں مداخلت کے سلسلے میں مغرب کے تخریبی رویے نے ماسکو کو ا س بات پر مجبور کیا کہ وہ مغرب کی پالیسیوں پر نظرثانی اور بین الاقوامی نظام میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کوشش کرنے کا مطالبہ کرے تاکہ آزادی اور انسانی حقوق کے بہانے دوسرے ملکوں پر مغرب کے تسلط کے لیے عرصہ تنگ کیا جائے۔