ایران کے سیاسی و اقتصادی اشتراک عمل میں فروغ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246712-ایران_کے_سیاسی_و_اقتصادی_اشتراک_عمل_میں_فروغ
ایران گذشتہ دنوں عمان اور الجزائر کے حکام اور وفود کا میزبان رہا ہے - جبکہ تہران میں جرمنی کی ریاست بایرن کے وزیر اقتصاد ایلزہ آیگنر کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے والے ہیں - جرمنی کی ریاست بایرن کے وزیر اقتصاد کے ساتھ پچاس افراد پر مشتمل وفد ایران کے دورے پر ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۰۴ Asia/Tehran
  • ایران کے سیاسی و اقتصادی اشتراک عمل میں فروغ

ایران گذشتہ دنوں عمان اور الجزائر کے حکام اور وفود کا میزبان رہا ہے - جبکہ تہران میں جرمنی کی ریاست بایرن کے وزیر اقتصاد ایلزہ آیگنر کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے والے ہیں - جرمنی کی ریاست بایرن کے وزیر اقتصاد کے ساتھ پچاس افراد پر مشتمل وفد ایران کے دورے پر ہے-

فرانس کی قومی پارلیمنٹ کے اسپیکر کلوڈ بارتلون بھی آج سے ایران کا چار روزہ دورہ شروع کررہے ہیں- بعض سیاسی حلقوں نے ایک دیگر زاویے سے نظرڈالتے ہوئے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد سے ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے ، حقائق کا برعکس تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے-

 یہ ایسے عالم میں ہے کہ امریکہ نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے مفھوم میں ایک طرح سے پابندیوں کے خود بخود دوبارہ نافذ ہونے کی گنجائش باقی رکھی ہے اور اس نے اپنے عھد پر پوری طرح عمل نہیں کیا ہے-

مشترکہ جامع ایکشن پلان کی ایک کمزوری اور نقص، پابندیوں کی خود بخود واپسی کی شق ہے کہ جو ایران کی جانب سے خلاف ورزی کئے جانے کی صورت میں نافذ ہوگی - البتہ اس شق کے فعال ہونے کی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی بنا پر کمپنیوں کو براہ راست سزا نھیں نہیں دی جائے گی لہذا وہ بلا کسی تشویش کے ایران کے ساتھ تعاون کرسکتی ہیں- درحقیقت امریکہ نے اس معاملے میں آزاد عالمی تجارت کو محدود کرنے کے سلسلے میں دباؤ کو ایک طرح سے کم کرنے اور امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کے مخالفین کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ انھیں ایران کے خلاف امریکہ کے اقدام سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا- تاہم امریکہ، ایک موذی اقدام کے تحت، مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد بھی ایران کے خلاف پابندیاں نافذ کرنے کا ایک اصلی کھلاڑی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ یورپ اور حتی اقوام متحدہ کو استعمال کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے میں ایران کے خلاف بے بنیاد دعوے اوراس کی میزائلی طاقت کو خطرہ بنا کر پابندیوں کی روش کو مشترکہ جامع ایکشن پلان سے ماوری دوسرے شعبوں میں بھی منتقل کرے- 

البتہ آئندہ پندرہ برس بعد مشترکہ جامع ایکشن پلان کی مدت ختم ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور یورپ کی پابندیاں پوری طرح ختم ہوجائیں گی اور پھر اس وقت اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دوبارہ نافذ ہونے کا انتحصار سلامتی کونسل میں کرائی جانے والی ووٹنگ پر ہوگا - اوریورپ کی کسی بھی قسم کے پابندی دوبارہ عاید ہونے کے لئے یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان مکمل اجماع و اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی - ان حالات کے تحت ، صرف امریکہ ہے جو ایران کے خلاف اپنی ثانوی پابندیاں یکطرفہ طور پر دوبارہ نافذ کرسکتا  ہے اور اگر وہ تنہا اس طرح کا کوئی کام کرے گا تو خود کو اکیلا پائے گا-

 ایران کی سفارتی کوششوں پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ تہران علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون کو مضبوط بنا رہا ہے-

ماہرین کا خیال ہے کہ تہران کی حکمت عملی ، عالمی اقتصاد میں داخل ہونے کے لئے سیاسی و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور علاقائی و عالمی سطح پر رونما ہونے والے سیاسی حالات میں موثر کردار ادا کرنے کی اسٹریٹیجک پالیسی پر استوار ہے- اقتصادی میدان میں ایران کی طویل اسٹریٹیجک پالیسی غیرملکی سرمایہ کاری سے استفادہ کرتے ہوئے داخلی ڈھانچوں کی تعمیر نو کے لئے بیرونی سرمایہ کاری کا حصول اورداخلی مہارت سے استفادہ نیز تعلقات کے متوازن فروغ  پر استوار ہے -  ایران کے اقتصادی تعلقات کی توسیع کا دائرہ اس وقت یورپ اور جنوبی امریکہ سے لے کر افریقہ تک پھیلا ہوا ہے-

 اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران، اپنے اقتصادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بعد پیش آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا عزم کئے ہوئے ہے-  لیکن یہ حلقے جس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں وہ یہ حقیقت ہے کہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ایران کے اقدامات اس بات کے  عکاس ہیں کہ امریکہ کا پابندیاں عائد کرنے کا پروجیکٹ ناکام اور دباؤ لا حاصل ہے جس نے برسوں تک بڑے پیمانے پر ایران کے خلاف پابندیاں ‏عائد کر کے اسے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی - یہ حلقے اب بھی کہ جب ایران بڑے پیمانے پرغیرمعمولی بین الاقوامی تعاون کی جانب واپس آرہا ہے ، یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کی ٹوپی امریکہ کے سر پر کے زیرعنوان مشترکہ جامع ایکشن پلان کی الٹی تصویر پیش کریں ، ایران کی مضبوط ہوتی ہوئی پوزیش کی دوسری شکل میں تفسیر و تشریح کرنا چاہتے ہیں - وہ یوں باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ امریکہ نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تناظر میں ایران کو خفیہ مراعات دی ہیں - جبکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد بھی امریکہ کے منفی اقدامات جاری رہنے کے باوجود ایران کی پیشرفت ،تہران کے خلاف تمام اقدامات ناکام ہو جانے کا ثبوت ہے-