ہندوستانی وزیر داخلہ کی دعوت مسترد
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246733-ہندوستانی_وزیر_داخلہ_کی_دعوت_مسترد
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے بحران کے خاتمے کے لئے سیاسی مذاکرات میں شرکت کے لئے ریاستی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی دعوت مسترد کر دی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۵, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۲ Asia/Tehran
  • ہندوستانی وزیر داخلہ کی دعوت مسترد

کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے بحران کے خاتمے کے لئے سیاسی مذاکرات میں شرکت کے لئے ریاستی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی دعوت مسترد کر دی ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسی غرض سے ہندوستان کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ہمراہ تیس افراد پر مشتمل ایک وفد سری نگر کے دورے پر ہے- جموں و کشمیر کے وزیر اعلی نے سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق ، محمد یاسین ملک ، پروفیسرعبدالغنی بٹ ، مولوی عباس انصاری اور شبیر احمد شاہ سمیت حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے نام ایک خط میں اپیل کی ہے کہ وہ اس علاقے میں بد امنی اور بحران کا سلسلہ ختم کرنے کے لئے مذاکرات میں شرکت کریں- حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں سیاسی مذاکرات میں شرکت کی جموں و کشمیر کے وزیر اعلی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ہندوستان نے کشمیری عوام کے سلسلے میں دہری پالیسی اختیار کررکھی ہے-

اس بیان میں کشمیری عوام کے مطالبات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی گئی ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی وفد بھیجنے سے عوام کے مسائل و تکلیف میں صرف اضافہ ہی ہوگا-

حریت کانفرنس سمیت دیگر کشمیری گروہوں کے رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کے لئے نئی دہلی کی درخواست ایسے عالم میں سامنے آئی ہے کہ ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں دو ماہ پہلے سے شروع ہونے والی بدامنی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پولیس و فوج کی تعداد میں اضافے اور پیلٹ گنوں کے استعمال سمیت سیکورٹی انتظامات نہایت سخت کردیئے جانے کے باوجود اس علاقے میں حالات بہتر نہیں ہو سکے ہیں- کشمیری عوام اور ہندوستانی سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپوں میں اب تک کم سے کم نوے افراد جاں بحق اور سات ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں-

ہندوستان کی سیاسی جماعتوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر سے متعلق مذاکرات وسیع تر ہونے چاہئیں اور اس میں تمام مخالف سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو موجود ہونا چاہئے اور جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کا بھی یہ خیال ہے- کیونکہ اب تک حکومت ہندوستان ، نئی دہلی کے حامی کشمیری گروہوں کے ساتھ کئی مذاکرات کرچکی ہے جو نتیجہ خیز نہیں رہے ہیں- کیونکہ یہ گروہ اور سیاسی جماعتیں نئی دہلی کے مخالف گروہوں پر نفوذ نہیں رکھتیں- اسی بنا پر ہندوستانی وزیر داخلہ کی سربراہی میں کشمیر کا دورہ کرنے والے تیس رکنی وفد نے کوشش کی ہے کہ مذاکرات میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو بھی شامل کرے تاہم انھوں نے یہ درخواست مسترد کردی ہے-

یہ موضوع کئی لحاظ سے قابل توجہ ہے- پہلے یہ کہ حریت کانفرنس کے رہنما ، نہیں چاہتے کہ وزیر داخلہ کے ساتھ سیاسی مذاکرات میں شرکت کر کے انھیں تسلیم کریں کیونکہ حریت رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس طرح کے مذاکرات  صرف یہ ظاہر کرنے کے لئے ہو رہے ہیں کہ کشمیر کے بحران کے سیاسی حل کی کوشش ہو رہی ہے-  دوسرے یہ کہ ہندوستانی حکومت کے مخالف کشمیری گروہ اس ملک پر بحران کشمیر کے سلسلے میں دہری پالیسیاں اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ حکومت ہندوستان ، بحران کشمیر کو بنیادی طور پر حل کرنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتی اور وہ صرف کشمیری گروہوں کو حالیہ عوامی مظاہروں اور بدامنی کا سلسلہ ختم کرنے کے لئے تعاون پر مجبور کرنا چاہتی - یہ ایسی حالت میں ہے کہ کشمیری عوام نے ہندوستانی وزیرداخلہ اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال حکومت مخالف نعرے لگا کر کیا اور پورے کشمیر میں بھوک ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے-  ہندوستانی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں جس کے نتیجے میں کم سے کم اسی افراد زخمی ہوگئے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کے زیرکنٹرول کشمیر کے عوام کو نئی دہلی حکومت سے توقع ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو تشدد کم کرنے کی ہدایت دینے کے ساتھ ہی اس علاقے کے عوامی نمائںدوں اور پاکستان و ہندوستان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے بحران کشمیر کو بنیادی طور پر حل کرنے کے لئے اقدام کرے گی-