شام کے سلسلے میں ترکی کی خود غرضی پر مبنی پالیسی
شام کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے مقابلے میں رضاکار عوامی فورس اور شامی فوج کی غیر معمولی کامیابیاں اور دہشت گردوں کے پہلے سے زیادہ دباؤ میں آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس صورت حال نے نہ صرف دہشت گردوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے بلکہ ان کے حامیوں کو بھی دہشت گردوں کو پوری طرح سے شکست سے بچانے کی تگ و دو میں لگا دیا ہے-
اس تناظر میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے عمل میں خلل ڈالنے اور وقفہ پیدا کرنے کے لئے ، روس اور امریکہ کے تعاون سے شمالی شام میں ایک محفوظ علاقہ ایجاد کرنے کا مطالبہ کیا ہے-
رجب طیب اردوغان نے پیر کو شمالی شام میں پینتالیس کلومیٹر کے اندر تک پنچانوے کلومیٹر کے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے تعاون سے اس علاقے کو پناہ گزینوں کو بسانے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے- رجب طیب اردوغان نے دعوی کیا کہ شمالی شام میں ترک فوج کی سرحد پار کارروائیاں شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی نہیں ہیں اور انقرہ داعش اوردہشت گردوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لئے شام میں داخل ہوا ہے-
قابل ذکر ہے کہ چوبیس اگست کو سپرفرات نامی آپریشن کے تحت ترک فوج کے ٹینک دہشت گرد گروہوں کے نام نہاد مقابلے کے مقصد سے شام کے صوبہ حلب کے جرابلس علاقے میں داخل ہوگئے تھے لیکن شامی فوج نے اس ملک کے شمالی علاقے میں ترک فوج کے ٹینکوں کے داخل ہونے کی مذمت کرتے ہوئے اسے قومی اقتداراعلی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا-
اگرچہ دہشت گردوں کا مقابلہ اورعلاقائی امن و ثبات کی حفاظت کی کوشش ایک ناقابل تبدیل اور اہم اصول ہے لیکن یہ موضوع ، کسی ملک کے اقتداراعلی کی خلاف ورزی کی پرواہ اورمرکزی حکومت کی ہماہنگی کے بغیر کسی ملک کے قلمرو میں فوجی کارروائی کرنے اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کا جواز نہیں بن سکتا اور بننا بھی نہیں چاہئے-
شامی حکومت کی اجازت کے بغیر شام میں ترک فوج کے اقدامات ایک طرح کی جارحیت ہیں کہ جو بین الاقوامی قوانین، اچھی ہمسائگی اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں سے میل نہیں کھاتے-
شام کے سلسلے میں ترکی کے توسیع پسندانہ منصوبے اور فوجی اقدامات کہ جو محفوظ علاقے کے قیام جیسی چالوں سمیت مختلف طریقوں سے انجام دیئے جا رہے ہیں ، علاقے میں ایک قسم کی ناقابل جواز مداخلت ہے اور اسی بنا پر اس پر عالمی ردعمل سامنے آیا ہے-
شام کے سلسلے میں ترکی کا اقدام ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد دوہزاردو سوچون کے منافی ہے کہ جو بحران شام کے حل کے لئے سیاسی نقشہ تیار کرنے میں مدد کے مقصد سے منظور ہوئی ہے اور اس میں شام کی ارضی سالمیت ، اتحاد اور خود مختاری کی حفاظت کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے-
علاقے کے حالات کے سلسلے میں ترکی کا رویہ چاہے وہ کسی بھی منطق کے تحت ہو بہت زیادہ مبہم ہے خاص طور سے انقرہ حکام کا داعش کے خلاف جنگ کا دعوی کافی مشکوک ہے-
ترکی ایسی حالت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شام میں بظاہر قیام امن کی کوشش کا دعویدار ہے کہ اس ملک میں بدامی کی اصلی جڑ اور دہشت گردی کے فروغ کے ذمہ دار ترکی ، سعودی عرب اور اسرائیل ہیں-
اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی کی جانب سے اپنی سرحد پردہشت گردوں کو آمد و رفت میں سہولت دینا ، ان کے زخمیوں کو ترکی منتقل کرنے اورعلاج کے لئے اسرائیلی اسپتالوں میں پہنچانے میں آسانیاں داعش دہشت گردوں کی مضبوطی اور شام میں بد امنی میں شدت کا باعث بنی ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ داعش دہشت گردوں کے ہاتھوں شام کا تیل چوری اور اسمگل کیا جانا اور ترکی پہنچایا جانا بھی داعش کی بقا اور دہشت گردی کے پھلنے پھولنے کا ایک اور ذریعہ ہے اور اس سلسلے میں ترکی و اسرائیل نے براہ راست کردار ادا کیا ہے-
ان وجوہات کی بنا پر شامی میں ترکی کے منصوبوں کوچاہے وہ کسی بھی وجہ سے ہوں سخت تنقیدوں اوراحتجاجات سے روبرو کردیا ہے-