ہندوستان سے طالبان کی درخواست
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246847-ہندوستان_سے_طالبان_کی_درخواست
ایسے عالم میں جب افغان حکومت اسٹریٹیجک پالیسی کے عنوان سے ہندوستان کے ساتھ ہمہ گیر تعلقات کو فروغ دے رہی ہے طالبان نے حکومت ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان حکومت کو ہتھیار اور ہیلی کاپٹر نہ دے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۲:۵۰ Asia/Tehran
  • ہندوستان سے طالبان کی درخواست

ایسے عالم میں جب افغان حکومت اسٹریٹیجک پالیسی کے عنوان سے ہندوستان کے ساتھ ہمہ گیر تعلقات کو فروغ دے رہی ہے طالبان نے حکومت ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان حکومت کو ہتھیار اور ہیلی کاپٹر نہ دے-

افغانستان کے طالبان کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ افغان  حکومت کو تباہ کن ہتھیار دینا اس ملک کے عوام کی مدد نہیں ہے بلکہ ایک ایسے گروہ کی مدد ہے جسے انھوں نے غیرملکیوں کا حمایت یافتہ مجرم قرار دیا- ذبیح اللہ مجاہد نے ہندوستان کے فوجی ہتھیار افغان حکومت کو دیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات دونوں ملکوں کی قوموں کے درمیان عدم اعتماد کو بڑھانے اور تعلقات کے خراب ہونے کا باعث ہوں گے-

 ہندوستان ایسی حالت میں فوجی ساز وسامان افغان حکومت کو دے رہا ہے کہ جب وہ ، مغربی ممالک کی جانب سے اسلحہ جاتی مدد اور فوج و پولیس کو مضبوط بنانے میں ان کے تعاون سے پوری طرح مایوس ہوچکی ہے اور اس نے اسلحہ حاصل کرنے کے لئے مشرقی ملکوں کا رخ کیا ہے- ہندوستان نے دوہزار ایک میں افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے تعمیری عمل کو آگے بڑھانے کے لئے مختلف میدانوں میں افغانستان کی مدد کی ہے اور ابھی حال ہی میں ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی نے اعلان کیا ہے کہ نئی دہلی ، افغانستان میں قیام امن و استحکام میں مدد کرے گا- اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان فوجی اور سیکورٹی میدان میں افغان حکومت کا زیادہ سے زیادہ ساتھ دینا چاہتا ہے - کانگریس پارٹی کی سربراہی میں قائم ہونے والی ہندوستان کی سابق حکومت افغانستان کے سیکورٹی اور فوجی امور میں شرکت کی جانب کچھ زیادہ مائل نہیں تھی لیکن بی جے پی کی زیر قیادت نریندر مودی حکومت کی کوشش ہے کہ افغانستان کی تجارتی اور فوجی منڈیوں میں اپنے لئے زیادہ حصہ مختص کرے- ہندوستان کی یہ پالیسی نئی دہلی کے روایتی و ایٹمی حریف پاکستان کے ساتھ رقابت سے تعبیر کی جا رہی ہے- 

پاکستان ، افغانستان کو اپنی کالونی سمجھتا ہے اور وہاں ہندوستان سمیت کسی بھی ملک کے سیاسی اقتصادی اور سیکورٹی نفوذ کا سخت مخالف ہے-  اسی بنا پر گذشتہ برسوں میں افغانستان میں ہندوستانی انجینیروں پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا گیا تاکہ  یہ انجینئر افغانستان میں سرمایہ کاری اور تعمیراتی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں- اس بنا پر چونکہ سیاسی ماہرین، افغانستان میں اسلام آباد کے اثر ونفوذ کے لئے طالبان کو پاکستان کا بازو سمجھتے ہیں اس لئے ان کا خیال ہے کہ اس گروہ کا ہندوستان کو انتباہ درحقیقت ایک طرح سے پاکستان کے موقف کا اظہار ہے کہ جو افغانستان میں ہندوستان کے مفادات کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے- طالبان نے ہندوستان کو انتباہ دینے کے ساتھ ہی کابل میں وزارت دفاع کے قریب ہولناک دھماکا کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان اب بھی خوف و وحشت پیدا کرنے کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے-  طالبان کے سابق سرغنہ ملاعمر کی موت کے اعلان کے بعد یہ گروہ کئی دھڑوں میں بٹ گیا ہے لیکن افغان حکومت ، بدستور حقانی گروہ کو ملک میں مہلک حملوں کا ذمہ دار سمجھتی ہے کہ جس کے رابطے افغان ماہرین کی نگاہ میں پاکستان میں فوجی اور انٹیلیجنس ذرائع سے ملتے ہیں- 

بہرحال کابل اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ہولناک دھماکے کہ جن کی ذمہ داری طالبان قبول کرتے ہیں ، اس گروہ کی غیرملکی اور افغان فوج کے سامنے اپنی طاقت کے مظاہرے کی بھرپور کوشش کی عکاسی کرتے ہیں-  یہ ایسی حالت میں ہے کہ نیٹو سمیت غیرملکی فوجی ان دھماکوں کو افغانستان میں اپنے فوجیوں کی طاقت بڑھا کر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لئے ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہیں- اسی کے ساتھ ہندوستان میں  بھی یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ افغانستان کو فوجی ساز و سامان اور ہتھیار دینے کا سلسلہ بند کرنے کے لئے ہندوستان کو طالبان کا انتباہ کہیں افغانستان میں اس ملک کے مفادات اور ہندوستانی شہریوں پراس گروہ کے حملوں پر منتج نہ ہو کہ جو نئی دہلی اور اسلام آباد کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کردے-