ایران برطانیہ تعلقات کے نشیب و فراز
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i246853-ایران_برطانیہ_تعلقات_کے_نشیب_و_فراز
ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں فروغ کے حالات فراہم ہونے کے بعد دونوں ممالک نے لندن اور تہران میں اپنے سفیروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے- اس فیصلے پر عمل درآمد کے تناظر میں ایران اور برطانیہ کے نئے سفیروں نے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کو اپنے اساد تقرری پیش کئے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۱ Asia/Tehran
  • ایران برطانیہ تعلقات کے نشیب و فراز

ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں فروغ کے حالات فراہم ہونے کے بعد دونوں ممالک نے لندن اور تہران میں اپنے سفیروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے- اس فیصلے پر عمل درآمد کے تناظر میں ایران اور برطانیہ کے نئے سفیروں نے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کو اپنے اساد تقرری پیش کئے-

لندن میں ایران کے نئے سفیر حمید بعیدی نژاد اور تہران میں برطانیہ کے نئے سفیر نیکلس ہیپٹن نے پیر کو ایک ساتھ دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ میں پہنچ کر ایران و برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی اور اپنے اسناد تقرری پیش کئے- 

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعلقات میں یہ ارتقا دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا نقطہ اختتام ہو سکتا ہے؟

وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے پیر کو تہران لندن تعلقات کی سطح کے بارے میں  صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفیر کی سطح پر تعلقات کی بحالی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فریقین کے موقف میں پایا جانے والے اختلافات ختم اور مسائل حل ہوگئے ہیں -

ایران میں برطانوی مداخلت کے خلاف دوہزار گیارہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کچھ مظاہرین کے تہران میں واقع برطانیہ کے سفارت خانے میں داخل ہوجانے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات ختم ہوگئے تھے لیکن تقریبا ایک سال قبل دونوں ملکوں کے درمیان ناظم الامور کی سطح کے تعلقات بحال ہوئے تھے- لندن حکومت نے کئی مہینے پہلے اپنا سفیر ایران بھیجنے اور تعلقات کو سفیر کی سطح پر بحال کرنے کی اپیل کی تھی - اس سلسلے میں ایرانی و برطانوی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران نے لندن کی بار بار کی درخواست اور اصرار کے جواب میں دونوں ملکوں کے سفیروں کی تعیناتی پر اتفاق کیا - ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں نشیب و فراز کی تاریخ طویل ہے- درحقیقت دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات اس وقت سے  ہیں جب برطانیہ نے انیسویں صدی میں ایران کے سیاسی و جغرافیائی پڑوس میں قدم رکھا - برطانیہ نے اپنے سامراجی مفادات کے تناظر میں ماضی میں بھی کبھی ایران کے سلسلے میں تعمیری اور اعتماد بحال کرنے والی نظر نہیں ڈالی - اور ایرانیوں کے لئے ہمیشہ تلخ یادیں ہی باقی چھوڑیں-

ایران کی تیل کی صنعت قومیائے جانے کی مخالفت میں برطانوی رویہ اور انیس سو ترپن میں ڈاکٹرمصدق کی قانونی حکومت کے خلاف شرمناک بغاوت اور پھر بغاوت کے بعد کے دور میں اس کے سیاسی کھیل، وہ حرکتیں ہیں جو ایران میں برطانیہ کے سیاسی نفوذ کے گہرے ہونے کا سبب بن گئی تھیں-

برطانیہ نے مختلف ہتھکنڈوں اور تفرقہ ڈالو ، حکومت کرو کے دیرینہ سامراجی نعرے کے ذریعے بارہا ملت ایران کے حقوق کو پامال کیا- حقوق کی یہ پامالی بظاہر ایران کی تیل کی صنعت تک محدود تھی لیکن پھر برطانیہ ، جنوبی ایران میں علحدگی پسندانہ تحریکیں شروع کرانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہوگیا- اس وقت کہ جب برطانیہ کی  گذشتہ صدیوں کی سامراجی اور استعماری پالیسیوں کی تلخیاں اب بھی محسوس ہورہی ہیں بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں دونوں ملکوں کے درومیان سفارتی روابط  پھر سے بحال ہوئے ہیں-

ایران اور برطانیہ کے تعلقات درحقیقت اس ذہنیت کے زیر اثر ہیں جو ماضی سے موجود ہے- اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے حالات میں بھی  برطانیہ نے مسلط کردہ جنگ کے دوران صدام کی حمایت کی اور ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والی کتاب شیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کے معاملے میں  لندن نے اپنی حقیقت مزید نمایاں کردی اور رہی سہی کسر دوہزار نو کے فتنے میں برطانوی سفارت خانے کی مداخلت نے پوری کردی اور دونوں ملکوں کے تعلقات پرگہرے زخم لگائے جو شاید کبھی نہ بھریں -  دوہزار نو میں دسویں صدارتی انتخابات کے بعد منصوبہ بند سازش کے تحت سڑکوں پر شروع کرائے جانے والے بلوے میں تہران میں برطانوی سفارت خانہ بھی ملوث تھا- اس وقت ایران میں ، تہران کے سلسلے میں برطانیہ کے رویے پر گہری نظر ہے اور رائے عامہ تنقید کر رہی ہے- اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد چند مرحلوں پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو کشیدگی پیدا ہوئی اور تعلقات منقطع ہونے پر منتج ہوئی ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آنے کے لئے وقت درکار ہے اورابھی خود کو نئے حالات سے منطبق نہیں کیا جا سکتا-