اسماعیل ولدالشیخ احمد کا نیا منصوبہ، گزشتہ غلطیوں کا اعادہ
کویت مذاکرات بےنتیجہ رہنے اور یمن کا سیاسی و سیکورٹی بحران جاری رہنے کے بعد یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے ایک اور منصوبہ پیش کیا ہے کہ جو ایسا لگتا ہے کہ یمن کے بحران کے بارے میں گزشتہ غلطیوں کی تکرار اور اعادہ ہے۔
اسماعیل ولد الشیخ احمد نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں یمنی وفد سے ملاقات میں یمن میں بہتر گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز پیش کرتے ہوئے اس ملک کے بحران کے حل کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔
یمن کے سیاسی گروہوں کے درمیان سوئٹزرلینڈ اور کویت میں مذاکرات کے کئی دور انجام پائے۔ کویت میں اسماعیل ولد الشیخ احمد کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات ایک سو سے زائد روز تک جاری رہے۔ کویتی حکومت کی جانب سے یمنی فریقوں کے لیے مذاکرات کی ڈیڈ لائن مقرر کیے جانے کے بعد یہ مذاکرات اگست کے مہینے میں کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ اس وقت اسماعیل ولد الشیخ احمد نے ایک ایسے وقت میں بحران یمن کے حل کے لیے ایک اور منصوبہ پیش کیا ہے کہ جب کویت مذاکرات کی مانند یمنیوں کے درمیان اتفاق رائے کے لیے کوئی راستہ ہموار نہیں ہوا ہے۔ اگرچہ انھوں نے قرارداد بائیس سو سولہ کی بنیاد پر اس مجوزہ منصوبے کو تیار کیا ہے لیکن یہ اس قرارداد کے ساتھ ایک اہم فرق رکھتا ہے۔
اسماعیل ولد الشیخ احمد کے منصوبے میں قرارداد بائیس سو سولہ کی مانند انصار اللہ تحریک کے صنعا اور بعض دیگر شہروں سے انخلا اور اس تحریک کے بھاری ہتھیار تحویل میں دینے پر زور دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انصار اللہ کی شرکت سے قومی حکومت کی تشکیل کی بھی بات کی گئی ہے۔
اس منصوبے پر تحریک انصار اللہ کا اصل اعتراض اور تنقید یہ ہے کہ اس میں یمن کے صدر کے عہدے کی صورت حال کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیآ ہے۔ اس بنا پر انصار اللہ اور یمن کی نیشنل کانگریس نے کہا ہے کہ آئندہ کسی بھی مذاکرات میں صدارتی عہدے کا جائزہ لیا جائے۔
اس سلسلے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ انصار اللہ اور نیشنل کانگریس کے وفد کو اسماعیل ولد الشیخ احمد پر زیادہ اعتماد نہیں ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے نمائندے نے بحران یمن کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار میں ہمیشہ امریکہ اور سعودی عرب کے موقف کا ساتھ دیا ہے۔
ان کا نیا مجوزہ منصوبہ بھی بظاہر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے توسط سے پیش کیا گیآ ہے۔ دوسری جانب اسماعیل ولد الشیخ چھے ستمبر کو ریاض کے دورے کے دوران سعودی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔
ایک اور اہم موضوع یہ ہے کہ اسماعیل ولد الشیخ احمد اس صورت میں یمن کے بحران کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ جب یمن پر سعودی اتحاد کے حملے رک جائیں نہ یہ کہ عارضی جنگ بندی کی جائے۔ یہ حملے بھی اس صورت میں رکیں گے کہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک نئی قرارداد جاری کر کے یمن پر سعودی عرب کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے آل سعود کو ان حملوں کو روکنے کا پابند بنائے۔
اس بنا پر یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا نیا منصوبہ اس کے باوجود کہ اس میں قومی حکومت میں انصار اللہ کی شرکت کی بھی بات کی گئی ہے، حقائق اور سعودی عرب کے جرائم کو نظرانداز کرنے کی بنا پر گزشتہ غلطیوں کا اعادہ اور تکرار ہے اور اس سے بحران یمن کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔