ایران کے خلاف امریکی وزیر جنگ کا دعوی، حقائق میں تحریف
امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر نے بدھ کے روز برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ علاقے میں ایران کی پالیسیاں ایک قسم کا خطرہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ خاص طور پر خلیج فارس کے اطراف میں نظر رکھے ہوئے ہیے کہ جہاں بقول ان کے ایرانیوں کا اثرورسوخ ہے۔
ایشٹن کارٹر نے اسی طرح اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن مشرق وسطی کے علاقے اور اس سے باہر دنیا کے ہر گوشے میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ موجود رہے گا۔
علاقے کے موجودہ حالات میں امریکی وزیر جنگ کے اس بیان کے کیا مقاصد ہیں؟ امریکہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے بعد دو چیزوں پر بھروسہ کر رہا ہے۔ پہلی چیز کہ جسے بعض حلقے اوباما کی طرف سے ایٹمی معاہدے کے دفاع کے عنوان سے بیان کرتے ہیں، یہ باور کرانا ہے کہ امریکہ نے اس معاہدے سے ایران کا ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا راستہ بند کر دیا ہے۔ جبکہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے اپنی متعدد رپورٹوں میں بارہا ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کی ہے۔
لیکن دوسری چیز کہ جسے امریکی وزیر جنگ نے اپنی تقریر میں بیان کیا ہے، ایران کے خلاف مختلف بہانوں سے پروپیگنڈا کرنا ہے۔ یہ پروپیگنڈا اس وقت سیکورٹی کے مسئلے پر مرکوز ہو گیا ہے اور علاقے میں داعش کی موجودگی نے بھی امریکہ کو یہ بہانہ فراہم کر دیا ہے کہ یہ دعوی کرے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ جیسا کہ امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر نے اپنی تقریر میں دعوی کیا کہ امریکی وزارت جنگ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی اور امریکہ داعش کو سنگین ضرب لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان امریکی اہداف سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف پروپیگنڈا کر کے سعودی عرب کے تعاون سے علاقے میں ایران کو اپنے زعم باطل میں الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ البتہ اس عمل میں سعودی عرب کی ذمہ داری، انتہا پسندی کی حمایت کے ذریعے علاقے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ کرنا ہے۔
امریکہ میں صیہونی لابی بھی کہ جو شروع سے ہی ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی خواہاں نہیں تھی، علاقے میں مزید بحران کھڑے کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔
سعودی عرب بھی ایران کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات کر کے اس ڈرامے کو مکمل کرنے اور امریکی کانگریس میں ایران مخالف اقدامات میں تیزی لانے کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا علاقے میں صیہونی حکومت کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ سعودی عرب کے اقدامات کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف سازشی مثلث نے اس وقت اپنی توجہ ایران کے خلاف سیکورٹی پروپیگنڈے پر مرکوز کر دی ہے۔ سعودی عرب گزشتہ چند سال کے دوران اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ انتہا پسندی کی حمایت کر کے علاقے کی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی نام نہاد کیمپین شروع کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ان ملکوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے کہ جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق کہ جس کی ایک کاپی روئٹرز نیوز ایجنسی کو ملی ہے، وائٹ ہاؤس نے سعودی عرب کو ایک سو پندرہ ارب ڈالر مالیت سے زائد کے ہتھیار، فوجی سازوسامان اور تربیت کی پیشکش کی ہے اور یہ دونوں ملکوں کے اکہتر سالہ تعلقات کے دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے سعودی عرب کو کی جانے والی سب سے بڑی پیشکش ہے۔
واشنگٹن اسی طرح سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز کی تربیت اور حمایت کرے گا۔ اس رپورٹ نے کہ جسے امریکہ کی بین الاقوامی پالیسی کے مرکز کے امریکی محقق ولیم ہارٹونگ نے تیار کیا ہے، ظاہر کر دیا کہ یہ پیشکش بیالیس الگ الگ معاہدوں کی صورت میں کی گئی ہے۔ روئٹرز نے مزید لکھا ہے کہ یہ رپورٹ آٹھ ستمبر کو جاری کر دی جائے گی۔
اس بنا پر یہ واضح ہے کہ کیوں امریکی وزیر جنگ کی نظر میں ایران علاقے کی سیکورٹی کے لیے خطرہ ہے، لیکن سعودی عرب کو کہ جو یمن میں جنگی جرائم اور دہشت گردانہ اقدامات کا مجرم اور گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات کا ماسٹر مائنڈ ہے، علاقے میں دہشت گردی کے خلاف اتحاد کے سربراہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر کا بیان درحقیقت ایرانوفوبیا کی پالیسی کو جاری رکھنا اور علاقے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے۔