لشکر طیبہ اور جیش محمد سے پاکستان مقابلہ کرے: امریکہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i247237-لشکر_طیبہ_اور_جیش_محمد_سے_پاکستان_مقابلہ_کرے_امریکہ
ہندوستان میں امریکی سفیر "ریچرڈ ورما" نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس ملک میں دہشتگرد گروہوں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے اڈے ختم کرنے کے لئے مزید کوششیں بروئے کار لائے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۵:۲۴ Asia/Tehran
  • لشکر طیبہ اور جیش محمد سے پاکستان مقابلہ کرے: امریکہ

ہندوستان میں امریکی سفیر "ریچرڈ ورما" نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس ملک میں دہشتگرد گروہوں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے اڈے ختم کرنے کے لئے مزید کوششیں بروئے کار لائے-

ریچرڈ ورما نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے مقابلے میں ہندوستان اور امریکہ مشترکہ نقطہ نگاہ رکھتے ہیں اور لشکر طیبہ ، حقانی گروپ اور جیش محمد جیسے دہشت گرد گروہوں سے مقابلے کے لئے انہوں نے مفاہمتی نوٹ پر دستخط کئے ہیں-

ورما نے کہا کہ دہشت گرد گروہ، ڈیجیٹل ٹکنالوجیوں کے استعمال اور ایسے مقامات سے جو سرکاری حکام کے کنٹرول سے باہر ہیں، افرادی قوت کو جذب کرنے ، انتہا پسند افکار کے فروغ اور رقومات حاصل کرنے میں کوشاں ہیں-

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ کے مختلف حکام کے بیانات ، دہشت گردی سے مقابلے کے مسئلے میں پاکستان پرمزید دباؤ بڑھانے کے لئے وائٹ ہاؤس کی منصوبہ بندی اور با مقصد پالیسی کے آئنیہ دار ہیں-

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے دورۂ ہندوستان میں، اور امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بھی انتہاپسندی اور دہشت گردی سے مقابلے کے لئے پاکستان سے مزید اقدامات انجام دینے کا مطالبہ کیا تھا، البتہ جان کیری کے اس بیان پر اسلام آباد نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا-

پاکستانی حکام کے نقطۂ نگاہ سے، ان کے ملک میں دہشت گردی کے اڈوں کی سرگرمیاں روکے جانے پر مبنی امریکی وزیرخارجہ کا بیان ، حکومت ہندوستان کو خوش کرنے کے مقصد سے تھا -

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ  "جب جان کیری اسلام آباد آتے ہیں تو اس وقت ہندوستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتےہیں" -

ایسے حالات میں دہشتگردی سے مقابلے کے سلسلے میں اسلام آباد کے دوہرے رویے اور اس کی کمزور کارکردگی پر مبنی امریکی پروپگنڈہ ، پاکستان کے نقطہ نگاہ سے صرف سیاسی اغراض ومقاصد کے تحت، اور میدانی حقائق کے منافی ہے-

پاکستان کے نقطہ نگاہ سے امریکہ کی یہ پالیسی ، علاقے میں اپنے منصوبوں پر عملدرآمد میں مدد کے لئے اپنے اتحادیوں منجملہ ہندوستان کی توجہ مبذول کرنے، نیز علاقے کو نا امن ظاہر کرتے ہوئے علاقے کے ملکوں کو ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے ہے-

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے اور دنیا کی سطح پر دہشت گردی کا فروغ امریکہ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور پاکستان گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے، سب سے زیادہ انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھا ہے-

ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیاء کے علاقے میں بعض دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش کی امریکہ کی جانب سے حمایت، انتہا پسندی کے خلاف وائٹ ہاؤس کے دوہرے معیار کی واضح علامت ہے -

ایسے میں کہ جب امریکہ، پاکستان میں دہشت گردی سے مقابلے کی ضرورت پر تاکید کر رہا ہے اور حتی ان دہشت گرد گروہوں سے مقابلے کا خواہاں ہے جو پاکستان کے پڑوسی ملکوں میں سرگرم ہیں ، لیکن وہی امریکہ خود شام اورعراق میں دہشت گرد گروہوں کی آشکارہ حمایت کر رہا ہے -

یہی سبب ہے کہ بہت سے سیاسی حلقے، اور علاقے اور دنیا کے میڈیا ذرائع کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا دوہرا رویہ، اس عظیم خطرے کے ماضی سے زیادہ فروغ پانے کا سبب قرار پائے گا-