ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں میں شدت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i247603-ہندوستان_کے_زیر_انتظام_کشمیر_میں_پرتشدد_مظاہروں_میں_شدت
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود عوامی احتجاجات میں شدت آئی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۰, ۲۰۱۶ ۱۵:۵۴ Asia/Tehran
  • ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں میں شدت

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود عوامی احتجاجات میں شدت آئی ہے-

ہندوستان کی سیکورٹی فورس نے ہفتے کے روز کشمیری مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو کشمیری جاں بحق اور پچاس سے زائد زخمی ہوگئے- گذشتہ دو مہینوں کے دوران  کشمیر کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے- کشمیری مظاہرین اورہندوستان کی سیکورٹی فورسیز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک سو افراد جاں بحق اور سات ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں -

کشمیر کا بحران دنیا میں ، علاقے کے سب سے طولانی بحرانوں میں سے ایک ہے جو تقریبا سات عشروں سے جاری ہے- 1947 میں بر صغیر کی تقسیم کے وقت، جموں کشمیر کو ایک مسلم آبادی والے علاقے کی حیثیت  سے پاکستان میں ملحق کیا گیا تاہم ہندوستان اور برطانیہ کے فوجی، اس وقت کے مہاراجہ کی درخواست کے بہانے سے، کشمیر کے علاقے میں داخل ہوگئے اور عملی طور پر کشمیر کے، پاکستان سے ملحق ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے جس کے نتیجے میں ہندوستانی اور پاکستانی فوج کے درمیان دو مرتبہ جنگیں بھی لڑی گئیں -

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے کشمیر میں ریفرنڈم کے ذریعے اس علاقے کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس طرح سے کشمیری عوام ہندوستان یا پاکستان سے اپنے الحاق، یا خودمختاری کے بارے میں حق رائے دہی استعمال کریں اور اپنے نقطہ نگاہ کا اعلان کریں- ہندوستان نے اس قرارداد پرعمل نہیں کیا کیوں کہ وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے - اس کے معنی یہ ہیں کہ ہندوستان کے نقطہ نگاہ سے کشمیر کی ملکیت پر کوئی بات نہیں ہوگی اور یہ ہندوستان کی ہی ملکیت ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے زیر کنٹرول کشمیر کو بھی ہندوستان کے حوالے کردے-

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام ، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کو پاکستان سے ملحق کئے جانے کے خواہاں ہیں- اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے بقول ، اس علاقے کے کشمیریوں کے درمیان کسی بھی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا اور سب متحد ہیں - انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان کی حکومت، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کےعوام کی حمایت کرتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ ہندوستان کی حکومت کو اس علاقے کے عوام کو کچلنے کی پالیسی ختم کرکے ان کی تقدیر کے تعیین کے حق کا احترام کرنا چاہئے-

کشمیر کی اسٹریٹیجک پوزیشن کے پیش نظر، ہندوستان کسی بھی عنوان سے اس علاقے کے عوام کے نظریات کی بنیاد پرمسئلہ کشمیر کے حل کا خواہاں نہیں ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہتا کہ کشمیر اس کے ہاتھ سے نکل جائے - لیکن کشمیر میں ہندوستانی فوج کی موجودگی ایسے نتائج کی حامل ہے جس کے باعث علاقے میں امن و استحکام متاثر ہوا ہے- کشمیر کا مسئلہ ، اسلام آباد اور نئی دہلی کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہوا ہے اور ان کے درمیان کشیدگی ختم ہونے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے -

ایٹمی ہتھیاروں اور جدیدترین میزائلوں سے ہندوستان اور پاکستان کے لیس ہونے کے سبب، ان دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑجانے کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے- اس سے قبل ہندوستانی حکام نے پاکستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں غیرروایتی ہتھیاروں کے استعمال کی بات کی تھی-  حکومت پاکستان کے نقطہ نگاہ سے جب تک کشمیر کا مسئلہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے، بنیادی اور اصولی طور پر حل نہیں ہوتا ، بر صغیرمیں دائمی اور پائیدار امن کی امید نہیں کی جاسکتی-