عوامی رضاکار فورس حشدالشعبی کی شرکت پر تاکید
صوبہ صلاح الدین کے شہر الشرقاط کی آزادی کی کارروائیاں عید قربان کے بعد شروع ہوجائیں گی
عراق کی مختلف شخصیات اور اعلی حکام کی جانب سے عراق کے مختلف علاقوں منجملہ موصل کو دہشتگردوں کے وجود سے پاک کرنے کے لئے کاروائیوں میں عوامی رضاکار فورس حشدالشعبی کی شرکت پر تاکید کا سلسلہ جاری ہے
اس حوالے سےعراق کے قومی اتحاد کے سربراہ سید عمارحکیم نے جمعے کو موصل کے گورنر نوفل حمادی سے ملاقات میں کہاکہ داعش کے قبضے سے موصل کی آزادی کی کاروائیوں میں عراق کی سبھی فورسز منجملہ فوج، پولیس اورعوامی رضاکارفورس شرکت کریں - انہوں نے زور دے کر کہا کہ موصل کی آزادی کی جنگ ایک قومی جنگ ہے جس میں سب کو شریک ہونا چاہئے-
اس درمیان عراق کی عوامی رضاکارفورس الحشد الشعبی کے ترجمان علی الحسینی نے کہا ہے کہ صوبہ صلاح الدین کے شہر الشرقاط کی آزادی کی کارروائیاں عید قربان کے بعد شروع ہوجائیں گی -اور یہ اقدام حشدالشعبی اور عراقی فورسز کے درمیان قریبی رابطے کی نشاندہی کرتا ہے بیرونی بالخصوص سعودی عرب اور امریکہ کے اس دباؤ کے باوجود کہ عوامی رضار کار فورس کا استمال نہ کیا جائے عراقی حکومت نے عراقی فورس کے ڈھانچے میں تبدیلی اور اس رضاکارفورس کے کسی سیاسی مسئلے سے عدم تعلق نیز اسکی غیرجانبداری اور فوجی قوانین کے تابع ہونے کی خبر دی ہے تاکہ اس بات کو ثابت کرسکے کہ عراقی حکومت حشدالشعبی سے کام لینا چاہتی ہے 2014 میں دنیا نے دیکھا کہ عراقی سرزمیں کے ایک بڑے حصے پر داعش نے قبضہ کرلیا تھا۔اس قبضے میں بعض عراقی حکام کا تعاون بھی شامل تھا اس صورت حال میں عراقی حکومت نے2014 میں عراق کی مختلف فورسز منجملہ حشد االشعبی پر بھروسہ کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف مقابلے کا عزم کیا۔کہا جاتا ہے کہ اس عوامی رضاکار فورس کی تشکیل آیت اللہ علی سیستانی کے فتوی کی روشنی میں داعش کے خلاف اور عراقی سرزمیں کو دہشتگردوں کے قبضے سے آذاد کرنے کے لئے عمل میں آئی۔اس عوامی رضار کار فورس میں مختلف 42 رضاکار گروپ شامل ہیں اور اس نے عراقی فوج کے ہمراہ داعش کے خلاف مختلف کاروائیوں میں شرکت کی ہے ۔ملکی اور بیرونی عناصر عراق میں تفرقہ اور انتشار پھیلانے کے لئے اس رضاکار فوس کو شیعہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ فورس آزاد شدہ علاقوں میں اہلسنت پر مظالم ڈھاتی ہے ۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ اس عوامی رضاکار فورس میں سینکڑوں اہلسنت رضاکار بھی شامل ہیں۔مخالفین ایسے عالم میں حشدالشعبی کو فرقہ وارانہ قرار دے رہے ہیں کہ داعش کے خلاف جن علاقوں میں کاروائیاں انجام دی گئی ہیں ان میں اکثر آبادیاں اہلسنت کی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رضارکار فورس کے تعاون کے بغیر عراقی فوج کو یہ کامیابیاں نصیب نہ ہوتیں ۔ کہا جاتا ہے کہ الفلوجہ کا اسٹریٹجک علاقہ عراقی فوج،الحشد الشعبی،قبائل اور دہشتگردی کے خلاف سرگرم عوامی فورسز کی ایک مہینے کی سرتوڑ کوششوں کے بعد داعش کے قبضے سے آزاد ہوا۔فلوجہ کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ داعش کی بربادی کے لئے بہترین راستہ سیاسی اتجاد اور ،فوجی طاقت کی وحدت ہے نہ کہ امریکہ سمیت بیرونی قوتوں کے خودغرضانہ وعدوں پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔داعش کے خلاف حشد الشعبی کا موثر کردار اس بات کا باعث بنا کہ بیرونی طاقتیں منجملہ امریکہ اور سعودی عرب اس رضارکار فورس پر فرقہ وارانہ تعصب اور مخلف مسالک پر مظالم کرنے کا الزام لگائیں تاہم عراقی عوام اور حکومت نے مکمل آگہی کے ساتھ دشمن کی سازش کو بھانپتے ہوئے تمام تر بیرونی دباؤ اور بےبنیاد الزامات کے جواب میں عوامی رضاکار فورس کا بھر پور دفاع کیا ہے ۔عراقی اپنی داخلی توانائیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اینی مشکلات کا حل کرسکتے ہیں ۔سیاسی اور فوجی میدان میں کامیابی کے لئے اتحاد و وحدت انتہائی ضروری ہے ۔ایسی صورتحال میں الحشد الشعبی کی حیثیت کو مضبوط بنانا عراقی سرحدوں کے حفاظت کے لئے اس عوامی فورس کے کارآمد ہونے نیز اسکی حقانیت کی علامت ہے اور اس فورس پر بھروسہ کرکے عراق کی تمام ارضی سالمیت کی حفاظت کی جاسکتی ہے