روس اور امریکہ کےدو طرفہ معاہدہ
شام کے حوالے سے مذاکرات کے تناظر میں امریکہ اور روس کے درمیان تعاون کے دائرے میں عدم اعتمادی بدستور موجود ہے
روس اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے شام میں امن کی بحالی کے لیے دو طرفہ معاہدے کی خبر دی ہے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ پورے شام میں جنگ بندی کے لیے اتفاق ہو گیا ہے اور بارہ ستمبر عید قربان کے دن اس پر عمل در آمد شروع ہو جائے گا ۔اس جنگ بندی میں شام کے تمام علاقوں میں ہوائی اور زمینی حملوں کا روکنا نیز حلب سمیت دوسرے علاقوں میں انسان دوستانہ امداد کی فراہمی شامل ہے ۔امریکی وزیر خارجہ نے اس کے علاوہ داعش اور النصرہ کے خلاف مشترکہ آپریشن کرنے کے لیے ایک مشترکہ کنٹرول سینٹر بنانے کی بھی خبر دی ہے ، جان کیری کا کہنا ہے اگر یہ جنگ بندی ایک ہفتے تک برقرار رہتی ہے تو امریکہ روس کے ساتھ ملکر داعش اورالنصرہ فرنٹ کے خلاف کاروائیاں انجام دے گا ۔امریکی وزیر خارجہ نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ ہمیں امید ہے کہ روس بشار اسد کی حکومت کو جنگ بندی پر عمل در آمد کرانے میں مدد کرے گا اور اسکی ضمانت فراہم کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے جواب میں روسی وزیر خارجہ سر گئی لاووف نے تاکید کی ہے کہ شام کے حوالے سے مذاکرات کے تناظر میں امریکہ اور روس کے درمیان تعاون کے دائرے میں عدم اعتمادی بدستور موجود ہے اور اس نئے سمجھوتے کے حوالے سے ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سمجھوتہ کا بنیادی نقطہ جنگ بندی پر عمل در آمد کرنا ہے ۔ روسی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اور روس آئندہ چوبیس گھنٹوں میں تما م فریقوں سے جنگ بندی پر عمل در آمد کرانے کے لیے باہمی تعاون کریں گے ۔
روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماسکو نے بشار اسد کی حکومت کو جنگ بندی کے بارے میں ہونے والے اس سمجھوتے کے بارے میں تمام تفصیلات بتا دی ہیں اور دمشق اس پر عمل در آمد کرنے کے لیے تیارہے۔
جنگ بندی کے قیام کے لیے امریکہ اور روس کے درمیان حالیہ سمجھوتہ طویل دو طرفہ مذاکرات کے بعد انجام پایا ہے ، تاہم روسی وزیر خارجہ کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اب بھی جنگ بندی کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ سمجھوتے اور شام کے بارے میں کشیدگی کے خاتمے سے متعلق شکوک و شبھات کا شکار ہیں ۔ ان کی عدم اعتمادی کی ایک وجہ گذشتہ جنگ بندی کا تجربہ ہے جس سے امریکہ کے حامی دہشت گردوں نے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی حلب کے علاقے خان طومان پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ روس نے گذشتہ سمجھوتے اور حالیہ اتفاق کے بارے میں شکوک و شبھات کا اظہار کیا ہے ۔ بہر حال روس اس الزام سے بچنے کے لیے وہ شام کے مسئلے کے سیاسی اور پر امن حل کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے شام کی حمایت میں فوجی اقدامات کے ساتھ ساتھ شامی حکومت کے مخالفین کے سر براہ امریکہ سے گفتگو اور مذاکرات کے سلسلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ جنگ بندی کا حالیہ سمجھوتہ بھی اسی تناظر میں انجام پایا ہے۔
اب شام کی فوج نے حلب کا محاصرہ مکمل کر لیا ہے اور وہ جنگ بندی کے بہانے دہشت گردوں کو تازہ دم ہونے اور نئے حملوں کی تیاری کا موقع فراہم نہیں کرے گا ، یہ ایسے عالم میں ہے کہ سعودی عرب اور ترکی نے ابھی دہشت گردوں کی لاجسٹک اور اسلحہ جاتی مدد کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہیں اینٹی ائیر کرافٹ سسٹم دیا ہے ۔
امریکہ اور روس کے درمیان ایک اور اختلاف شام مخالف گروہوں کی تقسیم بندی کے حوالے سے بھی ہے ۔
روس نے کئی بار اعلان کیا ہے کہ وہ داعش سمیت دیگر شام مخالف گروہوں کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنائے گا تاہم امریکہ روس پر الزام لگاتا ہے کہ وہ نام نہاد اعتدال پسند گروہوں کو بھی حملوں کو نشانہ بناتا ہے ۔
اس حوالے سے روس کا کہنا ہے کہ وہ شامی حکومت کے تمام مخالفین من جملہ امریکہ کے حمایت یافتہ گروہوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنائے گا جبکہ مغربی ممالک صرف داعش کے خلاف حملوں پر تاکید کرتے ہیں ۔
یہ اختلافی مسئلہ شام میں فوجی مداخلت کے حوالے سے روس اور امریکہ کے اہداف سے مربوط ہے کیونکہ روس شام کی موجودہ حکومت یعنی بشار اسد کی حکومت کو بچانا چاہتا ہے جبکہ امریکہ نے بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کو اپنا مقصد قرار دیا ہوا ہے ۔
ایسے لگتا ہے کہ واشنگٹن نے روس کے ساتھ ملکر داعش اور النصرہ فرنٹ کے خلاف مشروط حملوں پرآمادگی کا اظہار کیا ہے ۔