گیارہ ستمبر کو پندرہ برس گذر گئے
گیارہ سمتبر کے واقعے کو پندرہ برس ہوگئے ہیں۔ پندرہ برس قبل گیارہ ستمبر دوہزار ایک کو امریکہ ایسے حادثے سے دوچار ہوا تھا جس نے دنیا کو دہلا کررکھ دیا تھا
x
گیارہ سمتبر کے واقعے کو پندرہ برس ہوگئے ہیں۔ پندرہ برس قبل گیارہ ستمبر دوہزار ایک کو امریکہ ایسے حادثے سے دوچار ہوا تھا جس نے دنیا کو دہلا کررکھ دیا تھا امریکہ کے فوجی اور اقتصادی مرکز القاعدہ کے عناصر کے ہاتھوں حملوں کا شکار بنے تھے۔یہ پہلی بار تھا کہ ایک سو نواسی برسوں میں امریکہ کی سرزمین پر بیرونی دشمن کی طرف سے حملہ ہوا تھا اور اس میں جو جانی اور مالی نقصان ہوا تھا اس نے سیاست، اقتصاد اور امریکی ثقافت کو بدل کررکھ دیا تھا وہ اس طرح سے کہ ہم امریکہ کے حالات کو گیارہ ستمبر سے قبل اور گیارہ ستمبر کے بعد میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ البتہ ہنوز گیارہ ستمبر کے حملوں اور ان کے پیچھے اھداف کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور اب بھی بہت سے سوالات کے جواب نہیں دئے گئے ہیں۔اس کے باوجود قطع نظر اس سے کہ گیارہ ستمبر کی صبح کو کیا واقعات رونما ہوئے تھے عالمی برادری کے لئے ان واقعات کے نتائج زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دنیا اس طرح سے جنگ و خونریزی اور بدامنی کا شکار ہوگئی کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ اس وقت امریکی حکومت نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بہانے دہشتگردی کے خلاف جنگ چھیڑدی اور افغانستان اور عراق پر قبضہ کرلیا، اسی کے ساتھ ساتھ دیگر ملکوں میں فوجی مداخلتیں اور محدود فوجی کاروائیاں بھی شروع کردیں اور ان سب کے لئے یہ بہانہ بنایا کہ امریکہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے نیٹ ورک سے مقابلہ کررہا ہے۔ در این ا ثنا مغربی حکومتوں نے امریکہ کی سرکردگی میں ان سرحدوں کو جنہیں انسانی زندگی کی نجی حدود کہا جاتا ہے اور انسانی حقوق اور جنگی قوانین پر نگرانی کرنے والے قوانین کو پامال کردیا اور اس کے لئے بھی دہشتگردی سے مقابلے کا بہانہ بنایا گیا۔ گیارہ ستمبر کے پندرہ برس بعد دہشتگردی اور انتہا پسندی کہیں زیادہ دکھائی دے رہی ہے اور ساری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ اس وقت داعش اور بوکوحرام کے دہشتگرد جن اقدامات کا ارتکاب کررہے ہیں ان کا مقابلہ القاعدہ کے اقدامات سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس مدت میں نصف مشرق وسطی دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے جنگوں کی آگ میں جھونکا جاچکا تھا۔اس کےعلاوہ دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے امریکہ اور یورپ نے جو پیسہ خرچ کیا تھا اس کی بنا پر وہ مالی بحران کا شکار ہوگئے اور اس بحران سے ساری دنیا میں کڑوڑوں لوگ متاثر ہوئے ۔
اسی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا احترام کرنے کے لئے مغربی ممالک کے معیارات مزید کمزور ہوگئے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بطن سے بدنام زمانہ جیلیں جیسے گوانتانامو جیل اور ابوغریب جیل نکلیں اور امریکہ کا نام ان ملکوں میں شامل ہوگیا جو قیدیوں کو جسمانی ایذائیں پہنچاتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ امریکہ کی حکومت نے دہشتگردی کے بہانے انسانی تاریخ کی وسیع ترین جاسوسی کی کاروائیاں شروع کردیں یہانتک کہ امریکہ کے اتحادی بھی جاسوسی کی ان کاروائیوں سے نہ بچ سکے۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد مغرب نے آزادی اور سکیورٹی میں سکیورٹی کو ترجیح دی اور آزادیوں کے پامال ہوئے بغیر دنیامیں کہیں بھی قابل قبول سکیورٹی حاصل نہیں ہوئی ۔ اس وقت بہت ہی کم ایسی جگہیں ہونگی جو دہشتگردی سے محفوظ ہوں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے دہشتگردی کی لعنت کا جو علاج کرنا شروع کیا ہے اس سے یہ لعنت مزید پھیلتی گئی ہے لھذا یہ کہا جاسکتا ہےکہ گیارہ ستمبر کےبعد دہشتگردی سے مقابلے کے جو بھی دعوے کئےجاتے ہیں وہ کھوکھلے اور بے بنیاد دعوے ہیں۔