شام میں جنگ بندی پر اتفاق
شام کی حکومت نے روس اور امریکہ کے مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والے جنگ بندی معاہدے سے اتقاق کرلیا ہے
شام میں جنگ بندی پر اتفاق
شام کی حکومت نے روس اور امریکہ کے مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والے جنگ بندی معاہدے سے اتقاق کرلیا ہے۔ اس جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں یہ امکان پایاجاتا ہے کہ شام کے شمالی شہر حلب میں انسان دوستانہ مسائل کی بنا پر جنگ بندی عمل میں آجائے۔ یہ جنگ بندی کا معاہدہ امریکہ اور روس کے وزرا خارجہ جان کیری اور سرگئی لاوروف کے مذاکرات کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے اس میں جھڑپوں کے خاتمے اور شہر حلب کے لئے انسان دوستانہ امداد بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ پیر کی صبح سے لاگو ہوگا۔
بنیادی طور سے جنگ بندی سب کے لئے قابل قبول بات ہے کیونکہ اس سے جھڑپوں میں کمی آتی ہےاور امن قائم ہوتا ہے۔ اس تناظر میں مختلف ملکوں نے بھی اس کا خیرمقدم کیا ہے اور اس ایسے حالات میں شام کی حکومت نے بھی بارہا یہ بات ثابت کی ہے کہ وہ شام کے بحران کو حل کرنے کےلئے عالمی کوششوں کا ساتھ دیتی ہے۔ اسی موقف کی بنا پر شام کی حکومت نے بھی نئے جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرلیا ہے۔ ادھر شام کی حکومت کے مخالفین نے ابھی تک جنگ بندی معاہدے کے بارے میں باضابطہ اور صریحی طور پر کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ ان میں سے بعض گروہوں نے بعض تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے مشروط طور پر جنگ بندی معاہدے کو تسلیم کیا ہے البتہ اس سے بنیادی طور سے یہ شکوک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ کیا شام کے مخالف دھڑے اس جنگ بندی معاہدے پرعمل بھی کریں گے یا نہیں؟ نئے جنگ بندی معاہدے کے مضمون کو دیکھ کر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس معاہدے میں بعض تضادات اور نقائص ہیں۔ ان نقائص کا سرچشمہ بحران شام کے تعلق سے مغرب بالخصوص امریکہ کا نقطہ نظر ہے۔جنگ بندی معاہدے میں ان نقطہ ہائے نظر کی وجہ سے منفی اثرات پڑسکتے ہیں اور جنگ بندی کے ھدف تک پہنچنا دشوار ہوسکتا ہے اور اس میں شکست بھی ہوسکتی ہے۔
دہشتگردی کو اچھی اور بری دہشتگردی میں تقسیم کرنا اور شام میں دہشتگردوں کے مقابلے میں فوج کے لئے رکاوٹیں پیدا کرنا اسی تقسیم بندی کی بنا پر ہے اور یہ ان مسائل میں سے ہے جو منفی اثرات کے حامل ہوسکتے ہیں اور شام میں ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کو متاثر کرسکتے ہیں۔امریکہ اور روس کے مذاکرات کے نتیجے میں ایسے عالم میں جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے کہ شام میں بنیادی طور سے جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے میں رائے عامہ کے نزدیک امریکہ کی سچائی پر بھرپور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ شام کے بحران کے بارے میں امریکہ کی اس سے پہلے کی کارکردگی سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے مخاصمانہ اقدامات سے جنگ بندی چندان جنگ بندی کے معنی کی حامل نہیں رہی ہے اور اسی وجہ سے دہشتگرد گروہ جنہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے مجرمانہ کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے کے جنگ بندی معاہدے سے غلط فائدہ اٹھا کر امریکہ کے حمایت یافتہ دہشتگردوں نے خان طومان کے علاقے پرقبضہ کرلیا تھا۔ خان طومان حلب کے جنوب میں واقع ہے۔ اس واقعے سے یہ پتہ چلتا ہےکہ ان جنگ بندی کے معاہدوں پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جن میں امریکہ کو دخل حاصل ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جبکہ شام کی فوج کے ہاتھوں دہشتگردوں کو پے درپے شکستیں ہوئی ہیں اور خاص طور سے یہ کامیابیاں حلب میں بڑی نمایاں ہیں۔ یہ بات سبب بنی ہے کہ بعض حلقے امریکہ کے اکسانے پر امریکہ کے مقاصد کے تحت جو شام میں دہشتگردوں کو مکمل شکست سے بچانے سے عبارت ہے جنگ بندی عمل میں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنگ بندی کے بارے میں اس طرح کے شکوک و شبہات کے باوجود شام کے حکام نے ہمیشہ ہر اس اقدام کا ساتھ دینے کی کوشش کی ہے جس سے جھڑپوں میں کمی آتی ہو۔ اس کےعلاوہ شام کی حکومت نے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بحران کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسکے لئے سیاسی طریقہ کی ضرورت ہے۔