افغانستان و پاکستان میں کشیدگی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i247783-افغانستان_و_پاکستان_میں_کشیدگی
افغانستان کے اعلی حکام کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کے بعد افغانستان کی وزارت تجارت و صنعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے لئے اپنا ٹرانزیٹ روٹ بند کردیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۱, ۲۰۱۶ ۱۵:۱۰ Asia/Tehran
  • افغانستان و پاکستان میں کشیدگی

افغانستان کے اعلی حکام کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کے بعد افغانستان کی وزارت تجارت و صنعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے لئے اپنا ٹرانزیٹ روٹ بند کردیا ہے۔

 

 

افغانستان کے اعلی حکام کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کے بعد افغانستان کی وزارت تجارت و صنعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے لئے اپنا ٹرانزیٹ روٹ بند کردیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق افغانستان اب اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ پاکستانی ٹرک مرکزی اشیاء کے لئے مال لے جانے کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کریں۔افغانستان کی وزارت تجارت و صنعت کے ترجمان مسافر قوقندی کے مطابق اسلام آباد حکومت کی جانب سے افغان ڈرائیوروں کے لئے پیدا کی جانے والی مشکلات کے بعد افغانستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستانی ڈرائیور بھی مرکزی ایشیا کے لئے افغان ٹرانزیٹ روٹ استعمال نہیں کرپائیں گے۔اس سے قبل افغان صدر محمد اشرف غنی نے بھی اسی سلسلے میں پاکستان کو وارننگ دی تھی۔افغانستان کے حکام کا کہناہے کہ کاشتکاری کے موسم میں اور زرعی مصنوعات کی برآمدات کے عمل میں پاکستان کی حکومت رکاوٹیں پیدا کرتی ہے اور افغانستان کی جنوبی سرحد بند کرکے افغانستان کے کاشتکاروں اور تاجروں کو دسیوں لاکھ ڈالر کا نقصان پہنچاتی ہے۔اس بنا پر افغانستان کے چیمپرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے جنوبی سرحد بند کرنے کے پاکستان کے اقدام کے جواب میں صدر اشرف غنی سے درخواست کی تھی کہ پاکستان کے اس اقدام کا مقابلہ کرنے کےلئے کوئی چارہ تلاش کریں، اس درخواست کے جواب میں صدر اشرف غنی نے کہا کہ ہندوستان کے لئے افغانستان کی زرعی مصنوعات طیاروں سے بھیجی جائیں۔ البتہ جس بات سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تجارتی جنگ شروع  ہوئی ہے وہ واگہ سرحد پر پاکستان کی جانب سے افغانستان کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگانا ہے۔

افغانستان میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سکیوریٹی اور سیاسی مسائل کا تجارتی سطح پر اثر انداز ہونا نہ صرف دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کی علامت ہے بلکہ یہ بات بہت خطرناک بھی ہے کیونکہ تجارتی اور زرعی امور عوام اور کسانوں سے متعلق ہوتے ہیں اور تجارتی اور زرعی مصنوعات کو برآمد بھی کیا جاتا ہے لیکن پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحد پر افغان مصنوعات کی ٹرانزیٹ پر پابندی لگا کر دراصل خود کو افغان عوام کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ حکومت افغانستان کی جانب سے پاکستانی اقدام کے جواب میں مرکزی ایشیا جانے والے پاکستانی ٹرکوں کے لئے اپنی سرحدیں بند کرنے سے نہ صرف افغانستان اقتصادی مشکلات اور آمدنی میں کمی کا شکار ہوجائے گا بلکہ اس سے مرکزی ا یشیا کے ملکوں کی معیشت پر بھی برا اثر پڑے گا، لھذا اسلام آباد حکومت نے افغانستان کے اقتصادی مسائل میں الجھ کر ہندوستان اور مرکزی ایشیا کے ملکوں کو اعتراض کرنے پر مجبور کردیا ہے جو طویل مدت میں پاکستان کے حق میں نہیں ہوگا ۔

افغانستان میں سیاسی حلقوں کے مطابق افغانستان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے میں اسلام آباد کی ناکامی بالخصوص ڈیورینڈ لائن کو سرکاری سرحد ماننے  نیز طالبان کو افغانستان کے سیاسی میدان میں جگہ دینے پر مجبور کرنے میں ناکامی اس بات کا سبب بنی ہے کہ اسلام آباد اب اقتصادی اور تجارتی سطح پر افغانستان پر دباؤ ڈالے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ صدر اشرف غنی کے بقول اب افغانستان صرف پاکستان کے راستوں پر ہی انحصار نہیں کرتا ہے بلکہ اب چین، ہندوستان اور ایران کے راستوں یہانتک کہ ریلوے لائن سے بھی متصل ہے۔ افغانستان کے ان ہی متبادل راستوں کی بنا پر پاکستان طویل مدت میں افغانستان کے ٹرانزیٹ راستوں سے محروم ہوجائے گا ہرچند حکومت پاکستان کو اپنے تاجروں کے اعتراض کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا جو اب مرکزی ایشیا کی منڈیوں سے محروم ہوچکے ہونگے۔