دہشتگردی کے خلاف عالمی برادری عراق کی مدد کرے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i247918-دہشتگردی_کے_خلاف_عالمی_برادری_عراق_کی_مدد_کرے
عراق کے دارالحکومت بغداد میں بڑھتے ہوئے دہشتگردانہ حملوں کے پیش نظر عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے عراقی سکیورٹی فورسز اور انٹلیجنس سے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی روک تھام کے لئے اپنی کوششیں دوگنی کردیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۲, ۲۰۱۶ ۱۱:۴۰ Asia/Tehran
  • دہشتگردی کے خلاف عالمی برادری عراق کی مدد کرے

عراق کے دارالحکومت بغداد میں بڑھتے ہوئے دہشتگردانہ حملوں کے پیش نظر عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے عراقی سکیورٹی فورسز اور انٹلیجنس سے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی روک تھام کے لئے اپنی کوششیں دوگنی کردیں۔

 

عراق کے دارالحکومت بغداد میں بڑھتے ہوئے دہشتگردانہ حملوں کے پیش نظر عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے عراقی سکیورٹی فورسز اور انٹلیجنس سے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی روک تھام کے لئے اپنی کوششیں دوگنی کردیں۔ حالیہ مہینوں میں بغداد میں ہونے والے دہشتگردانہ بم دھماکوں میں ہزاروں عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ عراق میں اقوام متحدہ کے دفتر کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق ہر مہینے اوسطا ایک ہزار عام شہری بم دھماکوں اور دہشتگردوں کے حملوں میں مارے جاتے ہیں ۔ حیدرالعبادی نے اتوار کو بغداد کے آپریشنل کمانڈ سنٹر کا دورہ کرنے کے بعد فوجی اور سکیورٹی کمانڈروں سے خطاب میں کہا کہ عام شہریوں کی حفاظت کے لئے سکوریٹی اور انٹلیجنس سرگرمیاں بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ھدف شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ بعض عراقی گروہوں اور کمانڈروں کا کہنا ہے کہ داعش بغداد میں یہانتک کہ سکیورٹی فورسز میں بھی گھس گئی ہے اور دہشتگردانہ بم دھماکوں میں اضافہ ان ہی عناصر کی وجہ سے ہورہا ہے۔ اگرچہ بغداد اب داعش کے کمانڈ سنٹر یعنی فلوجہ سے دور ہوگیا ہے چونکہ عراقی فورسز نے فلوجہ کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ داعش کے خفیہ گروہ بغداد اور دیگر علاقوں میں عام شہریوں کے لئے بدستور سب سے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے عراق کے وزیر اعظم نے اپنے گذشتہ روز کے بیان میں تاکید کی ہے کہ جن دہشتگردوں کو حالیہ مہینوں میں میدان جنگ میں سنگین شکست ہوئی ہے اب وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے بدامنی پھیلارہے ہیں لیکن عراق کی سکیوریٹی فورسز اور انٹلیجنس کو دہشتگردوں کو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق دہشتگردوں کے بہیمانہ اقدامات کے مقابل تساہلی اور سستی سے کام لینے سے میدان جنگ میں عراقی فورسز کی کامیابیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان حالات میں عالمی برادری دہشتگردوں سے مقابلے کے لئے عراقی حکومت کی بھرپور حمایت، دہشتگرد گروہوں کی نابودی کی راہ ہموار کرے گی  جنہوں نے نہ صرف عراق بلکہ ساری دنیا کو خطرے سے دوچار کررکھا ہے۔ اس سلسلے میں ایک قدم یہ ہوسکتا ہےکہ عالمی برادری داعش کے اقدامات کو نسل کشی سے تعبیر کرے۔ یہ امر دہشتگردی سے مقابلے میں عراقی حکومت کی حمایت کا ایک طریقہ ہوگا۔ یاد رہے تکفیری دہشتگردوں کو مغربی اور بعض عرب ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔