بنگلادیش میں مزدوروں کی سیفٹی کا فقدان
بنگلادیش میں ایک ٹکسٹائل کارخانے میں بھیانک آگ لگنےکے بعد بنگلادیشی پولیس نے کہا ہے کہ اس کارخانے کا مالک اور سات سینئر مینیجر روپوش ہوگئے
بنگلادیش میں ایک ٹکسٹائل کارخانے میں بھیانک آگ لگنےکے بعد بنگلادیشی پولیس نے کہا ہے کہ اس کارخانے کا مالک اور سات سینئر مینیجر روپوش ہوگئے۔اس علاقے کے پولیس انسپکٹر کا کہنا ہے کہ آتش زدگی کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد کافی زیادہ ہوگئی ہے اسی وجہ سے کارخانے کا مالک اور سنیئر مینیجرز فرار ہوگئے ہیں۔آٹھ افراد پر منجملہ اس کارخانے کے مالک پر قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔واضح رہے ہفتے کے دن ڈھاکہ کے شمال میں صنعتی شہر ٹونگی میں ایک ٹکسٹائل کارخانے میں آتش زدگی کے مہیب حادثے میں تینتیس افراد جاں بحق اور ستر افراد زخمی ہوگئے۔ آتش زدگی کا یہ بھیانک حادثہ دوہزار تیرہ کے بعد سے سب سے زیادہ بھیانک واقعہ ہے۔اسی سال ایک ٹکسٹائل کارخانے کی عمارت گرنے سے ایک ہزار ایک سو پینتیس مزدور مارے گئے تھے۔
بنگلادیش میں ٹکسٹائیل انڈسٹری کی مالیت ستائیس ارب ڈالر ہے اور بنگلادیش چین کے بعد دوسرا سب سے بڑا ریڈی میڈ کپڑوں کا اسکپورٹر ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بنگلادیش میں کوئی ٹکسٹائل کارخانہ آتش زدگی کا شکار ہوا ہے۔ سکیورٹی اور سیفٹی کے معیاروں پر عمل نہ کرنا اور ابتدائی ترین سہولتوں کا فقدان بنگلادیش کے ٹکسٹائل کارخانوں میں آتش زدگی اور مزدوروں کی ہلاکتوں کا سبب بنتا رہتا ہے۔یاد رہے ان کارخانوں میں زیادہ تر خواتین کام کرتی ہیں۔بنگلادیشی حکام کے مطابق کارخانوں میں آتش زدگی کے حادثے کے وقت کوئی ایمرجنسی راستہ بھی نہیں ہوتا ہے جس سے نکل کر لوگ اپنی جاں بچاسکیں۔ دنیا میں اعلی ترین برانڈ کے کپڑوں کی کمپنیوں نے بنگلادیش میں اپنے کارخانے لگا رکھے لیکن ان کی نظر میں جس چیز کی اہمیت نہیں ہوتی وہ مزدوروں کی سیفٹی ہے جبکہ خبری ذرائع کے مطابق ٹکسٹائل کارخانوں سے سالانہ تیس ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔
بنگلادیش میں ٹکسٹائل کارخانوں میں خاتون مزدور دس گھنٹے کام کرتی ہے اور اسے مہینے میں پچہتر ڈالر تنخواہ دی جاتی ہے۔اگرچہ بنگلادیش میں قانون محنت ہے لیکن اس پر بہت کم عمل ہوتا ہے اور بہت سے مزدور جن کی عمرین قانونی عمر سے کم ہوتی ہیں ٹکسٹائیل کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ بنگلادیش میں پینتالیس ہزار ٹکسٹائیل کارخانے میں جن میں زیادہ تر لڑکیاں اور خواتین کام کرتی ہیں۔ آتش زدگی سب سے بڑا خطرہ ہے جسکی زد میں یہ مزدور ہمیشہ رہتے ہیں۔کام کے وقت مالکوں کی جانب سے دروازوں کا بند رکھا جانا آتش زدگی کے واقعے کے دوران مزدوروں کے جان بحق اور زخمی ہونے کا سبب بنتا ہے۔چوبیس اپریل دوہزار تیرہ میں ایک ٹکسٹائل کارخانے میں آتش زدگی کے واقعے میں تقریبا ایک ہزار سے زائد مزدور مارے گئے تھے۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ کام کے ماحول اور سیفٹی معیارات کو بہتر بنانے کے لئے مزدوروں کے احتجاج اور مظاہرے نہ صرف موثر واقع نہیں ہوتے بلکہ پولیس ان پر تشدد ڈھاتی ہے۔ بنگلادیش کی عدلیہ کی جانب سے ٹکسٹائیل کارخانوں کے مالکوں اور مینیجروں کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی سیفٹی بہتر بنانے کے لئے کچھ نہیں کرتے جس کے نتیجے میں مزدوروں کو ہمیشہ حادثے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔