علی اکبر صالحی کا دورہ بلجیم
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248107-علی_اکبر_صالحی_کا_دورہ_بلجیم
اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی ایک وفد کے ہمراہ بلجیم کے دورے پر ہیں جہاں وہ بلجیم اور یورپی یونین کے حکام سے بات چیت کریں گے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۸ Asia/Tehran
  • علی اکبر صالحی کا دورہ بلجیم

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی ایک وفد کے ہمراہ بلجیم کے دورے پر ہیں جہاں وہ بلجیم اور یورپی یونین کے حکام سے بات چیت کریں گے

 

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی ایک وفد کے ہمراہ بلجیم کے دورے پر ہیں جہاں وہ بلجیم اور یورپی یونین کے حکام سے بات چیت کریں گے۔ علی اکبر صالحی کا دورہ بلجیم یورپی یونین کے انرجی کمیشنر کانئیتہ اور بلجیم کے حکام کی دعوت پرانجام پارہا ہے۔ان کا دورہ گذشتہ روز سے شروع  ہوا ہے اور اس سے ایٹمی تعاون  کے موقع ملیں گے۔

ایران کا ایٹمی پروگرام جامع مشترکہ ایکشن پلان کے بعد معمول کے مطابق جاری ہے۔ علی اکبر صالحی اسی سلسلے میں بلجیم کے حکام سے مذاکرات کریں گے۔ یورپی حکام سے علی اکبر صالحی کی ملاقاتوں میں ایران اور یورپی یونین کا تعاون  اور ایران اور بلجیم کے تعلقات کے بارے میں گفتگو ہوگی۔توقع ہے کہ اس دورے میں ایران اور بلیجم کے تعلقات میں توسیع لانے کے بار ے میں سمجھوتے ہونگے اور دستاویزات پر دستخط ہونگے، علی اکبر صالحی کا دورہ بلجیم ایسے عالم میں انجام پارہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط ہوئے ایک برس ہورہا ہے۔اور اس مدت میں یہ معاہدہ کسی حدتک کھل کر سامنے آیا ہے۔ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد میں کچھ نقائص ہیں تو کچھ مثبت نکات بھی ہیں لیکن جس زاویہ سے بھی مشترکہ جامع ایکشن پلان کو دیکھا جائے یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ یہ ایک دو طرفہ معاہدہ ہے اور اس پر دونوں فریقوں کا عمل کرنا لازمی ہے۔ ایران نے اپنے تمام تکنیکی اور اعتماد سازی کی ذمہ داریوں پر عمل کیا ہے اور آئی اے ای اے کے سربراہ نے کچھ دنوں قبل اپنی رپورٹ میں ایک بارپھر اس بات کی توثیق کردی ہے۔ ان تمام امور کے باوجود مغرب کے کچھ خبری حلقوں نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے خلاف کچھ مشکوک دعوے پیش کرکے اس کے خلاف پروپگینڈا شروع کیا ہے۔ان دعووں میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط کرنے کے علاوہ کچھ خفیہ معاہدے بھی کئے ہیں جن سے ایران ایٹمی معاہدے میں اپنی ریڈلائینوں کو کراس کرسکے گا۔اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ علی اکبر صالحی نے جاپان کی کیوڈو نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران نے مغرب کے ساتھ کسی طرح کا کوئی بھی خفیہ معاہدہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات غلط معلومات کی بنا پر لگائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران نے ایٹمی مسائل میں کوئی بھی خفیہ معاہدہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے مشترکہ جامع ایکشن پلان ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہیں ہے بلکہ ایران اور چھے ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدہ ہے جن میں امریکہ روس، برطانیہ، فرانس، چین اور جرمنی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کا شعبہ شامل ہے لھذا یہ الزامات لگانا کہ  ایران نے ایٹمی شعبے میں خفیہ معاہدہ  کیا ہے سرے سے بے بنیاد بات ہے جو مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بعد سے امریکہ کے اندر سے سنی جارہی ہے اور اس کو لے کر پروپگینڈا کیا جارہا ہے۔ البتہ یہ الزامات امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹس پارٹی کے امیدواروں کے لئے ضروری ہیں اور بنیادی طور سے ان کا مشترکہ جامع ایکشن  پلان سے کوئی تعلق  ہی نہیں ہے ۔

علی اکبر صالحی کا دورہ بلجیم دراصل اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے  کہ ایران پرامن مقاصد کے لئے کام کررہا ہے اور اس بات کا موقع ہر گز نہیں دےگا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے فریقوں کی ذمہ داریاں انحرافی مسائل سے متاثر  ہونے پائیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں توسیع لانے کے لئے تعاون کرنے کا معاہدہ کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہے بلکہ ان ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جن پر جامع مشترکہ ایکشن پلان کے فریقوں کو عمل کرنا پڑےگا۔ان ذمہ داریوں میں بھاری پانی کی خریداری، اراک ری ایکٹر میں توسیع لانے کےلئے نئے منصوبے  پیش کرنا اور ایٹمی تحقیقاتی پروگراموں کو کہ جن کے مختلف استعمال ہیں آگے بڑھانے میں  تعاون کرنا شامل ہے۔ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ کا دورہ بلجیم بھی اسی تناظر میں انجام پارہا ہے۔