بچوں کے خلاف اسرائیلی جارحیتوں کے نئے پہلوؤں کا انکشاف
صہیونی حکومت کے جرائم کے بارے میں اقوام متحدہ کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کی شائع ہونے والی رپورٹ کے باعث، صیہونی حکام کا غم وغصہ بھڑک اٹھا ہے-
امریکہ میں اسرائیلی سفیر "ڈینی ڈینن" نے اقوام متحدہ کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ جس میں اسرائیل کو غزہ میں فلسطینی بچوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، کہا ہے کہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے اثرو رسوخ کے زیر اثر تیار کی گئی ہے- ڈینن نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پورٹ میں تجویز کردہ سفارشات پر عمل نہ کریں-
امریکہ میں تعینات اسرائیلی سفیر نے اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ ایسے میں کیا ہے کہ بان کی مون نے کچھ عرصہ قبل، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی متعدد رپورٹوں کے باوجود، اسرائیل کے ہاتھوں بچوں کے قتل اور اسرائیلی حکومت کو بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی عالمی سطح پر کی جانے والی درخواست کو ٹھکرا دیا تھا-
صیہونی حکومت کے جرائم کے بارے میں اقوام متحدہ کےلچکدار رویے نے ، اس غاصب حکومت کو اپنے جرائم جاری رکھنے میں مزید گستاخ بنا دیا ہے-
بچوں کی قاتل حکومت اسرائیل کے نسل پرستانہ اقدامات ، ہولناک اور خطرناک وسیع پہلو اختیار کرتے جارہے ہیں جس کے سبب عالمی سطح پر عوامی غم وغصے میں اضافہ ہوا ہے-
1948 میں فلسطین پر قبضے کے وقت سے، فلسطینی بچے ، مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں حکومت اسرائیل کی نسل کشی اور جنگی جرائم کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں - گذشتہ ایک عشرے کے دوران شائع ہونے والی رپورٹوں کے اعداد وشمار کے مطابق ڈیڑھ ہزار بچے شہید ہوئے ہیں جبکہ آٹھ ہزار سے زائد فلسطینی بچوں نے، صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید و بند کی زندگی گذاری ہے -
اسی طرح صیہونی حکومت کے ذریعے فلسطینیوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کے نتیجے میں آٹھ لاکھ سے زائد فلسطینی بچوں کو غربت اور ضروری وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور ہزاروں فلسطینی بچے، اپنی زندگی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کام کرنے پر مجبور ہیں - صیہونی حکومت ، ان حکومتوں میں سرفہرست ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں کو گرفتار کرتیں ، ان پر مقدمہ چلاتیں اور مختلف طریقوں سے انہیں ایذائیں پہنچاتی ہیں-
فلسطینیوں کو قتل کرنا، صیہونی حکام کا روز کا معمول بن گیا ہے اس طرح سے کوئی بھی دن ایسا نہیں گذرتا جس دن فلسطینی شہریوں خاص طورپر فلسطینی بچوں اور جوانوں پر تشدد اور ان کے قتل کی خبر میڈیا میں نہ ہو- فلسطینی بچوں کے ساتھ قدس کی غاصب حکومت کا تشدد آمیز رویہ، بین الاقوامی قوانین خاص طور پر بچوں کے حقوق کے کنوینشن کی شق سولہ کے منافی ہے کہ جس میں بچوں کے ساتھ تشدد آمیز رویہ اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے-
ایسے حالات میں کہ جب آئے دن فلسطینی بچے، فلسطینی علاقوں میں غاصب صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ، مغرب کی انسانی حقوق کی دعویدارحکومتیں ، ان وحشیانہ جرائم اوربربریت کے خلاف خاموش تماشائی بنی ہیں اور ان کا رویہ کچھ ایسا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ فلسطینیوں منجملہ بچوں کے خلاف صیہونی حکومت کا تشدد آمیز رویہ ، انسانیت کے خلاف جارحیت اور نسل کشی کا واضح مصداق ہے اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کا اعتراف بھی اسی حقیقت کی تصدیق ہے-