افغان صدر اشرف غنی کا دورۂ ہندوستان
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248293-افغان_صدر_اشرف_غنی_کا_دورۂ_ہندوستان
افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کا دورۂ ہندوستان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کابل حکومت نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے زیادہ توانائیوں سے فائدہ اٹھانے کا عزم رکھتی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۲:۴۵ Asia/Tehran
  • افغان صدر اشرف غنی کا دورۂ ہندوستان

افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کا دورۂ ہندوستان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کابل حکومت نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے زیادہ توانائیوں سے فائدہ اٹھانے کا عزم رکھتی ہے۔

افغان صدر کے نائب ترجمان شاہ حسین مرتضوی کے مطابق اس دورے میں کابل کے لیے نئی دہلی کی نئی امداد کے بارے میں بات چیت کی جائے گی۔ ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات تقریبا پانچ سال قبل اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر دستخط سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے۔

افغان صدر محمد اشرف غنی ایک ایسے وقت میں ہندوستان کے دورے پر گئے ہیں کہ جب شروع میں وہ اس ملک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے اور انھوں نے اپنی حکومت کے علاقائی تعاون کا رخ پاکستان کی طرف کر رکھا تھا۔ انھوں نے کہ جنھوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ ان کی حکومت کے پروگراموں میں امن عمل کو آگے بڑھانے کو ترجیح حاصل ہے، اس نعرے کے ساتھ کہ افغانستان کے امن کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے، کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ریڈکارپٹ بچھایا اور ان کو فروغ دینے کے لیے ہرممکن کوشش کی۔ افغان صدر داخلی مخالفتوں کے باوجود پاکستان کے ساتھ فوجی تعاون کو فروغ دینے کے مرحلے تک آگے بڑھے لیکن خاص طور پر افغان طالبان کو امن عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دلانے سمیت پاکستان سے افغان صدر کی توقعات پوری نہ ہونے اور طالبان کے حملوں میں اضافے کی وجہ سے افغان صدر پاکستان سے مایوس ہو گئے اور انھوں نے اپنا رخ ہندوستان کی جانب کر لیا۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں بھی افغان حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو زیادہ فروغ دیا۔ افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی کو امید تھی کہ افغانستان، ہندوستان سے تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی علاقائی پالیسی اپنا کر پاکستان کا اعتماد حاصل کر  سکے گا لیکن افغان صدر اشرف غنی کے خیال میں ایسا نہیں ہوا۔

افغان حکومت کے خیال میں پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں منفی کردار ادا کیا جبکہ ہندوستان نے آبادکاری کے بہت سے منصوبوں میں مدد دے کر افغانستان کے تعمیرنو کے پروگراموں کو آگے بڑھانے میں مدد دی اور اس طرح وہ پاکستان کے مقابل آ گیا۔

افغانستان کی مشکلات حل کرنے کے لیے ہندوستان کی توانائیوں سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں کابل حکومت کی امید اس وقت بڑھ گئی کہ جب ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورۂ کابل کے دوران اعلان کیا تھا کہ ہندوستان آج کے بعد سیکورٹی امور میں بھی افغانستان کی مدد کرے گا۔ کانگریس کی سابق حکومت کی نسبت ہندوستان کی موجودہ حکمراں جماعت بی جے پی کی حکومت، افغانستان کے مختلف امور خاص طور پر فوجی شعبے میں مدد میں زیادہ رجحان رکھتی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہندوستان کی جانب سے افغانستان کو چار جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس پر پاکستان اور طالبان نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور طالبان نے حال ہی میں ہندوستان کی جانب سے افغان حکومت کو فوجی امداد دینے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

افغانستان اپنی درآمدات اور اشیا کی ٹرانزٹ کے سلسلے میں پاکستان پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے ہندوستان کی توانائیوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں افغانستان اور ہندوستان کی جانب سے ایران کی چابہار بندرگاہ کو استعمال کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اسی بنا پر حال ہی میں افغانستان نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اب افغانستان جغرافیائی لحاظ سے ایک محصور ملک نہیں ہے بلکہ مختلف ٹرانزٹ راستوں تک اس کی دسترسی ہے۔

اس بنا پر ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی تجارتی سرحد واہگہ بارڈر بند ہونے کے پیش نظر افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کا دورۂ ہندوستان افغانستان کی درآمدات اور برآمدات کے لیے دیگر مواصلاتی اور ٹرانزٹ راستوں کے استعمال میں تیزی لانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔