امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی امداد میں اضافہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248296-امریکہ_کی_جانب_سے_صیہونی_حکومت_کی_امداد_میں_اضافہ
امریکی حکومت نے صیہونیوں کو بھرپور مدد دینے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صیہونی حکومت کو اڑتیس ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۲:۴۶ Asia/Tehran
  • امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی امداد میں اضافہ

امریکی حکومت نے صیہونیوں کو بھرپور مدد دینے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صیہونی حکومت کو اڑتیس ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے حوالے سے بعض خبری ذرائع نے اس سلسلے میں خبر دی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو آئندہ دس سال کے دوران اڑتیس ارب ڈالر کی فوجی امداد کے پیکج کو آخری شکل دے دی ہے اور بدھ کے روز واشنگٹن میں اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

اس معاہدے کے مطابق اسرائیل دو ہزار اٹھارہ سے دس سال تک امریکہ سے سالانہ تین ارب اسی کروڑ ڈالر کی امداد حاصل کرے گا۔ یہ رقم اس سے پہلے سالانہ تین ارب دس کروڑ ڈالر تھی۔

صیہونی حکومت کے لیے امریکی امداد میں اضافے سے متعلق خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں کہ جب صیہونی حکومت کے لیے امریکہ کی امداد، اس حکومت کے لیے امریکہ کی سالانہ امداد سے بڑھ کر ہے۔ صیہونی حکومت کے لیے امریکہ کی باضابطہ سالانہ امداد بظاہر تقریبا تین ارب ڈالر ہے لیکن امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس امداد کی حقیقی شرح تقریبا دس ارب ڈالر سالانہ تک بیان کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی سیاستداں اور امریکی سینیٹ کے انتخابات میں سابق امیدوار مارک ڈانکوف نے کہا ہے کہ امریکی حکومت مختلف طریقوں سے اسرائیل کی تقریبا دس ارب ڈالر کی مدد کرتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ مختلف بہانوں سے صیہونی حکومت کو ہر سال غیراعلان شدہ فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب امریکہ بھی اور یورپی ممالک بھی صیہونی حکومت کو اربوں ڈالر کی امداد اور رقم فراہم کرتے ہیں کہ جس کا زیادہ حصہ امریکہ اور یورپی ممالک سے ہھتیاروں کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔

امریکہ اور صیہونی حکومت کے تعلقات پر ایک نظر ڈالنے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا امریکہ کی خارجہ پالیسی میں خصوصی مقام رکھتا ہے اور امریکی حکام کسی بھی طرح اس بات پر تیار نہیں ہیں کہ یہ تعلقات کسی بھی چیز سے متاثر ہوں۔

بہرحال صیہونی حکومت کے لیے امریکہ کی بڑھتی ہوئی مدد و حمایت ایسے حالات میں ہے کہ جب علاقے میں خصوصا فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت اور اس کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی فوجی امداد میں اضافہ، درحقیقت اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لیے اس ناجائز حکومت کو گرین سگنل دینے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

امریکہ اسرائیل کو غیرمعمولی مالی اور فوجی مدد ایک ایسے وقت میں دے رہا ہے کہ جب خود امریکی قوانین کی رو سے بھی یہ امداد غیرقانونی ہے، کیونکہ امریکہ کے برآمدات کے قانون میں ایسی حکومتوں کو امریکہ کی فوجی امداد دینے پر پابندی ہے کہ جو امریکہ کے پیسے یا ہتھیاروں کو جارحانہ اور تشدد آمیز مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران امریکی عوام کو بہت سی اقتصادی اور معاشی مشکلات اور مسائل کا سامنا ہونے کے باوجود صیہونی حکومت کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے فراہم کی جانے والی امریکی حکومت کی امداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ اس میں مختلف طریقوں سے اضافہ ہی ہوا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران صیہونی حکومت کے لیے امریکہ کی امداد میں اضافہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ جب امریکہ کو خود گزشتہ برسوں کے دوران دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنے مداخلت پسندانہ اقدامات کی وجہ سے بہت سی اقتصادی مشکلات اور بجٹ خسارے کا سامنا رہا ہے اور گزشتہ مہینوں کے دوران امریکہ کا بجٹ خسارہ ایک سو سات ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

امریکی عوام کو امریکی مفادات کو صیہونی حکومت کے ساتھ جوڑنے اور اسے بھاری مالی امداد دینے پر سخت اعتراض ہے اور وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسی صورت حال سے امریکہ صیہونی حکومت کے شریک جرم کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس سے عالمی سطح پر امریکہ سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔