سعودی حکمرانوں کو جواد ظریف کی نصیحت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248305-سعودی_حکمرانوں_کو_جواد_ظریف_کی_نصیحت
سعودی حکام نے حج کا انتظام چلانے میں اپنی نااہلی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت کے نتیجے میں ہونے والی اپنی ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۵ Asia/Tehran
  • سعودی حکمرانوں کو جواد ظریف کی نصیحت

سعودی حکام نے حج کا انتظام چلانے میں اپنی نااہلی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت کے نتیجے میں ہونے والی اپنی ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

ان ہی اقدامات کے سلسلے میں سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے رواں سال حج کرنے والی بعض اہم شخصیات کے اجتماع میں کہا کہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے یا سیاسی اختلافات کے لیے حج سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو انتہا پسندی نام کی بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جانا چاہیے۔

سعودی فرمانروا نے مزید کہا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی شرعی اور عقلی طور پر مذموم اور ناپسندیدہ ہے اور جب یہ امت اسلامیہ کے بدن میں داخل ہو جاتی ہے تو دنیا والوں کے نزدیک اس کے مقام و مرتبے، اتحاد و یکجہتی اور مستقبل کو تباہ کر دیتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سعودی حکام کے اس پروپیگنڈے اور الزام تراشی کا جواب دیا ہے۔ انھوں نے منگل کے روز اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مقالے میں سعودی حکمرانوں کو نصیحت کی کہ وہ الزام تراشی اور خوف و ہراس پھیلانے پر مبنی پروپیگنڈا چھوڑ کر دہشت گردی اور تشدد کی مصیبت اور مشکل کو ختم کرنے کے لیے کہ جو تمام ملکوں کے لیے خطرہ ہے، عالمی برادری کے ساتھ تعاون کریں۔

جواد ظریف نے لکھا کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات سے لے کر اب تک جنگ پسند وہابیت نے کئی بار اپنا چہرہ تبدیل کیا ہے لیکن اس کی آئیڈیالوجی اور بنیادی حکمت عملی اور پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، چاہے یہ گروہ طالبان ہو یا پھر القاعدہ اور اس سے پیدا ہونے والے اس کے ذیلی گروہ یا نام نہاد دولت اسلامی کے عناصر کہ یہ نہ تو دولت ہے اور نہ ہی اسلامی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے مقالے میں اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنے مغربی آقاؤں کو کوتاہ اندیشی کی پالیسیوں کی حمایت پر قائل کرنے کی کوشش باطل بنیاد پر استوار ہے کہ جس سے عرب دنیا مزید آشوب کا شکار ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ دعوی کہ شیعہ و سنی کی دشمنی نے علاقے میں کشیدگی اور جھڑپوں کو ہوا دی ہے حقائق سے واضح منافات رکھتا ہے کیونکہ علاقے میں ہولناک ترین قتل و خونریزی وہابیوں کے ہاتھوں عرب اور سنی بھائیوں کے قتل عام کی وجہ سے ہوئی ہے۔ درحقیقت یہ علاقے کے عرب ممالک کے سنی ہیں کہ جنھوں نے نفرت کی برآمدی فکروسوچ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

سعودی حکام اس دلدل سے نکلنے کے لیے کہ جس میں وہ خود گرفتار ہو ئے ہیں، عالم اسلام میں اپنے تفرقہ انگیز اقدامات کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

درحقیقت عالم اسلام کی موجودہ مشکلات، ان کمزوریوں غفلتوں اور تنازعات کا نتیجہ ہیں کہ جو جاہل اور رجعت پسند نظاموں اور حکومتوں کی جانب سے امت اسلام پر مسلط کی گئی ہیں اور ان اختلافات کا سرچشمہ، سعودی عرب میں وہابی فکر و سوچ سے پھوٹ رہا ہے۔

علاقے میں سعودی عرب کے اقدامات امت اسلامیہ میں اتحاد آفریں نظریات کے فروغ کو روکنے اور جاہلیت کے دور کے افکار و نظریات کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مغرب کی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ تخریبی عمل کہ جس کی  وہابی اور سلفی نظریات کے قالب میں خرافاتی خیالات و اعتقادات کے ساتھ ترویج کی جا رہی ہے، امت اسلام کی تباہی کا سبب بنے گا اور یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ جس کے ذمہ دار سعودی حکمران ہیں۔ لیکن سعودی حکمران حقیقت پسندی سے کام لینے کے بجائے بدستور دشمنان اسلام کی خدمت کر کے اپنی حکومت کی لرزتی ہوئی بنیادوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس وقت سب لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ علاقے میں شرانگیز اقدامات کا اصلی سرچشمہ وہ انتہا پسند گروہ ہیں کہ جو سعودیوں کے پیسے اور حمایت سے امریکی مقاصد پر عمل پیرا ہیں اور وہ امت مسلمہ میں نسلی و مذہبی اختلافات، پسماندگی اور غربت میں اضافے نیز جنگ و خونریزی اور تباہی و بربادی کا سبب بنے ہیں۔

جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آج شیعوں اور اہل سنت کے درمیان تاریخی اختلاف نہیں بلکہ وہابیت اور حقیقی  اسلامی شریعت  کے درمیان مقابلہ جاری ہے یہ وہ مقابلہ ہے کہ جو علاقے اور دنیا کے دیگر علاقوں میں گہرے نتائج و اثرات مرتب کرے گا۔