اسرائیلی پروپگنڈوں پر اقوام متحدہ کا ردعمل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248419-اسرائیلی_پروپگنڈوں_پر_اقوام_متحدہ_کا_ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو کے اس بیان کی مخالفت کی ہے جس میں انہوں نے یہودی کالونیوں کی تعمیر روکے جانے کی درخواست کرنے والوں پر یہودیوں کا صفایا کرنے والوں کی طرفداری کا الزام لگایا تھا -
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۱:۵۶ Asia/Tehran
  • اسرائیلی پروپگنڈوں پر اقوام متحدہ کا ردعمل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو کے اس بیان کی مخالفت کی ہے جس میں انہوں نے یہودی کالونیوں کی تعمیر روکے جانے کی درخواست کرنے والوں پر یہودیوں کا صفایا کرنے والوں کی طرفداری کا الزام لگایا تھا -

بان کی مون نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیل کے ذریعے یہودی کالونیوں کی تعمیر کا کام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے- اقوام متحدہ کے توسط سے صیہونی حکومت کے توسیع پسندانہ اقدامات کی مذمت کے سبب، ہمیشہ غاصب صیہونی حکام نے اقوام متحدہ کے حکام کے خلاف الزام تراشی کی ہے اور ان کے خلاف پروپگنڈہ کیا ہے- 

اسی سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کچھ دنوں قبل بھی غرب اردن میں صیہونی حکومت کے توسط سے کالونیوں کی تعمیر جاری رہنے کے خلاف اقوام متحدہ کی سخت نکتہ چینی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا تھا -

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ موقف ، صیہونی حکومت کے ذریعے یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع پر اصرار اور اس غاصب حکومت کی توسیع پسندی کے خلاف عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے احتجاجات کے بعد اپنایا ہے- 

قابل ذکر ہے کہ قدس کی غاصب حکومت کی بنیاد ہی، توسیع پسندی اور نسل پرستی پر قائم ہے اور صیہونی حکومت میں تمام گروہ اور پارٹیوں کی سرگرمیوں کا محور بھی یہی ہے اور سب اسی راستے پر گامزن ہیں۔ یہی سبب ہے کہ صیہونی حکومت میں جو بھی کابینہ اقتدار میں آتی ہے وہ کالونیوں کی تعمیر اور نسل پرستی کو اپنے منصوبوں اور ایجنڈوں میں سرفہرست رکھتی ہے ۔

فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیاں تعمیر کرنے سے صیہونی حکومت کا مقصد ، ان علاقوں میں آبادی کا تناسب صیہونیوں کے حق میں تبدیل کرنا ہے-

صیہونی حکومت ایسی حالت میں فلسطینی علاقوں میں تسلط پسندانہ اور نسل پرستانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے کہ اس حکومت کو، جنیوا کنوینشن جیسے بین الاقوامی کنوینشنوں کی رو سے فلسطینی علاقوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا تصرف کا حق حاصل نہیں ہے- 

اقوام متحدہ کی قرادادوں میں بھی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے ان کالونیوں کو نابود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے- ایسے حالات میں صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری رہنے کے خلاف عالمی سطح پر وسیع ردعمل سامنے آرہا ہے کہ اس عوامی احتجاج کا دائرہ ان مغربی ملکوں تک بھی پھیل گیا ہے جو صیہونی حکوت کے حامی ہیں- 

صیہونی حکومت کہ جسے فلسطینیوں کے خلاف اپنی جارحیتوں اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کے سبب بین الاقوامی سطح پر نکتہ چینی کا سامنا ہے، فلسطین کے مظلوم اور بے گناہ عوام کے خلاف اپنے جرائم اور وحشیانہ اقدامات کو افتراپردازی اور جھوٹے پروپگنڈوں کے ذریعے الٹا ظاہر کرنے میں کوشاں ہے تاکہ اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی، عالمی برادری سے حمایت حاصل کرسکے اور ان کواپنا ہمنوا بنا سکے- 

صیہونی حکومت حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے ذریعے ہمیشہ اس کوشش میں رہی ہے کہ اقوام عالم کی توجہ ، فلسطین پر قبضے کی حقیقت اور اس غاصب حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کے قانونی اور جائز دفاع سے ہٹا سکے- 

صیہونی حکام کا موقف اس امر کا غماز ہے کہ یہ حکومت، اپنی توسیع پسندی کے تعلق سے عالمی سطح پر پائے جانے والی حساسیت میں کمی لائے جانے میں کوشاں ہے تاکہ کسی حد تک گوشہ نشینی سے نجات حاصل کرسکے- 

لیکن غاصب صیہونی حکومت کے توسیع پسندانہ اقدامات اور اس کی افتراپردازی میں اس حد تک اضافہ ہوا ہے کہ جس پر عالمی رائے عامہ نے ماضی سے زیادہ اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس غاصب حکومت کے مکرو فریب اور اس کی توسیع پسندانہ ماہیت کو ہدف تنقید بنایا ہے-