ایٹمی تعاون کے سلسلے میں ایران اور یورپ کے نئے اقدامات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248440-ایٹمی_تعاون_کے_سلسلے_میں_ایران_اور_یورپ_کے_نئے_اقدامات
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے مشترکہ جامع ایکش پلان کے دائرے میں ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون کے لئے یورپی یونین کی نئی تجاویز کی خبر دی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۳:۳۶ Asia/Tehran
  • ایٹمی تعاون کے سلسلے میں ایران اور یورپ کے نئے اقدامات

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے مشترکہ جامع ایکش پلان کے دائرے میں ایران کے ساتھ ایٹمی تعاون کے لئے یورپی یونین کی نئی تجاویز کی خبر دی ہے-

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی ، مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد، ایٹمی تعاون کے بارے میں بات چیت کے لئے بریسلز کے دورے پر ہیں- ڈاکٹر صالحی نے بدھ کو یورپی یونین کے کمشنر برائے توانائی ، کانیتہ  «Kanyyth" کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں، ایران اور یورپ کےدرمیان سائنس و ٹکنالوجی کی پیشرفت میں مثبت قدم اٹھائے جانے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب ہی  انٹرنیشنل تھرمو نیوکلیئر ایکسپیری مینٹل ری ایکٹر" ایٹر " میں ایران کی رکنیت کے مسئلے کا باضابطہ طور پراعلان کردیا جائے گا- 

واضح رہے کہ اس سائنسی منصوبے ایٹر میں ، جو نئی توانائیوں کی پیداوار کے لئے ہے، اس وقت یورپی یونین کے ستائیس ممالک نیز امریکہ، روس، چین، ہندوستان، جنوبی کوریا اور جاپان شامل ہیں۔  ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ایٹر یعنی انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپیری مینٹل ری ایکٹر میں چھتّیسویں رکن ملک کی حیثیت سے ایران کو تسلیم کئے جانے کے بارے میں حالات سازگار ہوگئے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ آئندہ تیس سے چالیس برسوں کے دوران تجارت کی شکل اختیار کر جائے گا اور ایران نے ابھی سے اس منصوبے پر سرمایہ کاری شروع کردی ہے -  اس وقت مشترکہ جامع ایکش پلان پر دستخط کو ایک سال کا عرصہ گذر رہا ہے - اس مدت میں اس سمجھوتے پر مختلف پہلوؤں اور زیادہ تر پابندیاں منسوخ کئے جانے کے حوالے سے توجہ دی گئی ہے، جبکہ مشترکہ جامع ایکش پلان کا ایک اہم پہلو ایٹمی حقوق کا تحفظ اور اس میں دوام نیز پرامن مقاصد میں ایران کی ایٹمی ٹکنالوجی کی پیشرفت اور تحقیقاتی و سائنسی پروجیکٹوں پرعملدرآمد جاری رکھنا ہے- 

ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے کارنامے پر ایک نظر ڈالنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان سے حاصل ہونے والے سمجھوتے کی بنیاد پر سینٹریفیوجز کے شعبے میں ایران کی سرگرمیاں نہ صرف ٹھپ نہیں پڑی ہیں بلکہ ایران نے ایٹمی سمجھوتے کے دائرے میں اپنی ٹیکنیکل نالج اور معلومات کو مزید وسعت دی ہے-  ایرانی ماہرین کی کوششوں سے اس وقت پائیدار آئزوٹوپس کی پیداوار کے لئے بھی حالات فراہم ہوگئےہیں-

ڈاکٹر صالحی کے بقول ایران ، اس قسم کے آئزو ٹوپس بنانے والے سینٹری فیوجز کو بہتر بنانے کے لئے روس کے ساتھ تعاون کر رہا ہے- صالحی نے کہا کہ اس کے مطابق ایران  "ir-1 " سینٹری فیوجز کو بہتر بنانے اور اس کی ارتقا میں کوشاں ہے تاکہ پائیدار آئزوٹوپس کی پیداوار کرسکے- ایران اسی طرح طبی شعبے کے لئے ضروری سینٹری فیوجز مشینیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوا ہے جس کے ذریعے سے ویکسینیشن اور نئی دوائیں تیار کی جاتی ہیں-

ایٹر  سے موسوم منصوبہ بھی، ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سائنسی منصوبوں میں محوریت کا حامل ہے اور توقع ہے کہ اس پروجکٹ میں ایران کی شمولیت کے ساتھ ہی اس شعبے میں اچھی پیشرفت اور کامیابیاں حاصل ہوں گی-  ایٹمی صنعت کے شعبے میں، ایران کی تجارتی سرگرمیوں میں حسب ضرورت بھاری پانی کی پیداوار اور اسے فروخت کرنا شامل  ہے اور اس وقت ایران اراک کے بھاری پانی کی پیداوار کو مقامی بنانے کے ذریعے، بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں بھاری پانی کی فروخت بھی کر رہا ہے- 

علی اکبر صالحی کے مطابق ایران میں بھاری پانی کی پیداوار کی شرح بیس ٹن سالانہ ہے اور ایران بھاری پانی کی اس پیداوار میں اضافہ کرنے کی بھی توانائی رکھتا ہے۔ انھوں نے بھاری پانی کا استعمال کرنے والے ملکوں میں اس پانی کے استعمال کے مختلف طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پانی کا استعمال، دواؤں اور کیمیکل صنعتوں خاص طور سے ایٹر منصوبے میں ہو سکتا ہے۔

ایٹمی توانائی کے بارے میں ایران کا نقطہ نظر طویل المدت میں اس عظیم سائنسی منصوبے سے استفادہ کرنا ہے۔ گذشتہ سال چودہ جولائی کو ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والا ایٹمی سمجھوتہ اہم اور کلیدی نکات کا حامل ہے جن میں روائتی پرامن جوہری توانائی سے استفادے کی ضمانت کا مسئلہ بھی شامل ہے حالانکہ مغرب ایران کے جوہری پروگرام کو ختم یا اس کو خاتمے کے مترادف بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران، پرامن جوہری توانائی اور پرامن جوہری منصوبے کا حامل ملک ہے جس میں یورینیم کی افزودگی اورایٹمی ایندھن کی سائیکلنگ نیزری ایکٹر کی ضرورت کا ہیوی واٹرتیار کرنا شامل ہے اور اس بات کو عالمی برادری نے تسلیم بھی کیا ہے۔

درحقیقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہی ممالک جو ایران کی تمام جوہری سرگرمیوں کو بند اور اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کو ختم کئے جانے کی کوشش کر رہے تھے اب وہی ممالک، ایران کی اس پیدوار کے خریدار ملکوں میں تبدیل ہو گئے ہیں اور وہ ایٹر جیسے عظیم جوہری منصوبے میں ایران کی شمولیت و رکنیت کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔