پاکستان میں دہشتگردی سے مقابلے پر تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248764-پاکستان_میں_دہشتگردی_سے_مقابلے_پر_تاکید
پاکستان کے حکام دہشتگردی کے مقابلے کے لئے بدستور بلند بانگ دعوے کررہے ہیں اور پاکستانی فوج کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ضرب عضب نامی فوجی کاروائیوں میں دہشتگردوں کے خلاف کامیابیاں مل رہی ہیں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۸ Asia/Tehran
  • پاکستان میں دہشتگردی سے مقابلے پر تاکید

پاکستان کے حکام دہشتگردی کے مقابلے کے لئے بدستور بلند بانگ دعوے کررہے ہیں اور پاکستانی فوج کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ضرب عضب نامی فوجی کاروائیوں میں دہشتگردوں کے خلاف کامیابیاں مل رہی ہیں

 

پاکستان کے حکام دہشتگردی کے مقابلے کے لئے بدستور بلند بانگ دعوے کررہے ہیں اور پاکستانی فوج کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ضرب عضب نامی فوجی کاروائیوں میں دہشتگردوں کے خلاف کامیابیاں مل رہی ہیں لیکن اس کے باوجود مغربی پاکستان میں نماز جمعہ کے وقت ایک بھیانک بم دھماکے میں چھتیس افراد جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں ۔

پاکستانی پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ دہشتگردانہ حملہ خیبر پختونخوا صوبے میں مھمند ایجنسی میں ہوا۔مہمند ایجنسی پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہے اور فوج کی جانب سے اس علاقے میں دہشتگردوں کا صفایا کئے جانے کے اعلان کے باوجود یہاں بدامنی کا دور دورہ ہے۔ واضح رہے صوبہ سندھ کے خانپور علاقے میں منگل کو عید قربان کی نماز کے ایک بڑے اجتماع میں دو تکفیری دہشتگرد خود کش حملہ کرنا چاہتے تھے۔ اس حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے تھےاور ایک پولیس اہلکار مارا گیاتھا۔ ان حملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگرد بدستور سرگرم عمل ہیں اور حملے کرکے نہ صرف اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں بلکہ انہوں نے پاکستان میں بھرپور طرح سے بدامنی بھی پھیلارکھی ہے۔  اس کے باوجود پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستانی فوج کی کاروائیاں تمام دہتشگردوں اور ان کے خفیہ اڈوں کی تباہی تک جاری رہیں گے گی۔پاکستان کے وزیر اعظم نے ضرب عضب فوجی کاروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف فوج کی کاروائیوں کے پاکستان کے مختلف علاقوں منجملہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے طالبان نے دو سال قبل شہر پیشاور میں ایک آرمی اسکول پرحملہ کیا تھا جس میں تقریبا ایک سو پچاس طلبہ جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حملے کےبعد حکومت نے فوج کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا اور اسے ملک میں دہشتگردی کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لانے کے لئے لاگو کیا۔ لیکن پاکستان میں جاری دہشتگردی اور بدامنی سے پتہ چلتا ہےکہ جس طرح سے پاکستان کے سیاسی اور فوجی حکام دعوے کررہے ہیں دہشتگردی کے خلاف ان کی کارروائیاں کامیاب نہیں رہی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی مبصرین اس سلسلے میں چند امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پہلے یہ کہ دہشتگردوں کے خلاف پاکستانی فوج اور پولیس کی کاروائیاں دوہرے معیارات پر مبنی ہیں اور تمام دہشتگردوں کے خلاف کاراوئیاں نہیں کی جارہی ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ دہشتگرد گروہوں نے پورے پاکستان میں اپنے افراد پھیلادئے ہیں اور وہ اس طرح تکفیری گروہوں جیسے لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کی مدد کررہے ہیں، اسی امر کے مد نظر جنرل راحیل شریف نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر ٹھیک ٹھیک عمل کرکے دہشتگردی کے مقابل فوج کی کامیابیوں کو ضائع نہ کریں۔ تیسری بات  جو سبب بنی ہے کہ پاکستانی فوج کی کاروائیاں موثر واقع نہ ہوں  یہ ہے  کہ پاکستانی فوج دہشتگردی کے مقابلے کے لئے افغانستان سے کسی بھی طرح کا تعاون نہیں کرتی  نیزدہشتگردی سے مقابلے کے طریقہ ہائے کار اور دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحدوں پر امن قائم کرنے کے بارے میں اسکے ساتھ اختلافات جاری رکھے ہوئے ہے۔دہشتگردی دونوں ملکوں کا مشترکہ مسئلہ لیکن اسلام آباد اور کابل ایک دوسرے پر دہشتگردی کی حمایت کا  الزام لگاتے رہتے ہیں۔

بہرحال پاکستان میں بدامنی اور عدم تحفظ کا جاری رہنا جس میں مختلف علاقوں میں روزآنہ دسیوں جانیں جاتی ہیں اس سے نواز شریف کی پارٹی کی ساکھ پر برا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ عوام کا کہنا ہے کہ نواز حکومت دہشتگردی سے مقابلہ کرنے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے میں ناتوان ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں سب کے سامنے آجائیں گے اسی وجہ سے حکومت نواز شریف کے حامیوں کا یہ کہنا ہے  کہ نواز شریف کو بغیر کسی امتیازی رویے کے سختی کے ساتھ دہشتگردوں سے پیش آکر پاکستان میں امن قائم کرنا چاہیے اور مسلم لیگ کی پوزیشن کو بہتر بنانا چاہیے۔