شام میں جنگ بندی، امریکہ کے دشمنانہ رویہ کے سایہ میں
شام میں جنگ بندی کی شرائط پر غور کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہفتہ کی صبح ملتوی کردیا گیا۔
شام میں جنگ بندی کی شرائط پر غور کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہفتہ کی صبح ملتوی کردیا گیا۔
امریکہ اور روس کے نمائندوں کو اس اجلاس میں شام میں جھڑپوں کے خاتمے، جنگ بندی اور اس ملک میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوجی تعاون اور عوام کو امداد پہنچانے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کے شرائط کا جائزہ لیا جانا تھا۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویٹالی چورکین نے جمعرات کو شام میں جنگ بندی کی برقراری پر عمل درآمد کی ضمانت کے لئے، ہفتے کی صبح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام میں جنگ بندی کے سمجھوتے کی حمایت میں ایک قرارداد منظور کیئے جانے کی تجویز دی تھی۔
امریکہ اور روس نے گذشتہ جمعہ کو شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا اور پیر کی شام سے اس جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔
ایک ہفتے کی جنگ بندی پر عمل درآمد اور شام کے مظلوم عوام کی فریاد رسی کے لئے امدادی گروہوں کی ان تک پہنچنے کی صورت میں، واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنانے کے لئے باہمی تعاون کریں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایسے میں ملتوی ہوا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں بارہا، شام کے حوالے سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے متن کو شائع کرنے کے ساتھ اس پر عمل درآمد پر تاکید کی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شام کے بارے میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اگر شائع ہونے والے سمجھوتے کے حوالے سے شک و تردید میں مبتلا ہے تو روس اس پر عمل درآمد کی آمادگی رکھتا ہے، کیونکہ ماسکو نہیں چاہتا کہ کوئی خفیہ کام انجام دے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ شام کے بارے میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ہونے والے معاہدے میں دہشت گرد گروہوں جبہۃ النصرہ اور داعش کے خلاف جنگ کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے، لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ دہشت گردوں کی تقسیم بندی اور بقول اس کے اعتدال پسند دہشت گردوں کی اصطلاح کو بیان کرنے کے ساتھ دہشت گرد گروہوں پر براہ راست حملوں کی راہ میں حائل ہوجائے۔
شام میں جنگ بندی کے سمجھوتے کے حوالے سے ایک اور مسئلہ، اس شعبے میں امریکہ کی عدم شفافیت اور خفیہ سفارت کاری ہے کہ جس پر روس اور حتی فرانس نے بھی صدائے احتجاج بلند کی ہے۔
امریکی حکام اس بہانے کو پیش کر کے کہ اس سمجھوتے کی شقوں میں موجود حساس نکات اور معلومات، عام لوگوں کے لئے، مفید نہیں ہیں اس سمجھوتے کی شقوں کو منظر عام پر لانے کی مخالفت کررہے ہیں۔
امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں شام میں جنگ بندی سمجھوتہ، ایسے حالات میں انجام پایا ہے کہ بنیادی طور پر شام میں کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی برقراری کے حوالے سے امریکہ کی سچائی کو عالمی رائے عامہ شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
شام کے بحران کے حوالے سے امریکہ کی ماضی کی کارکردگی کے تجربہ سے نشاندہی ہوتی ہے کہ جنگ بندی کی برقراری کے شعبے میں امریکہ کا مشکوک رویہ، جنگ بندی کے حقیقی مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتا اور اسی مسئلہ نے شام میں امریکہ کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی وحشیانہ جارحیت جاری رکھنے کے لئے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ پہلے قدم کے طور پر جو چیز شام میں جنگ بندی کے حوالے سے واشنگٹن اور روس کے سمجھوتے مضبوط بنا سکتی ہے وہ باہمی اعتماد اور نیک نیتی ہے اور اس کے لئے تمام گروہوں کو جنگ بندی کے حوالے سے اپنی سچائی اور صداقت کو ثابت کرنا پڑے گا۔
تشدد کا خاتمہ اور شام کی حکومت کی ہماہنگی کے ساتھ شام کے شہروں منجملہ حلب میں انسان دوستانہ امداد کی ترسیل اور شام کی حکومت کی ہماہنگی کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف جنگ، اس جنگ بندی کے سمجھوتے کی اولین شرط ہے کہ جو شام کے بحران کے حل کے لئے ملکی اور غیر ملکی فریق کے سنجیدہ ہونے کو ثابت کرے گی۔