مغرب نے ایٹمی معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i248818-مغرب_نے_ایٹمی_معاہدے_پر_عمل_نہیں_کیا_ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی برسلز کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ورلڈ نیوکلیر اسو سی ایشن کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے لندن پہنچے ہیں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۳:۵۹ Asia/Tehran
  • مغرب نے ایٹمی معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی برسلز کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ورلڈ نیوکلیر اسو سی ایشن کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے لندن پہنچے ہیں

 

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی برسلز کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ورلڈ نیوکلیر اسو سی ایشن کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے لندن پہنچے ہیں۔ برسلز کا ان کا دورہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر گفتگو کے ھدف سے انجام پایا تھا۔

علی اکبرصالحی نے لندن میں ماہرین کی اس نشست میں کچھ تجویزیں پیش کیں جنہیں اسوسی ایشن نے قبول کیا ہے۔ ان کی پہلی تجویز یہ تھی کہ چھوٹے ایٹمی بجلی گھروں کا جائزہ لینے کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو ان ایٹمی بجلی گھروں کا تکنیکی، اقتصادی اور سکیورٹی کے تمام پہلوؤں سے جائزہ لے اور اس اسوسی ایشن کے رکن ممالک جو چھوٹے ایٹمی بجلی گھر تعمیرکرنا چاہتے ہیں ان کو اپنی تحقیقات پیش کرے۔ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے ورلڈ نیوکلئیر اسوسی ایشن کی ورچوئیل یونیورسٹی کے ساتھ ایران کی دو یونیورسٹیوں کے تعاون کی پیش کش کی۔ اس تجویز کو بھی قبول کرلیا گیا۔ ورلڈنیوکلئیر اسو سی ایشن کی یونیورسٹی دنیا کی معتبر یونیورسٹی ہے اور دنیا کی متعدد یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون اور علمی و سائنسی تبادلے کرتی ہے۔یہ یونیورسٹی دنیاکے مختلف شہروں میں تعلیمی ورکشاپس بھی لگاتی ہے۔ایران کے ساتھ اس یونیورسٹی کے تعاون سے ایران کو ایٹمی میدان میں نئے نئے امور اور مسائل سے آگہی ہوگی۔ ایران کی ایک اور تجویز یہ تھی کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جامع مشترکہ ایکشن پلان کا جائزہ لینے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے۔علی اکبر صالحی نے کہاکہ یہ کمیٹی ایک غیر جانبدار ادارے کی حیثیت سے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اس پر تمام فریقوں کے کاربند رہنے کا جائزہ لے تا کہ یہ واضح ہوجائے کہ کون کس قدر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ باہمی تعاون میں فروغ لانے کے لئے لندن میں ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ کی تجویزیں اور صلاح و مشوروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایران ایٹمی شعبہ میں سرگرم اداروں کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں بڑا قدم اٹھانےوالا ہے۔ اٹامک فیوژن جیسے بڑے منصوبوں میں ایران کی شرکت اور ایران کے ایٹمی ادارے اور ورلڈ نیوکلیئر اسوسی ایشن کے درمیان تعاون ایران کی ایٹمی نالج کے اعلی معیارات کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کامیابیوں سے ایران عالمی سطح پر آگیا ہے۔ ایران ایٹمی ٹکنالوجی کا مختلف میدانوں منجملہ میڈیکل شعبہ اور دوا سازی میں استعمال کررہا ہے  اور اپنے تجربوں سے ملکوں کو بہرہ مند کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر علی اکبر صالحی کی لندن میں ورلڈ نیوکلیئر اسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت اور مختلف شخصیتوں سے ان کی ملاقاتیں ایٹمی ٹکنالوجی کے شعبے میں میں ایران کے لئے نیا موڑ ہے۔ اس تعاون کی اہمیت کے پیش نظر کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر مغرب نے کس حدتک عمل کیا ہے یہ جاننے اور موجودہ مشکلات برطرف کرنے کے لئے راہ ھای حل اہمیت کے حامل ہیں۔ علی اکبر صالحی کا یہ کہنا کہ مغرب ممالک نے  مکمل طرح سے اپنی ذمہ داریوں  پرعمل نہیں کیا ہے اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ یہ خدشہ پایاجاتا ہے کہ مغرب کہیں مشترکہ جامع ایکشن پلان کو اپنی خلاف ورزیوں کا جواز نہ بنالے۔ انہوں نے اخبار گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے گذشتہ سال کے تاریخی ایٹمی معاہدے کے مطابق اپنے وعدوں پرعمل نہیں کیا ہے لیکن پابندیوں کے باقا‏عدہ ہٹائے جانے کے آٹھ ماہ بعد بھی مغرب اپنی ذمہ داریوں کوپورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کو باقی رکھنا ہے تودونوں فریقوں کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔ ورلڈ نیوکلئر اسوسی ایشن کے اجلاس میں ایران کی بھرپور شرکت ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کی پیشرفت کی نشاندھی کرتی ہے اور یہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد کے زمانے میں ایک موقع ہے جسے آسانی سے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ پابندیوں کے خاتمے سے پہلے آئی اے ای اے مختلف بہانوں سے ایران کے ساتھ تعاون نہیں کیا کرتی تھی لیکن اب پابندیوں کا زمانہ ختم ہوچکا۔

ورلڈ نیوکلئر اسو سی ایشن میں اعلی ترین سطح پرایران  کی شرکت اور تجویزیں پیش کرنا عالمی سطح پر سامنے آنے والی جدید ترین ایٹمی ٹکنالوجیوں کو استعمال کرنے میں ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے اور مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد بھی معاہدے کی روح اور اس کے بنیادی معنی و مفہوم کی رو سے ایٹمی میدان میں ایران کی پیشرفت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔