شام میں امریکی جارحیت کے مختلف پہلو
شام کی وزارت خارجہ نے ہفتے کی رات کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے سربراہوں کے نام دو الگ الگ مراسلے بھیج کر ، دیروالزور کے اطراف میں شامی فوج کے اڈے پر امریکی لڑاکا طیاروں کے حملے کی مذمت کی اور اسے شام کی قومی حاکمیت اور اقتدار اعلی کے خلاف خطرناک اور کھلی جارحیت قرار دیا-
واضح رہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے ہفتے کی شب، دیرالزور کے اطراف میں شام کے فوجی ٹھکانے پر بمباری کی تھی جس میں اس ملک کے دسیوں فوجی جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے- شام کی فوجی کمان نے کہا ہے کہ دیرالزور میں شامی فوج کے اڈے پر حملے نے اس اڈے پر داعش دہشت گردوں کے حملے اور اس پر قبضے کی راہ ہموار کردی ہے جیسا کہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ دیرالزور کے ہوائی اڈے، جس پرامریکہ کے جنگی طیاروں نے حملہ کیا ہے، پر قبضے کے لئے دہشت گردوں کی نقل و حرکت میں اضافے ہوا ہے-
مذکورہ خبروں میں، شام میں امریکہ اور دہشت گردوں کے درمیان ایک طرح کی ہم آہنگی کی نشاندہی ہوتی ہے اور اس حقیقت کی غمازی، خان طومان پر دہشت گردوں کے قبضے سے ہوتی ہے - قابل ذکر ہے کہ خان طومان کا علاقہ جو حلب کے جنوب میں واقع ہے ، چند ماہ قبل آزاد کرا لیا گیا تھا لیکن چند روز قبل تکفیری دہشت گردوں نے ، اس جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر جس پرامریکا اور روس دونوں نے اتفاق کیا تھا، اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا اس لئے ہر وہ سمجھوتہ جس میں امریکہ شامل ہو قابل اطمئنان نہیں ہے-
اگرچہ امریکہ اس کوشش میں ہے کہ شام میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور اس میں موجود فوجیوں کے قتل عام کو ایک اتفاقی اور غیر عمدی واقعہ ظاہر کرے لیکن تمام ثبوت و شواہد سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ امریکی جارحیت ایک سمجھا بوجھا اقدام تھا اور اس کے لئے پہلے سے دہشت گردوں کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی تھی-
بنیادی طور پر امریکہ کے پاس جو جدید ترین ہتھیار ہیں ان کے ذریعے ایک فوجی اڈے کی تشخیص دینا، کہ جس کے آس پاس دہشت گرد بھی موجود ہیں ، بہت آسان کام ہے- بہرحال امریکہ کے اس قسم کے اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ ، یہ ملک دہشت گردی سے مقابلے کی توانائی نہیں رکھتا اور بلا شبہ امریکہ کے اس قسم کے اقدامات، علاقے کے عوام کے لئے تباہ کن نتائج کے حامل ہوں گے-
ابھی کچھ ہی عرصہ قبل افغانستان میں ، دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے اس ملک کے ایک اسپتال کو نشانہ بنانے کا امریکی اقدام، سب کے ذہنوں میں محفوظ ہے کہ جس کے نتیجے میں دسیوں مریض اور اسپتال کے عملے کے افراد جاں بحق ہوگئے تھے-
بلا شبہ شام میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے اور اس ملک کے فوجیوں کے قتل عام کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے- بہت سے سیاسی مبصرین قرائن و شواہد کے پیش نظر امریکہ کے تازہ ترین حملوں کو، شام میں امریکہ کے دشمنانہ اور مشکوک مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں-
شام میں رونما ہونے والی صورتحال اور اس کے سلسلے میں امریکی اقدامات پر ایک نظر ڈالنے سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکہ کا مقصد شامی فوجیوں کو کمزور کرنے اور دہشتگردوں کو موقع اور فرصت فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس سلسلے میں وہ جنگ بندی اوردیگر ملکوں میں اپنے ہاتھوں انجام پانے والی بربریت کو غیرعمدی بتانے جیسے حربوں کے ذریعے ، مختلف ملکوں میں اپنی دشمنانہ پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے-
یہ بات مسلم اور واضح ہے کہ حالیہ ہفتوں میں شامی فوج نے شام کے مختلف علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور شام کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں نے امریکہ سمیت دہشت گردی کے حامی ملکوں کی نیندیں اڑا دی ہیں-
ایسے عالم میں امریکہ جنگ بندی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے، شام میں دہشت گردی مخالف کاروائیوں میں خلل اور رکاوٹ ڈالنے کے ذریعے، دہشت گردوں کو مضبوط کرنے کے مقصد سے ان کو ہتھیار اور فوجی سازو سامان پہنچانے میں کوشاں ہے-
ماضی میں امریکی کارکردگی نے ثابت کردیا ہے کہ گذشتہ دنوں میں جنگ بندی کی آڑ میں امریکہ نے شامی عوام کو امداد پہنچانے کے بہانے، دہشت گردوں کو مزید تباہ کن ہتھیاروں سے مسلح کیا ہے-
بہرصورت امریکہ نے یہ جارحانہ کاروائیاں جس مقصد سے بھی کی ہوں ان کا فائدہ صرف دہشت گردوں کو پہنچ رہا ہے اور وہ مختلف علاقوں میں مضبوط ہو رہے ہیں اور اس صورتحال کے جاری رہنے سے علاقے منجملہ شام کا بحران، بدترین اور ناگفتہ بہ صورتحال اختیار کرجائے گا-