ہندوستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر پاکستان کا ردعمل
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کابل اور نئی دہلی کے درمیان تعاون میں فروغ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ، افغانستان کی زمین پاکستان کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کرے-
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ موقف افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کے ہندوستان کے دو روزہ دورے اور اس میں دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ نیز اقتصادی و سیکورٹی تعاون کے بارے میں ہنلدوستان کے اعلی حکام کے درمیان گفتکو پر ردعمل میں سامنے آیا ہے- ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تعاون میں فروغ عام طور پرحکومت پاکستان کے منفی ردعمل سے روبرو ہوتا ہے- پاکستان اور ہندوستان کہ جو ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت مختلف میدانوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ، اپنا علاقائی اثر و نفوذ بڑھانے میں بھی ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی کرتے ہیں- افغانستان میں موجودگی کہ جو گذشتہ برسوں میں امریکہ ، چین ، روس اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتوں کے لئے مقابلے کا میدان بن گئی ہے ہندوستان اور پاکستان کے لئے بھی دوطرفہ مقابلہ آرائی کے تناظر میں نہایت اہم ہے- پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کی نظر میں افغانستان میں ان میں سے کسی ایک کے اثر و نفوذ میں اضافے کا مطلب ان دونوں حریفوں میں سے ایک کے علاقائی اسٹریٹیجک نفوذ میں کمی آنا ہے- افغانستان میں اپنی موجودگی اور اثر و نفوذ پیدا کرنے کے لئے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان رقابت ایسی حالت میں ہے کہ اسلام آباد کے مقابلے میں نئی دہلی کو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے افغان عوام اور حکومت میں زیادہ مناسب مقبولیت حاصل ہے- پاکستان اور افغانستان ان دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والی ڈیورنڈ لائن کے سلسلے میں تاریخی اختلافات رکھتے ہیں- حکومت افغانستان کی نگاہ میں ڈیورنڈ لائن کہ جو برصغیرمیں برطانوی استعمار کا ورثہ ہے قابل قبول نہیں ہے جبکہ پاکستان ڈیورنڈ لائن کو دونوں ملکوں کی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے پرتاکید کرتا ہے- پاکستان پر افغانستان میں دہشت گردی کی حمایت کرنے اور اس ملک میں قیام امن کے عمل کے سلسلے میں عدم صداقت کا الزام ، کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں ایک قسم کا عدم استحکام پیدا ہونے کا باعث بنا ہے-جبکہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان اس طرح کا کوئی اختلافی مسئلہ نہیں ہے اورافغانستان کی حکومت اور عوام کی نظر میں نئی دہلی ، افغانستان کی تعمیرنو اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا حامی ہے - ہندوستان اور پاکستان کے سلسلے میں افغان حکومت اور عوام کی سوچ میں نمایاں فرق اس بات کا باعث بنا ہے کہ نئی دہلی اور کابل کے تعلقات میں فروغ کی مناسب زمین ہموارہو جائے- ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک پاکستان کی دہشت گردی مخالف پالیسیوں کے سلسلے میں افغانستان کا اعتماد بحال نہ ہوگا اس وقت تک کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعاون کے مختلف میدانوں میں پاکستان کی موجودگی کا امکان فراہم نہ ہوگا- واضح ہے کہ افغانستان کی حکومت اور قوم میں پاکستان کے سلسلے میں بدگمانی اس بات کا باعث ہوگی کہ اسلام آباد ، نئی دہلی کے ساتھ علاقائی مقابلہ آرائی کے عمل میں ہندوستان سے پیچھے رہ جائے- البتہ ان حالات میں افغانستان کو امید ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعاون میں فروغ کابل کے سلسلے میں پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی پیدا ہونے کا باعث ہوگا -