امریکہ میں گذشتہ دو روز میں دہشتگرانہ بم دھماکے، انتخابی فضا متاثر
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i249094-امریکہ_میں_گذشتہ_دو_روز_میں_دہشتگرانہ_بم_دھماکے_انتخابی_فضا_متاثر
امریکہ میں گذشتہ دو روز میں ہونے والے دہشتگرانہ حملوں نے امریکہ میں انتخاباتی فضا کو متاثر کر رکھا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۹, ۲۰۱۶ ۰۹:۲۷ Asia/Tehran
  • امریکہ میں گذشتہ دو روز میں دہشتگرانہ بم دھماکے، انتخابی فضا متاثر

امریکہ میں گذشتہ دو روز میں ہونے والے دہشتگرانہ حملوں نے امریکہ میں انتخاباتی فضا کو متاثر کر رکھا ہے۔

ری پیبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے بم دھماکوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات پر سخت موقف اپنانا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے نیویارک اور نیوجرسی میں بم دھماکوں اور مینے سوٹا میں چاقو سے حملوں کو دہشتگردانہ کارروائیاں قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہرین کی رائے سامنے آںے تک اظہار خیال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ان نظریات سے امریکہ کے  دو صدارتی امیدواروں کا الگ الگ نقطہ نظر معلوم ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعت ری پبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق موجودہ حکومت کی انسداد دہشتگردی کی پالیسیاں ناکارہ ہیں اور ان سے شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ، قدامت پسندوں اور ری پبلکن پارٹی کے رہنماوں کے ساتھ  یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ گذشتہ آٹھ برسوں میں   دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطروں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے یہاں تک کہ امریکہ میں دہشتگردی کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال سے  آہنی طریقے سے نمٹنا چاہیے۔ ان آہنی اقدامات میں سرحد پر حائل دیوار بنانا، امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانا اور مشرق وسطی میں داعش کے خلاف اسمارٹ ایٹم بموں کا ا ستعمال اور دیگر وسیع اقدامات شامل ہیں۔ 
ادھر ہلیری کلنٹن نے جو اوباما کے نقش قدم پر چلیں گی، صبر و تحمل سے کام لینے پر تاکید کرتے ہوئے عجلت پسندانہ اقدامات سے پرہیز کرنے کی بات کی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کی کوشش ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی انسداد دہشتگردی کی پالیسیوں اور پروگراموں کو ھدف تنقید نہ بنائیں کیونکہ چار برس پہلے تک وہ خود اوباما انتنظامیہ میں وزیر خارجہ رہ چکی ہیں اس بنا پر کلنٹن حالیہ دہشتگردانہ واقعات سے نمٹنے کے سلسلے میں اسی راستے پر چلنا چاہتی ہیں جس پر اب تک اوباما انتظآمیہ چلتی آئی ہے، البتہ اس کی توقع کی جا سکتی ہے کہ امریکہ میں خوف و وحشت کی فضا اور دہشتگردانہ حملوں سے خوف میں شدت آنے سے رائے عامہ ایسے گروہ یا فرد کی سمت مائل ہو سکتی ہے جو دوسروں سے زیادہ امن اور سکیورٹی قائم کرنا کا دعویدار ہو۔ اس دلیل کے ساتھ ٹرمپ اس وقت موجودہ لڑکھڑاتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال پر تنقید کرکے دہشتگردی کے خلاف طاقتور اور پختہ عزم کی حامل شخصیت کے طور پر ظاہر ہو سکتے ہیں جبکہ ہلیری کلنٹن موجودہ صورتحال کی علامت کے طور پر یہ کوشش کریں گی کہ ٹرمپ کے نسل پرستانہ اور تارکین وطن کے خلاف نظریات کو تشدد اور دہشتگردانہ اقدامات کی نئی لہر کا سبب قراردیں۔

اس کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ ہلیری کلنٹن کی یہ چال ان ووٹروں کو راضی کر پائے گی جو موجودہ صورتحال سے ناراض ہیں اسی بنا پر یہ توقع کی جانی چاہیے کہ آئندہ آٹھ ہفتوں میں امریکہ میں ممکنہ طور بدامنی میں اضافہ ہو سکتا ہے اوراس سے ڈونالڈ ٹرمپ کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے مگر یہ کہ اس باقی ماندہ مدت میں باراک اوباما کی حکومت اپنی سکیورٹی مشینری کے حق میں جو کہ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کرنے والی مشینری ہے، رائے عامہ کا اعتماد بحال کر سکے۔