مصر میں مخالفین کا ناطقہ بند
مصر کی فوجداری عدالت نے انسانی حقوق کے کچھ کارکنوں اور غیر سرکاری اداروں کے اثاثے منجمد کر دیئے ہیں-
مصر کی فوجداری عدالت نے اس ملک کے تین غیرسرکاری اداروں اورانسانی حقوق کی تین سرگرم شخصیتوں کے اثاثے منجمد کرنے کا فرمان جاری کردیا ہے- مصری صحافی حسام بہجت ، معروف وکیل اور نقاد مصطفی الحسن اور عبدالحافظ طایل کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شامل ہے جن کے اثاثے عدلیہ نے ضبط کئے ہیں جبکہ قاہرہ کے انسانی حقوق کے مرکز، ہشام مبارک قانونی انسٹی ٹیوٹ اور تعلیمی حق کا مرکز ان اداروں میں سے ہے جن کے اثاثے منجمد کئے گئے ہیں- مصری حکام، سرگرم شخصیتوں پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش اور انھیں مصر میں پائے جانے والے گھٹن کے ماحول کے خلاف احتجاج جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں- گذشتہ مہینوں میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے حالیہ مہینوں میں مصر کی سرگرم شخصیتوں کی سرکوبی تیز کردی ہے جس کے باعث اس ملک میں گھٹن کا ماحول بڑھ گیا ہے- مصر میں مخالفین کی سرکوبی میں شدت ایسی حالت میں جاری ہے کہ اس ملک کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کا قانون پیش کرکے مصر کو مزید گھٹن کے راستے پرڈالنا چاہتی ہے- دہشت گردی کے خلاف جنگ کے قانون کی بنیاد پرحکومت کو دہشت گردی کی حمایت کے بہانے کسی کو بھی گرفتار کرنے اور کسی بھی مخالف گروہ ، تنظیم اور ادارے کو دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں بند کرنے کا حق ہے- صحافتی حلقوں کا خیال ہے کہ مصری حکومت ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اس قانون کو ایسا منصوبہ سمجھتی ہے کہ جس کی بنیاد پر آزادی بیان سلب اورعوامی شہری و قانونی ادارے سرکاری تنظیموں اور اداروں میں تبدیل ہو جائیں گے- بہت سے مصریوں کا خیال ہے کہ ملک میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ معزول صدر حسنی مبارک کے دورحکومت سے زیادہ مختلف نہیں ہے - مصری عوام ، السیسی کو ایسی بغاوت کا لیڈر سمجھتے ہیں کہ جس نے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو کہ جو آزاد انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آئے تھے ، معزول کردیا- السیسی نے حالیہ مہینوں میں شہری آزادی کو محدود کرنے والے قوانین وضع کرکے آہستہ آہستہ اقتدار میں فوجیوں کی گرفت مضبوط بنانے کی جانب قدم بڑھایا ہے جیسا کہ معزول صدر حسنی مبارک کے دور اقتدار میں ہو رہا تھا - سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ السیسی چاہتے ہیں کہ حکومت اور معاشرے کے امور کو پوری طرح ااپنے کنٹرول میں لے لیں اور یہ وہ موضوع ہے جو مصر کے معزول صدر حسنی مبارک اور انورسادات جیسے ڈکٹیٹروں کے دور حکومت کی یاد دلاتا ہے-