اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اکہترواں سربراہی اجلاس
ااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اکہترواں سربراہی اجلاس
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکہترویں سربراہی اجلاس کے موقع پر شام کے نام نہاد دوستوں کا اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس پر کشیدگی اور تناؤکا سایہ چھایا رہا اور بغیر کسی نتیجے کے ناکام رہا۔ یہ نشست شام میں ایک ہفتے کی ہمہ گیر جنگ بندی کے خاتمے کے بعد امریکی وزیر خارجہ اور روسی وزیر خارجہ کی صدرات میں منعقد ہوئی تھی۔ منگل کو اس نشست کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے بس اسی جملے پر اکتفا کی کہ شام میں اب بھی جنگ بندی کی امید ہے۔
۔جس جنگ بندی معاہدے پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اتفاق کیا تھا اس کی ناکامی کا سایہ نیویارک اجلاس پر بری طرح چھایا ہوا تھا اور امریکی اور روسی وزرا خارجہ نے ایک دوسرے کو اس کی ناکامی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ نیویارک میں شام کے بارے میں نشست میں شرکت کرنے والوں نے اس مسئلے پر اتفاق کیا ہے کہ تشدد کے واقعات کے باوجود جان کیری اور سرگئی لاوروف کے اتفاق سے حاصل شدہ جنگ بندی معاہدے کو لاگو رہنا چاہیے۔ شام کا بحران اپنے چھٹے برس میں داخل ہوگا ہے جس سے پتہ چلتا ہےکہ امریکہ اور عالمی برادری اس کے حل میں ناکام رہے ہیں کیونکہ دہشتگردی کے تعلق سے ان کی کوئی متفقہ پالیسی نہیں ہے ایسی صورتحال میں کوئی بھی راہ حل خواہ وہ جان کیری اور سرگئی لاوروف کی جنگ بندی ہی کیوں نہ ہو مکمل طرح سے ناکام رہے گی۔ امریکہ نے کافی کوشش کی ہےکہ یہ ظاہر کرے کہ وہ شام کے بحران کو حل کرنا چاہتا ہے لیکن عملی طور پر حقائق کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں۔ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ کے چودہ گھنٹوں کے مذاکرات کے نتیجے میں شام میں ایک ہفتے کی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جو پیرکے دن ختم ہوگیا اور اس سے عملی طور پر امریکہ اور روس کے اھداف حاصل نہیں ہوئے۔ اس جنگ بندی معاہدے میں جو ایک ہفتے تک لاگو رہا بے اعتمادی اس کا بنیاد عنصر تھا اور عملی طور سے شام کے محاذوں پر کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔جنگ بندی کے دوران دہشتگردوں نے حلب میں فوج کے ٹھکانوں اور عام شہریوں کے علاقوں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ حلب کے راستے میں انسان دوستانہ امداد پر مبنی کاروان پر حملہ شام کے بحران کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے اس کے علاوہ اس سے دہشتگردوں کی تقسیم بندی کا بھی پتہ چلتا ہے ۔جبھۃ النصرۃ کو اگرچہ روس اور امریکہ کے وزرا خارجہ نے حالیہ مذاکرات میں دہشتگرد قراردیا لیکن (اس سے وابستہ گروہوں اور نام نہاد اعتدال پسند مسلح گروہوں میں فرق کرنا دشوار ہے کیونکہ امریکہ نے جن گروہوں کو اعتدال پسند قراردے کر ان پر سرمایہ کاری کی ہے ان کا اور دیگر تکفیری دہشتگردوں کا ھدف مشترکہ ہے اور وہ بشار اسد کی حکومت کے خاتمے اور شام کی فوج کو کمزور بنانے سے عبارت ہے۔ ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران شام کی فوج کے ٹھکانوں پر حملے کرنا اس کے علاوہ حلب کے راستے میں امدادی کاروان پرحملہ اور وقت سے غلط فائدہ اٹھا کر دہشتگردوں کا اپنی تنظیم نو کرنا یہ ظاہر کرتا ہے شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کا ھدف ایک ہے اور وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں خواہ اپ انہیں کتنے ہی ناموں سے نہ پکاریں۔ شام میں گراونڈ ریالیٹیز یہ ہیں کہ اب تک عملا اور حقیقی معنی میں جنگ بندی معاہدے پرعمل نہیں کیا گیا ہرچند جان کیری یہ کہتے پوری مایوسی سے یہ کہتے کیوں نہ سنے جائیں کہ شام میں جنگ بندی کی اب بھی امید ہے۔