ایران میں ہفتہ دفاع مقدس کا آغاز
اکیس ستمبر ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کا دن ہے اسی لئے اس تاریخ سے پورے ہفتہ کو "ہفتہ دفاع مقدس "کے نام سے جانا جاتا ہے۔
31 شہریور 1359 ہجری شمسی مطابق 21ستمبر 1980 کے دن تھران کے وقت کے مطابق دوپہر کے دو بجے صدام کی فوج کے جنگی طیاروں نے دارالحکومت تھران کے مہرآباد ایئرپورٹ کے ساتھ ہی ایران کے دیگر آٹھ شہروں پر بمباری شروع کردی۔
صدام نے ایران کی فضائی اور زمین سرحدوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ہی تھران کو سرنگوں کرنے کی بات کی۔
عراق کے اس وقت کے وزیر اعظم طارق عزیز نے بھی ایران کی اندرونی صورت حال کا تجزیہ اور علاقے کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے عراق کو قبل از وقت والی جنگ میں کامیاب قرار دیا۔
امریکہ نے بھی ایسے وقت میں کہ جب عراق کے ساتھ اس کے تعلقات منقطع تھے، بغداد کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار کرلئے تا کہ ایران پر حملے کے حوالے سے صدام کی بھر پور حمایت کرسکے۔
اس وقت مسلط کردہ جنگ کو 36 سال کا عرصہ گزر رہا ہے، لیکن مسلط کردہ جنگ، تمام تر سختیوں، تلخیوں اور تباہی و بربادی کے باوجود، بہادری و دلیری اور سرفرازی کی ہمیشہ باقی رہنے والی یادوں کےساتھ ملت ایران کے سینوں میں محفوظ ہے۔
صدام نے سامراجی طاقتوں اور اسی طرح خلیج فارس کے علاقے کے بعض عرب ملکوں کی بھر پور مالی و لاجسٹک مدد و حمایت کے ساتھ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کو آٹھ برسوں تک جاری رکھا۔
ایران کی فوج، رضاکارفورس بسیج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ملت ایران کی پشتپناہی کے ساتھ مقدس اسلامی نظام اور اپنی قوم و وطن اور ناموس کی حفاظت کے لئے سب کچھ کیا اور ایسا کارنامہ انجام دیا جو دنیا کی تاریخ میں بالکل ویسا ہی چمکتا رہے گا جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔
ملت ایران نے دفاع مقدس کے دوران دشمن کے مقابلے میں ایسی تاریخ رقم کی کہ دشمن کو پوری دنیا میں عبرت کا نشان بنادیا۔
ایران کبھی اپنے ہمسایہ ملکوں اور علاقے کے لئے سیکورٹی خطرہ نہیں رہا ہے اور آئندہ بھی نہیں رہے گا، لیکن ایران نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی قسم کی جارحیت اور حملے کا جواب دینے کی بھر پور صلاحیت و طاقت رکھتا ہے۔
آج ایران، فوجی طاقت کے لحاظ سے ایک ایسے مقام پر فائز ہے کہ علاقے کے سیکورٹی توازن اور امن و استحکام کے تحفظ میں اسکی ایک اہم حیثیت کا مالک ہے۔
عراق اور شام میں فوجی مشیروں کی حد تک ایران کی موجودگی اور دہشت گرد گروہ داعش اور دہشت گردی کے مقابلے کے لئے ایران کی تاکید، اس نکتہ پر دلالت کرتی ہے کہ ایران کی دفاعی طاقت، صرف ایرانی سرحدوں تک محدود نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران، ضرورت پڑنے پر سیکورٹی کے تحفظ کے لئے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا رہے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے آج دفاع مقدس کے دوران حاصل ہونے والے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے خلاف سامنے آنے والی دہمکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے اور نہ صرف فوجی طاقت کے لحاظ سے، ممتاز مقام پر کھڑا ہوا ہے بلکہ علاقے کے سیکورٹی توازن اور امن و استحکام کے تحفظ اور دشمن کی دہمکیوں کا منہ توڑ جواب دینے کی بھی بھرپور پوزیشن میں ہے۔
فوج اور فوجی طاقت، دوسروں کو دہمکانے، جارحیت اور تسلط کے لئے نہیں ہوتی بلکہ فوجی طاقت و توانائی، دشمن کے مقابلے میں طاقت کے توازن کے معنی میں ہے اور ضرورت پڑنے پر اس طاقت کا استعمال دہمکیوں کے مقابلے میں دفاعی اقدامات کے دائرے میں انجام پانا چاہیۓ۔
اس لحاظ سے دشمن کے مقابلے میں ایران کی دفاعی طاقت، دشمن کے ساتھ مقابلے کے لئے ایک اسٹراٹیجیک ضرورت کے عنوان سے ترقی کے مراحل طے کررہی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے ایران کی مسلح افواج کے مقامی سطح پر تیار کیئے جانے والے فوجی سازو سامان کی نمائش کے موقع پر دفاعی توانائی میں اضافے کے سلسلے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ دنیا پر حکمفرما تسلط پسند اور اخلاق اور ضمیر سے عاری طاقتیں، ملکوں پر حملے اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام کرنے میں زرہ برابر بھی خوف محسوس نہیں کرتیں، اس لئے دفاعی صنعت کا فروغ مکمل طور پر ایک فطری عمل ہے، کیونکہ جب تک یہ طاقتیں دوسرے ملک کی قوت و طاقت کو محسوس نہیں کریں گی، امن و استحکام برقرار نہیں ہوسکتا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے فوجی ڈاکٹرائن کی بنیاد پر عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ اس نے سیکورٹی کے لحاظ سے علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر عمل کیا ہے اور اپنے اوپر ہونے والے کسی بھی حملے کا دندان شکن جواب دینے کی مکمل صلاحیت حاصل کرلی ہے۔
اس روسے ہفتہ دفاع مقدس کے آغاز کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی عظیم الشان پریڈ، اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں اور دوستوں کے لئے ایک واضح پیغام کی حامل ہے۔
یہ پیغام دشمنوں کو یہ بتارہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی دفاعی طاقت ترقی و پیشرفت کی چوٹیاں سرکرچکی ہے۔
جبکہ دوستوں کے لئے پیغام یہ ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ملکوں کے دفاع کے لئے ایک مطمئن پناہ گاہ ہے۔