اوباما کا اعتراف شکست
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i249535-اوباما_کا_اعتراف_شکست
امریکی صدر باراک اوباما نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ اکیسویں صدی کے بحرانوں کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۷:۱۰ Asia/Tehran
  • اوباما کا اعتراف شکست

امریکی صدر باراک اوباما نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ اکیسویں صدی کے بحرانوں کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے-

امریکی صدر باراک اوباما کا عالمی مسائل کو حل کرنے کے لئے تعاون کی ضرورت پر تاکید اور بین الاقوامی مسائل کو یکطرفہ طور پر تنہا حل کرنے میں امریکہ کی ناتوانی کا اعتراف ، واشنگٹن کی اس روش کی شکست کا ثبوت ہے جسے اس نے سن دوہزار کے عشرے میں اپنی خارجہ پالیسی کے اکثر ڈائیلاگ کا حصہ بنا رکھا تھا- امریکی ناقدین نے واشنگٹن کے یک قطبی نظام کے نظریئے اور عالمی مسائل میں اس کے خودسرانہ اقدامات کوخاص طور پرمارچ دوہزار تین میں جارج بش ڈبلیو بش کے دور میں عراق پراس کے یکطرفہ حملے کے بعد سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا - ناقدین کے بقول امریکہ خود کو ڈیموکریسی اور آزادی کا ہیرو سمجھتا ہے اور دنیا کی قیادت کا دعوی کرتے ہوئے دوسروں کی ذمہ داریاں طے کرتا ہے - امریکہ اس کے ساتھ ہی خود کو بین الاقوامی پولیس مین سمجھتا ہے اور سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر اپنے کو مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں کرنے کا حقدار خیال کرتا ہے- اس کی واضح مثال دوہزار تین میں عراق پر امریکہ کا حملہ تھا جو اقوام متحدہ کی مخالفت کے باوجود انجام پایا- سن دوہزار چودہ میں داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل اور شام پر فضائی حملے بھی دمشق کی اجازت کے بغیر انجام پائے تھے- روس اور چین جیسے ممالک کا خیال ہے کہ امریکہ کی یہ کارکردگی ، سلامتی کونسل کی ذمہ داریوں میں خلل اور عالمی سطح پر افرا تفری پھیلنے کا سبب بنتی ہیں - امریکہ کی اس پالیسی کی اکثر ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے مذمت بھی کی گئی ہے- دوہزارایک میں گیارہ ستمبرکے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے عراق اور افغانستان پر ریپبلکنس کا حملے سے بھی امریکہ کی یک قطبی نظام کی پالیسی کے نتائج مزید واضح ہوگئے- گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ توکسی حد تک بین الاقوامی ہماہنگی کے ساتھ انجام پایا تھا لیکن ان حملوں کو پندرہ سال گذرنے کے بعد بھی نہ صرف یہ کہ افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اس ملک میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے- یہ موضوع افغانستان کے پڑوسیوں خاص طور سے وسطی ایشیا اور روس کی معاشرتی زندگی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے - دوہزارتین میں عراق پر امریکہ کا حملہ بھی اس ملک میں بھاری تباہی ، تکفیری دہشت گردی کے پروان چڑھنے اور داعش کے سامنے آنے پر منتج ہوا- لیبیا میں بھی خاص طور سے امریکہ نے نیٹو کے تناظر میں سلامتی کونسل کی اجازت سے مداخلت کی لیکن اس کا حتمی نتیجہ اس ملک میں مکمل افرا تفری اور بحران کی صورت میں سامنے آیا- گذشتہ برسوں کے دوران امریکہ کی یک قطبی نظام کی پالیسی کے تحت انجام پانے والے یکطرفہ اقدامات پوری طرح منفی اور المناک رہے ہیں- اس وقت بھی باوجود اس کے کہ اوباما نے بین الاقوامی مسائل کے حل کے لئے اقوام متحدہ میں چند قطبی نظام کی پالیسی اختیار کرنے اورعالمی تعاون کی بات کی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اپنی بین الاقوامی پالیسیوں میں چند  قطبی نظام کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگا یا ہمیشہ کی طرح پیچیدہ عالمی مسائل کے سلسلے میں دوسرے ممالک کو بھی اپنی پالیسیوں کی پیروی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گا-