ہندوستان و پاکستان سے چین کی اپیل
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں کشیدگی میں شدت آنے کے ساتھ ہی چین نے دونوں ملکوں سے صبر و تحمل سے کام لینے اپیل کی ہے-
چین کی یہ درخواست ایسی حالت میں سامنے آئی ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ایک اڈے پر مسلح افراد کے حملے میں اٹھارہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں- ہندوستان، پاکستان پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہا ہے- اسلام آباد، ہندوستان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دو طرفہ تعاون پر تاکید کرتا ہے- ہندوستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حملے سے متعلق دستاویزات اور ثبوت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی حلقوں کے سامنے بھی پیش کرے گا تاکہ اس ملک کو پہلے سے زیادہ الگ تھلگ کر سکے جبکہ پاکستان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے بحران اوراس علاقے کے عوام پر ہونے والے مظالم کو عالمی اداروں میں پیش کرکے اس مسئلے کے بنیادی حل کے لئے ہندوستان پر دباؤ ڈالے گا- سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بحران کشمیر، نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو متاثر کئے ہوئے ہے بلکہ اس سے علاقے کی سیکورٹی کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے- کیونکہ دہشت گرد گروہ، اپنے حملے تیز کرکے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا باعث ہوتے ہیں- ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر یا ہندوستان کے اندر کسی دہشت گردانہ حملے کے بعد نئی دہلی فورا شک کی انگلی پاکستان کی جانب اٹھاتا ہے اور اس ملک پر دہشت گردانہ حملے میں ملوّث ہونے کا الزام لگاتا ہے- ان حملوں میں تیزی آنے اور ہندوستانی فوجیوں کے جانی نقصان پر پاکستان کے خلاف ہندوستان کے الزامات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اوراسی موضوع نے علاقائی اور عالمی حلقوں کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہر طرح کی ممکنہ جنگ کے بارے میں تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے- ایسا نظر آتا ہے کہ جس چیز نے چین کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے نتائج کے بارے میں زیادہ تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ کشمیر کی کنٹرول لائن کے قریب پاکستانی اور ہندوستانی جنگی طیاروں کی مشقیں ہیں- پاکستان کی قومی ایئرلائن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے نہایت قریب واقع پاکستان کے شمالی علاقے گلگت اور اسکردو شہروں کے ہوائی اڈوں پر اترنے والی اپنی تمام پروازوں کو منسوخ کر دیا ہے- کشمیرکی کنٹرول لائن کے قریب ہندوستان کے جنگی طیاروں کی تعیناتی کے ساتھ ہی پاکستان نے بھی اس کے نزدیک اپنے ایئرپورٹ خالی کر دیئے ہیں تاکہ اپنی فضائیہ کے جنگی طیاروں کی مشقوں کے لئے کوئی جگہ فراہم کرسکے- اس بات کے پیش نظر کہ ہندوستان اور پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی طرح کی جنگ چھڑنے کے ناقابل پیشگوئی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں- درایں اثنا چین کو بھی اس بات پر تشویش ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی جاری رہنے سے مغربی طاقتیں کشمیر کے زیرانتظام کشمیر کی سیکورٹی سمیت مختلف بہانوں سے اپنی فوجیں اس علاقے میں روانہ کر سکتی ہیں جو علاقے کی صورت حال میں شدت پیدا ہونے کا باعث بنیں گی- بہرحال علاقائی حلقوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ کشمیر کے سلسلے میں اپنے موقف میں لچک پیدا کرکے بحران کے بنیادی حل کے لئے مذاکرات شروع کرنے کی زمین ہموار کرے- اس مسئلے کی جانب سے ہندوستان کی بے توجہی اس بات کا باعث بنی ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کے لئے اس علاقے کے عوام سے رجوع کرنے کی اپنی قرارداد پرعمل کرانے کے لئے ہندوستان پر دباؤ ڈالے-