عراق میں عوامی فورس کی موجودگی پر حکومت عراق کی ٹھوس حمایت
حکومت عراق نے عوامی رضاکار فورس "الحشد الشعبی" کے خلاف خلیج فارس تعاون کونسل کے ذرائع ابلاغ کی یلغار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس عوامی فورس کی شجاعت و فداکاری اور مزاحمت نہ ہوتی تو داعش دہشت گرد، اب تک بہت سے عرب ملکوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتے-
عراق کی وزرات خارجہ نے ایک بیان میں ، عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے خلاف نیویارک میں خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے دو روز قبل کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کونسل کا بیان اس امر کا غماز ہے کہ یہ کونسل ،علاقے کے مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ نہیں لیتی اور ایسے بیانات دیتی ہے جو عقل و منطق سے دورہے -
عراق کی وزارت خارجہ نے اپنے اس بیان میں داعش کے توسط سے اس ملک کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی میں عوامی رضا کار فورس کے کردار اور دیگرعلاقوں میں اس کے اثر و رسوخ کی روک تھام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوامی رضاکار فورس کی شجاعت و فداکاری اور مزاحمت نہ ہوتی تو بہت سے عرب ممالک اس وقت داعش دہشت گر گروہوں کی جولانگاہ بن گئے ہوتے-
حالیہ مہینوں میں، خاص طور پر مغربی عراق کے الرمادی اور فلوجہ جیسے اسٹریٹیجک شہروں کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے بعد ، امریکہ اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے ذرائع ابلاغ نے ایک بار پھر داعش کے خلاف جنگ میں ان ملکوں کے عزائم سے متعلق شکوک وشبھات میں اضافہ کردیا ہے-
اس کے ساتھ ہی عراق کے سینئر عہدیداروں خاص طورپر عراق کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر وزیر اعظم حیدر العبادی نے بارہا عوامی رضاکار فورس کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عوامی فورس کو ہٹانے کے سلسلے میں بیرونی عوامل کے دباؤ کو قبول نہیں کریں گے -
ایسے میں جبکہ جون دوہزار چودہ میں بعض عراقی شخصیات کی خیانت کی بناء پر داعش دہشت گردوں نے اس ملک کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا ، حکومت عراق نے الحشد الشعبی سے موسوم عوامی فورس تشکیل دی جس نے اس ملک کے عوام کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کے لئے بڑی کامیابی حاصل کیں-
ان کامیابیوں کے حصول اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حشد الشعبی کے موثر کردار پر عراقیوں کی تاکید کے بعد بیرونی ملکوں خاص طور پر امریکہ اور سعودی عرب نے اس گروہ پر جارحیت، چوری یا فرقہ واریت کا الزام لگاکر، حکومت عراق سے مطالبہ کیا کہ حشد الشعبی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال نہ کرے-
اسی سبب سے حکومت عراق نے اس بات کو درک کرتے ہوئے، کہ حشد الشعبی سے مخالفت کی اصل وجہ ، حکومت کو حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ناراضگی ہے نہ کہ عوامی فورس حشد الشعبی سے، اس عوامی فورس کو مزید تقویت پہنچانے اور اسے مضبوط بنانے کو اپنی ترجیحات میں قرار دیا اور کہا کہ حشد الشعبی، مسلح افواج میں شامل رہے گی اور اس کی پوزیشن کو فوجی ڈھانچے میں مزید مستحکم بنایا جائے گا-
در حقیقت وہ چیز جس نے آج عراقیوں کو داعش سے مقابلے میں متحد کردیا ہے ، عراق کی ارضی سالمیت کے لئے پایا جانے والا ٹھوس خطرہ ہے اس لئے کہ سعودی عرب اور امریکہ جیسے ممالک، ان دہشت گردوں کی حمایت کے ذریعے عراق اور علاقے میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے درپے ہیں-