یواین او سربراہی اجلاس سے صدر روحانی کا خطاب
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i249838-یواین_او_سربراہی_اجلاس_سے_صدر_روحانی_کا_خطاب
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاکہترویں اجلاس سے خطاب میں ایران کی علاقائی اور عالمی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۲۳, ۲۰۱۶ ۱۲:۳۶ Asia/Tehran
  • یواین او سربراہی اجلاس سے صدر روحانی کا خطاب

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاکہترویں اجلاس سے خطاب میں ایران کی علاقائی اور عالمی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات  کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےاکہترویں اجلاس سے خطاب میں ایران کی علاقائی اور عالمی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں بڑھتے ہوئے کشت وکشتار  و تشدد کی طرف بھی اشارہ  کیا۔ صدر جناب حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس  سے خطاب میں کہا کہ اسی شہر نیویارک میں پیش آنے والے المناک دہشتگردانہ واقعات کو پندرہ برس سے زیادہ کا عرصہ ہورہا ہے جن سے سب متاثر ہوئے ہیں۔ صدر جناب حسن روحانی نے کہا کہ اس دن کوئی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ یہ واقعات، مشرق وسطی میں کہیں زیادہ بھیانک المیوں اور تباہ کن جنگوں اور دنیا میں بدامنی کے پھیلنے کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے دنیا کے ملکوں کے سربراہوں سے خطاب میں کہا کہ نیویارک میں دہشتگردانہ واقعات سے شروع ہونے والی صدی کو مشرق وسطی میں دشمنی کی آگ بھڑکانے اور دشمنانہ رسہ کشی کے ساتھ جاری نہیں رہنا چاہیے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی مراد نیویارک میں گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملے تھے۔ ان حملوں میں القاعدہ دہشتگرد گروہ نے امریکہ کے اہم اقتصادی اور فوجی مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔ گیارہ ستمبر کے واقعات نے امریکہ کی پالیسیوں کو بدل کر رکھ دیا اور اس کے ہاتھ  جنگ کی آگ بھڑکانے اور عراق و افغانستان پر لشکر کشی کا بہانہ آگیا۔ امریکہ کے حکام اور فوجی عھدیداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں پر پیشگی حملے امریکہ کی سکیورٹی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ادھر وائٹ ہاوس کے اتحادیوں نے بھی دہشتگردانہ حملوں سے بچنے کے لئے امریکہ کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا۔ گیارہ ستمبر کے واقعات مغربی ایشیا میں جنگوں کی آگ بھڑکانے کا سبب بنے، ایسی جنگیں کہ جن کے شعلے سب کچھ نگل گئے اور اب وہ کوئی جغرافیائی حدود میں بھی قید نہیں ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان اور عراق میں جو جنگیں شروع کی تھیں انہیں دہشتگردی کے خلاف پیشگی اقدامات کا نام دیا تھا۔ان جنگوں سے دہشتگردی کی لعنت کی بیخ کنی ہونے کے بجائے یہ لعنت ساری دنیا میں پھیل گئی۔

اب گیارہ ستمبر کے واقعے کو پندرہ برس ہورہے ہیں اور دنیا میں کہیں زیادہ بدامنی پھیل گئی ہے اور دنیا میں مشرق وسطی سے لے کر شمالی افریقہ تک اندھی دہشتگردی پھیل چکی ہے جس نے ساری دنیا میں وحشت پھیلا رکھی ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کا پلان القاعدہ کے انیس دہشتگردوں نے بنایا تھا لیکن دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں مغرب بالخصوص امریکہ کے اقدامات کے نتیجے میں اب ہزاروں کرائے کے قاتل داعش، جبھۃ النصرہ اور بوکوحرام اور دیگر دہشتگرد گروہوں میں دنیا کے مختلف علاقوں میں سرگرم عمل ہوگئے ہیں۔ ایسے حالات میں آپ کو مغرب کی پالیسیوں میں اس سوال کا جواب مل جائے گا کہ گیارہ ستمبر کے بعد دنیا میں دہشتگردی کے پھیلنے کے کیا اسباب ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی زور دے کر کہا ہے کہ انتہا پسندی، تشدد اور کسی سرحد میں محدود نہ رہنے والی دہشتگردی کو حالیہ پندرہ برسوں میں بڑی طاقتوں کی سکیوریٹی اسٹراٹیجی کا نتیجہ قراردیا جاسکتا ہے۔  گیارہ ستمبر کے واقعات کو پندرہ برس گذرنے کےبعد دنیا کی صورتحال، دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے دعوے کرنے والوں سے یہ کھ رہی ہے کہ دنیا کے کسی علاقے میں بدامنی قائم کرنے کی قیمت پر کسی دوسرے علاقے میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا، یہ کام نہ صرف ناممکن ہے بلکہ اس سے زیادہ بدامنی پھیلتی ہے۔