باراک اوباما کی جانب سے سعودی حکومت کے خلاف مقدمے کا بل ویٹو
امریکی صدر باراک اوباما نے اس بل کو ویٹو کر دیا ہے جس میں گیارہ ستمبر کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو سعودی عرب کے خلاف شکایت کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ اس بل کو امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا اور اسے بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے۔
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ اقدامات انجام دینے والے انیس دہشت گردوں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ امریکی کانگریس کی اکثریت کے رہنماؤں کو یقین ہے کہ ان کے پاس باراک اوباما کے ویٹو کو رد کرنے کے لیے مطلوبہ ووٹ موجود ہیں۔
صدراوباما نے بل کو ویٹو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل امریکہ کے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق دیگر امور پر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون محدود ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر کے اس بیان سے لگتا ہے کہ انھیں واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات پر اس بل کے منفی اثرات پڑنے کے بارے میں تشویش ہے خصوصا اس لیے کہ سعودی عرب نے مئی دو ہزار سولہ میں امریکی سینیٹ میں اس بل کی منظوری کے موقع پر یہ دھمکی دی تھی کہ وہ امریکہ کے خلاف جوابی اور انتقامی اقدامات کرے گا۔ سعودی عرب نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر اس بل کی حتمی منظوری دی گئی تو وہ امریکہ میں موجود اپنے تمام اثاثے فورا نکال لے گا۔
البتہ سعودی حکومت کے خلاف مقدمے کے اس بل کے بہت سے حامی اور مخالف بھی ہیں۔ اس بل کے حامی گیارہ ستمبر کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے حقوق پر زور دیتے ہیں اور ان ملکوں کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیتے ہیں کہ جنھوں نے گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملے کرنے والوں کی مدد کی تھی۔
اس بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس بل سے واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس سے ایسے انتقامی قوانین پاس ہو سکتے ہیں کہ جن سے ممکن ہے دوسرے ملکوں میں امریکی شہری یا بڑی امریکی کمپنیاں نشانہ بنیں۔
اس کے ساتھ ہی ساتھ وائٹ ہاؤس کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ اس بل کی منظوری کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتوں کو حاصل تحفظ کے بین الاقوامی اصول کی خلاف ورزی کے پیش نظر امریکہ کو دوسرے ملکوں کے عدالتی نظام سے نقصان پہنچے گا۔
گیارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں جاری ہونے والی رپورٹ کہ جس میں سے ان حملوں میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے بارے میں اٹھائیس صفحات نکال دیے گئے تھے، امریکی عوام کی توجہ کا باعث بنی۔ سعودی عرب گیارہ ستمبر کے واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔ جبکہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے بارے میں خفیہ دستاویزات کے منظرعام پر آنے سے ظاہر ہو گیا کہ اس کے باوجود کہ امریکی حکومت نے ہمیشہ سعودی عرب کو مشرق وسطی اور خلیج فارس میں اپنا اسٹریٹیجک اتحادی قرار دینے کی کوشش کی، لیکن عملی طور پر سعودی عرب نے کم از کم گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو مالی اور دیگر امداد فراہم کر کے امریکہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ خصوصا اس لیے کہ اس میں سعودی عرب کے بعض شہزادوں اور اعلی حکام کا ہاتھ ہے۔
امریکہ میں نومبر دو ہزار سولہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے اس کا انتخابی مہم پر اثر پڑے گا۔
ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اس بل کو اوباما کی جانب سے ویٹو کرنے کو ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف انتخابی حربے کے طور پر استعمال کریں گے۔ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اس اقدام کو امریکی شہریوں کے حقوق نظرانداز کرنے اور دہشت گردوں کے حامیوں کو انعام دینےکے مترادف قرار دیں گے۔ اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن باراک اوباما کے اس ویٹو کا دفاع کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اگرچہ توقع کی جا سکتی ہے کہ باراک اوباما کے اس اقدام کے نتیجے میں صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹوں میں کمی ہو گی۔ خصوصا اس لیے کہ شواہد اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی رائے عامہ، واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات پر نظرثانی اور اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث افراد کی حمایت اور مدد کے مقابلے میں اس حادثے کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ کے حقوق دلانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔