فلسطینی جوان استقامت پر کاربند
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i250120-فلسطینی_جوان_استقامت_پر_کاربند
فلسطینی جوانوں کے مقابلے میں اسرائیل کا ہواس باختہ ہونا فلسطین کے اکثر عوام خاص طور پر فلسطینی جوان، غاصب صہیونی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کی زد میں ہیں اور صہیونی حکومت اپنے تسلط پسندانہ اقدامات میں کسی بھی حد کی قائل نہیں ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۲۵, ۲۰۱۶ ۱۲:۱۴ Asia/Tehran
  • فلسطینی جوان استقامت پر کاربند

فلسطینی جوانوں کے مقابلے میں اسرائیل کا ہواس باختہ ہونا فلسطین کے اکثر عوام خاص طور پر فلسطینی جوان، غاصب صہیونی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کی زد میں ہیں اور صہیونی حکومت اپنے تسلط پسندانہ اقدامات میں کسی بھی حد کی قائل نہیں ہے۔

 

  فلسطینی جوانوں کے مقابلے میں اسرائیل کا ہواس باختہ ہونا فلسطین کے اکثر عوام خاص طور پر فلسطینی جوان، غاصب صہیونی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کی زد میں ہیں اور صہیونی حکومت اپنے تسلط پسندانہ اقدامات میں کسی بھی حد کی قائل نہیں ہے۔

صہیونی حکومت کی ان وحشیانہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے فلسطینی قیدیوں کی کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں دو ہزار سولہ میں غاصب صہیونی حکومت کے فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کی گرفتاریوں میں اسّی فیصد اضافے کی خبر دی  ہے۔

فلسطینی قیدیوں کی کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ غاصب صہیونی حکومت نے دو ہزار سولہ کے آغاز سے لے کر اب تک اٹھارہ سال سے کم عمر کے ایک ہزار فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق رواں سال گرفتار ہونے والے فلسطینی بچوں کی یہ تعداد دو ہزار پندرہ کی بہ نسبت اسّی فیصد زیادہ ہے۔

اس رپورٹ میں گرفتاری کے دوران فلسطینی بچوں کے ساتھ تشدد آمیز رویّہ اختیار کیئے جانے اور گرفتار ہونے والے فلسطینی بچوں کے خلاف مقدمے چلائے جانے کے طریقہ کار پر انتباہ دیتے ہوئے آیا ہے کہ   غاصب صہیونی حکومت بلاجواز گرفتاریوں اور باز پرس کے دوران فلسطینی بچوں پر بغیر الزام عائد کئے مقدمات چلائے جانے اور ان کو جسمانی ایذائیں  دینے جیسے اقدامات بھی کرتی ہے۔

غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں مزاحمت کے میدان میں فلسطینی بچوں اور جوانوں کی وسیع موجودگی اور فلسطینی نوجوانوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ غاصب صہیونی حکومت اپنی تمام تر تشدد آمیز کارروائیوں کے باوجود فلسطینی عوام خاص طور پر فلسطینی نوجوانوں کی آزادی کے تحریک کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

استقامت کے راستے پر کی جانے والی جدوجہد میں فلسطین کی جوان نسل کی وسیع موجودگی سے نشاندہی ہوتی ہے کہ تحریک انتفاضہ سے فلسطینی جوان نسل میں مزاحمت کا جذبہ بھر پور طریقے سے منتقل ہوا ہے اور یہ موضوع، غاصبوں کے مقابلے میں پائداری کی صورت استقامت کا ایک ثمرہ شمار ہوتا ہے۔

غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے میں فلسطین کی نئی نسل کی بے مثال مزاحمت نے، صہیونی حکومت کےان  تمام اندازوں کوخاک میں ملا دیا ہے، کہ اس کے  قبضے کے طول پکڑھ جانے کے نتیجے میں فلسطینی عوام تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اور اپنی جدوجہد چھوڑ دیں گے۔

فلسطینی جوانوں نے جو خود سے  نئی تحریک انتفاضہ شروع کی ہے وہ نہایت شدید ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فلسطین کی جوان نسل

 فلسطین کے نصب العین کی پابند ہے۔

فلسطینی جوانوں نے تحریک مزاحمت میں جان ڈال کر صیہونی حکومت کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا ہے کہ اسرائیل نے  فلسطینیوں کو ان کی سرزمیں پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ہے۔فلسطینی جوانوں نے صیہونی حکومت کو ہرطرح سے ناکام بنادیا ہے۔

جو چیز مسلم ہے یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں تحریک انتفاضہ کے ثمرات ہی فلسطین کے اھداف و مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن سکتے ہیں اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں صیہونی حکومت کے ساتھ سازشی رویوں کی شکست سے زیادہ سے زیادہ فلسطینی جوان صیہونی حکومت کے خلاف استقامت پر یقین کررہے ہیں اور اسے اپنا رہے ہیں۔ 

اسرائیل کے فوجی حکام نے بارہا اس بات کا اعتراف کیاہے کہ فلسطین کی جوان نسل جو قدس کی نئی تحریک انتفاضہ کی قیادت کررہی ہے گذشتہ نسلوں کے مقابلے میں بے باک اور نڈر ہے اور اسرائیل سے ذرہ برابر خوف نہیں کھاتی۔

غاصب صہیونی حکومت کے بعض حکام نے صراحت کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل  کے قبضے کے خاتمے اور آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کے لئے الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔

بعض عالمی اور علاقائی اداروں منجملہ ناوابستہ تحریک کی جانب سے سال دو ہزار سترہ کو فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے خاتمے کے سال کے عنوان سے موسوم کئے جانے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دو ہزار سترہ کو  فلسطین پر غاصبانہ قبضے کے خاتمے کے سال کا نام دیئے جانے پر مبنی تجویزوں نے فلسطینیوں کی امید میں اضافہ کردیا ہے۔