شام کے بارے میں امریکہ اور روس کے اختلافات
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر شام کے نام نہاد دوستوں کی کشیدگی سے بھری دو نشستوں اور حلب میں حالات کے مزید پیچیدہ ہونے کے بعد امریکہ کی درخواست پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے والا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر شام کے نام نہاد دوستوں کی کشیدگی سے بھری دو نشستوں اور حلب میں حالات کے مزید پیچیدہ ہونے کے بعد امریکہ کی درخواست پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے والا ہے۔اتوار کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کے شمالی شہر حلب کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔یہ نشست روس اور امریکہ کے اتفاق سے عمل میں آنے والی جنگ بندی کے ناکام ہونے اور حلب میں شدید جھڑپوں کے شروع ہونے کے بعد ہورہی ہے۔ شام میں حالیہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد الزام تراشی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے اور مغرب اس کوشش میں ہے کہ روس کو شام میں جنگ بندی کی ناکامی کا ذمہ دار قراردے۔
امریکہ اور یورپی یونین کے بعض وزرا خارجہ نے ہفتے کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ شام میں جنگ بندی قائم کرنا روس کی ذمہ داری ہے۔اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روس آزاد انسان دوستانہ امداد پہنچانے کی محفوظ راہداری فراہم کرے اور شام کی فوج کو بقول ان کے عام شہریوں پر بمباری کرنے سے باز رکھے اور اس طرح اقوام متحدہ کی سربراہی میں اقتدار کی منتقلی کے لئے از سر نو مذاکرات کے لئے ماحول ساز گار بنائے۔ اس مشترکہ بیان پر فرانس، اٹلی، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ کے وزرا خارجہ نے دستخط کئے ہیں۔ اس بیان میں روس کو دھمکاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روس کی ناتوانی اور اپنی ذمہ داریوں پر کاربند نہ ہونے کو زیادہ برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ روس اور امریکہ شام کے بحران میں دو اہم فریق مانے جاتے ہیں اور دونوں کے پاس سلامتی کونسل میں ویٹو پاور بھی ہے۔ یہ دونوں ممالک شام میں جنگ اور سیاست پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں تا کہ اپنے اھداف تک پہنچ سکیں۔ شام میں روس کی پالیسی یہ ہے کہ اس نے دہشتگردوں کے خلاف شام کی حکومت اور فوج کا پلڑا بھاری کردیا ہے اور امریکہ، روس کے ساتھ مذاکرات کے سہارے مختلف روشوں سے بشار اسد کے خلاف محاذوں کو مضبوط بنارہا ہے۔ اس تعاون کی بنیاد دہشتگردی سے مقابلہ اور سیاسی طریقے سے شام کےبحران کو حل کرنا ہے لیکن شام میں امریکہ اور روس کے اھداف مختلف ہیں۔ امریکہ اس تعاون کے تناظر میں بقول خود اعتدال پسند مسلح مخالفین کی مدد کرکے صدر بشار اسد کو ہٹانا چاہتا ہے جو صیہونی حکومت کے خلاف جاری محور استقامت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار کے حامل ہیں۔ دہشتگرد اور امریکہ کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ایک ہی سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں اور وائٹ ہاوس کی اسی پالیسی سے شام میں کسی بھی طرح کی جنگ بندی قائم نہیں رہ پاتی ہے۔جنگ بندی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرنے کی اجازت ہے لیکن یہ بات کہ نام نہاد اعتدال پسند مسلح گروہ دہشتگردوں کےساتھ مشترکہ ہدف رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ تعاون بھی کررہے ہوں اور ایک محاذ میں شامل ہوں اس سے ہر معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ شام میں روس اور امریکہ کے اتفاق سے حاصل ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے ناکام ہونے کے نتیجے میں حلب کی جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ شام کی فوج نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بدھ کو حلب کے مشرقی حصے کو کنٹرول کرنے کے لئے آپریشن شروع کیا تھا اور جنوبی حلب کے علاقہ شیخ سعید کو آزاد کرالیا، یاد رہے شیخ سعید کا علاقہ مشرقی حلب کا دروازہ کہلا تا ہے۔ روس اور حلب میں شام کی کامیابیوں کے خلاف امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کے وزرا خارجہ کے مشترکہ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ممالک دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے دائرے میں شام میں روس کے کردار سے خوش نہیں ہیں۔ امریکہ اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حلب کے محاذ پر جنگ کو اپنے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے حق میں موڑنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی ہمنوائی میں گذشتہ چند دنوں میں بعض یورپی حکام کے بیانات سے معلوم ہوتا ہےکہ شام میں جنگ بندی معاہدے کی شکست کے بعد بھی امریکہ بدستور روس کو اپنا حریف سمجھتا ہے تا کہ شام میں میدان جنگ میں پانسہ پلٹ کر اپنے اھداف تک پہنچ سکے۔ ایسے حالات میں اور اس امر کے پیش نظر کہ روس اور امریکہ شام کے تعلق سے گہرے اختلافات رکھتے ہیں ایسا نہیں لگتا کہ سلامتی کونسل کی نشست سے فریق مقابل کی توقعات پوری ہونگی۔