ہندوستان اور پاکستان کی ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i250189-ہندوستان_اور_پاکستان_کی_ایک_دوسرے_کے_خلاف_الزام_تراشی
پاکستان نے، ہندوستانی وزیر اعظم کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ پاکستان دہشت گردی کا حامی ہے ، ہندوستان کو ریاستی دہشت گردی کا کھلا مصداق قرار دیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۲۵, ۲۰۱۶ ۱۶:۵۳ Asia/Tehran
  • ہندوستان اور پاکستان کی ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی

پاکستان نے، ہندوستانی وزیر اعظم کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ پاکستان دہشت گردی کا حامی ہے ، ہندوستان کو ریاستی دہشت گردی کا کھلا مصداق قرار دیا ہے-

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے ریاستی دہشت گردی بدستور اس ملک کے زیرانتظام کشمیر میں جاری ہے-

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ روز، شمالی کیرالہ کے تاریخی شہرکوزی کوڈ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اڑی کے فوجی مرکز پر دہشت گردوں کے حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، پاکستان کو دہشت گردی کا حامی ملک قرار دیا - اس حملے میں ہندوستان کے اٹھارہ فوجی ہلاک ہوگئےتھے- نریندر مودی نے کہا کہ  پاکستان ، افغانستان اور بنگلادیش میں بھی دہشت گردانہ حملے کرا رہا ہے-

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہندوستان کی حکومت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا ہے اوراسلام آباد نے بھی ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا ہے- ایسے میں جبکہ نئی دہلی،  اسلام آباد  پر اڑی حملے کا الزام عائد کر رہا ہے ، حکومت اسلام آباد نے اس حملے کا ذمہ دار ان افراد کو قرار دیا ہے جو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے پرتشدد اور خونریز واقعات سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے میں کوشاں ہیں-

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں گذشتہ نوجولائی سے شروع ہوئے پرتشدد مظاہروں میں اب تک تقریبا سو افراد جاں بحق اور ہزاروں افراد زخمی ہوچکے ہیں - مظاہرین کے خلاف ہندوستانی فورسیز کے ذریعے پیلٹ گنوں کے استعمال کے سبب ، سینکڑوں افراد نابینا ہوگئے ہیں-

سیاسی مبصرین یہ اہم سوال اٹھا رہے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے پر دہشت گردی کی حمایت کے الزام نے ، کیا ان حملوں کے خاتمے میں کوئی مدد کی ہے؟

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کے الزامات عائد کرنا صحیح نہیں ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ الزامات اس بات کا سبب بنے ہیں کہ دہشت گرد خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں -

کیوں کہ ہندوستان اور پاکستان ، بجائے اس کے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پراپنی توجہ مبذول کرتے اور اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ  باہمی تعاون کرتے ، ایک دوسرے پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاکر نہ صرف دہشت گرد گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ اپنے درمیان تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں-

ہندوستان کے شہر ممبئی میں دوہزار آٹھ میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ اور اسی طرح پاکستان میں ہونے والے مسلسل حملوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دونوں ملکوں کی قومی سلامتی کو دیگر خطرات لاحق ہونے سے زیادہ ، دہشت گرد گروہوں کی جانب سے خطرہ لاحق ہے-

یہ وہ دشمن ہیں کہ جن سے مقابلے کے لئے ایٹمی ہتھیاروں اور تباہ کن میزائلوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے، ان کو نابود کیا جا سکتا ہے-

اس لئے ان دو پڑوسی ملکوں کے درمیان الزام تراشی کا نتیجہ، محض ایک دوسرے کے خلاف نفرت اوربدگمانیوں میں اضافے اور ایک دوسرے کو جنگ سے قریب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے - اسی لئے بین الاقوامی اورعلاقائی حلقوں کا کہنا ہے کہ، نئی دہلی اور اسلام آباد کو صبرو تحمل سے کام لینا چاہئے-

بہرصورت ہندوستان اور پاکستان ایسے عالم میں اپنے تعلقات میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں کہ جنوبی ایشیاء کے علاقے کو، بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی غربت اورحفظان صحت نیز طبی و تعلیمی وسائل کے فقدان کے باعث ، ہر دور سے زیادہ اس وقت امن و امان کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ یہ ممالک بجٹ مخصوص کرنے کے ذریعے، اپنے ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرسکیں-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ ہندوستان نے حال ہی میں فرانس سے چھتیس رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کی ہے جس کے سبب علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں مزید اضافہ ہوگا اور جنوبی ایشیا کے علاقے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا-