یہودی آبادکاری کو تسلیم کروانے کے لئے اسرائیلی ہتھکنڈوں پر تنقید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i250309-یہودی_آبادکاری_کو_تسلیم_کروانے_کے_لئے_اسرائیلی_ہتھکنڈوں_پر_تنقید
فلسطینی علاقوں پر غاصبانہ قبضے کو قانونی بنانے کے لئے صیہونی حکومت کے ہتھکنڈے انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۲۶, ۲۰۱۶ ۱۴:۳۵ Asia/Tehran
  • یہودی آبادکاری کو تسلیم کروانے کے لئے اسرائیلی ہتھکنڈوں پر تنقید

فلسطینی علاقوں پر غاصبانہ قبضے کو قانونی بنانے کے لئے صیہونی حکومت کے ہتھکنڈے انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی نگراں تنظیم نے اتوار کے روز ایک رپورٹ میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی فٹبال کی ٹیموں کے درمیان مقابلے کروانے کے لئے صیہونیوں کی درخواست پر فٹبال کی بین الاقوامی فیڈریشن فیفا کی جانب سے اجازت دیئے جانے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو فلسطینی علاقوں پر ناجائز قبضے کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس فیصلے پر نظرثانی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اس رپورٹ میں یہودی آباد کاری والے علاقوں میں اسرائیلی ٹیموں کے درمیان فٹبال کے مقابلوں کی اجازت دینے پر فیفا پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس اقدام کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری کو تسلیم کئے جانے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری نادرست اقدام ہے اور کسی بھی ملک یا ادارے کی جانب سے اس قسم کی پالیسی کو تسلیم کیا جانا فلسطینی قوم کے تسلیم شدہ حقوق کے سراسر منافی ہے۔ فیفا کے اس اقدام پر یہ احتجاج اور تنقید، ایسی حالت میں کی گئی ہے کہ فٹبال کی بین الاقوامی فیڈریشن کی جانب سے غزہ اور غرب اردن کے علاقوں میں فٹبال کی فلسطینی ٹیموں کے درمیان مقابلوں کے انعقاد کے لئے اب تک کوئی مناسب اقدام، عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔ درحقیقت کھیلوں کی مختلف فیڈریشنز میں فلسطینی ٹیموں کی رکنیت کے باوجود غاصب  صیہونی حکومت کھیلوں کی بعض فیڈریشنز کی حمایت سے فلسطینی ٹیموں کے آنے جانے کی راہ میں نہ صرف یہ کہ خلاف ورزی کر رہی ہے بلکہ وہ صیہونی بستیوں میں کھیلوں کے مقابلے کرواکر ان علاقوں کو اسرائیلی علاقے تسلیم کروانے کے لئے اپنے عزائم پورے کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں کا خیال ہے کہ غاصب صیہونیوں نے بعض ملکوں کی حمایت اور کھیل کی بین الاقوامی فیڈریشنز میں پائی جانے والی لابی کے ذریعے کھیل کے شعبے کو بھی فلسطینوں کے خلاف جنگ کے ایک میدان میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس قسم کے تمام اقدامات کا مقصد ایک آزاد فلسطینی مملکت کی تشکیل کی روک تھام اور صیہونی آبادکاری کے عمل کو تسلیم کروانا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے فلسطینی قوم کی، کی جانے والی حمایت سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت، فلسطینی قوم کے خلاف اپنی نسل پرستانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں میں شکست سے دوچار رہی ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر بیشتر یورپی ملکوں اور اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا اسی زاویے جائزہ لیا جاسکتا ہے۔