حکومت پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید
ماہ محرم الحرام قریب آنے کے موقع پر پاکستان کے طلباء نے اپنے ملک میں شیعہ مسلمانوں کے بارے میں حکومت اسلام آباد کی پالیسیوں اور محرم کی عزاداری کو محدود کرنے کے لئے حکومت کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
پاکستانی طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شہر کراچی میں عزاداری کے بارے میں منعقدہ ایک کانفرنس میں وسیع پیمانے پر شرکت کرتے ہوئے نواسۂ رسولۖ کی عزاداری اور ماتمی انجمنوں پر عائد کی جانے والی پابندیوں پر خبردار کیا ہے۔ کانفرنس کے شرکاء نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسلام آباد کی حکومت مختلف بہانوں سے مجالس اور جلوس عزاء کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ ایام عزاء میں عزاداری کا اہتمام کرنا پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا مسلمہ حق ہے اور پاکستان کے شیعہ مسلمان ماضی کی مانند اس سال بھی مجالس و جلوس عزاء میں بھرپور شرکت کریں گے۔ پاکستان کے طلباء نے انتباہ دیا ہے کہ حکومت نے اگر عزاداری کے بارے میں سختی برتنے کا عمل جاری رکھا تو پاکستان کے شیعہ مسلمان، جیل بھرو تحریک شروع کردیں گے۔کراچی کانفرنس کے شرکاء نے تاکید کی ہے کہ ایسی حالت میں کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں زیادہ تر شیعہ مسلمان نشانہ بنے ہیں حکومت اپنے نیشنل ایکشن پلان کے تحت شیعہ مسلمانوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے جبکہ تکفیری دہشت گرد ملک میں بے لگام اور دندناتے گھوم رہے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کے علمائے دین اور طلباء کرام نے حکومت پاکستان کی شیعہ مسلمان مخالف پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے جنرل سیکریٹری علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے حال ہی میں پاکستان کی سیکورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دہشت گردانہ حملوں سے پورا پاکستان بدامنی سے دوچار ہے اس لئے حکومت اسلام آباد کو چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی کا مظاہرہ کرے مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ حکومت، نیشنل ایکشن پلان کا غلط استعمال کرتے ہوئے شیعہ مسلمانوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت، اگر ملک میں امن قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ تکفیری دہشت گردوں سے سختی سے نمٹے۔ اس بات کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی حلقوں کے نقطۂ نظر سے اسلام آباد کی حکومت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے میں دوہرے معیار کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور وہ انتہا پسند گروہوں کو اچھے اور برے گروہوں میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستان میں سیاسی و سیکورٹی حلقوں نے ہمیشہ اس بات پر تاکید کی ہے کہ دہشت گردی، خواہ وہ جس شکل کی بھی ہو، قابل مذمت ہے۔ اس رو سے پاکستان کے شیعہ مذہبی حلقے، دہشت گردانہ حملوں کے بہانے محرم کی عزاداری پر کسی بھی طرح کی پابندی عائد کئے جانے کے خلاف ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج، اگر حقیقت میں ارادہ کرے تو وہ جانے پہچانے فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مجالس و جلوس عزاء اور ماتمی انجمنوں کو مکمل تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کا سنجیدگی سے مقابلہ کرنے کے سلسلے میں حکومت کو سب کی مکمل حمایت حاصل ہے پھر بھی اس ملک میں بدامنی پائی جاتی ہے اور پاکستانی عوام منجملہ اس ملک کے شیعہ مسلمان، خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے طلباء نے کراچی کانفرنس میں شرکت کر کے محرم الحرام کے دوران عزاداری کے پروگرام جاری رکھے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پاکستان کے مسلمان، عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومت کی لاپروہی کی بناء پر محرم الحرام کے دوران نواسۂ رسولۖ سالار شہیداں حضرت امام حسین(ع) کی شہادت کے سلسلے میں عزاداری کے پروگراموں سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستانی عوام، خواہ وہ شیعہ مسلمان ہوں یا سنّی مسلمان، شہید کربلاء کی عزاداری کا اہتمام کرتے رہے ہیں اور پاکستان میں سنّی مسلمان بھی نواسۂ رسولۖ اور اہلبیت اطہار (ع) سے خاص عقیدت رکھتے ہیں بنابریں پاکستان میں فرقہ وانہ اور حسینی عزاداروں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں بیرونی ہاتھ کارفرما ہوتے ہیں اور پاکستان کے بعض دینی مدارس میں انتہا پسند تکفیری وہابی، مکمل طور پر سرگرم عمل ہیں جو مسلمانوں کے درمیان نفاق و دشمنی کا بیج بو رہے ہیں اور یہ ایسے مسائل ہیں کہ جن سے پاکستان کی حکومت اور سیکورٹی ادارے، ناواقف نہیں ہیں اور ان مسائل کی گتھّی کو سلجھانا بھی ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام نے اعلان کیا ہے کہ وہ محرم کی عزاداری کو محدود کرنے کے لئے حکومت کی کوئی درخواست قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ، فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے میں سیکورٹی اداروں کی نرمی و تحفظات کا کوئی تاوان ادا کریں گے۔