نیٹو اور یورپی فوج کے درمیان کوئی تضاد نہ پائے جانے پر تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i250477-نیٹو_اور_یورپی_فوج_کے_درمیان_کوئی_تضاد_نہ_پائے_جانے_پر_تاکید
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے منگل کے روز اسلواکیہ کے دارالحکومت براٹیسلاؤ میں نیٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ طاقتور یورپی دفاع اور طاقتور نیٹو، ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۵:۲۴ Asia/Tehran
  • نیٹو اور یورپی فوج کے درمیان کوئی تضاد نہ پائے جانے پر تاکید

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے منگل کے روز اسلواکیہ کے دارالحکومت براٹیسلاؤ میں نیٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ طاقتور یورپی دفاع اور طاقتور نیٹو، ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔

اس سے قبل برطانوی وزیر جنگ مائیکل فالون نے منگل کو ہی اپنے بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ، نیٹو سے الگ یورپی فوج بنائے جانے کے نظریئے کے خلاف ہے کیونکہ نیٹو کو ہی یورپ کا اصل دفاعی مرکز ہونا چاہئے اور اس فوج کے قیام سے نیٹو کی پوزیشن کمزور ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک، یورپی ملکوں کی ایک الگ فوج تشکیل دینے کے کسی بھی نظریئے کے خلاف ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ یورپی یونین کے اہم رکن ممالک خاص طور سے فرانس اور جرمنی، کافی عرصے سے متحدہ یورپی فوج تشکیل دیئے جانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کا خیال ہے کہ موجودہ صورت حال میں کسی بھی طرح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے اس قسم کی فوج تشکیل دیئے جانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے اعلانیہ طور پر جرمن اور دیگر یورپی افواج کے درمیان اتحاد کی بات کہی ہے اور جرمنی و فرانس نے اس سلسلے میں ابتدائی اقدامات بھی انجام دیئے ہیں۔ تاہم بعض دیگر یورپی ملکوں کی عدم دلچسپی کی بناء پر متحدہ یورپی فوج تشکیل دیئے جانے کے مسئلے میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے ساتھ اس وقت یورپ کی سیاسی و سیکورٹی کی صورت حال کافی تبدیل ہو گئی ہے۔ جرمنی و فرانس کا خیال ہے کہ یورپی یونین کو یورپی میں پیش آنے واقعات پر فوری ردعمل کے اظہار اور ممکنہ خطرات کے مقابلے میں اپنے دفاع نیز سلامتی کے تحفظ کے لئے نیٹو سے الگ ایک متحدہ یورپی فوج تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ نیٹو میں امریکہ اور کینیڈا جیسے، ایسے دو اہم رکن ممالک موجود ہیں جو یورپ کی سرحدوں سے باہر واقع ہیں اور اس بات کے پیش نظر کہ فوجی اقدام کے لئے نیٹو کے فیصلے میں سب کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ نیٹو کے یورپی رکن ممالک کے فیصلوں پر امریکہ اور کینیڈا جیسے نیٹو کے رکن ملکوں کی جانب سے مخالفت کا اظہار کیا جائے۔ جبکہ برطانیہ، متحدہ یورپی فوج کی تشکیل کی مخالفت کرتا ہے اور اب یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یورپی فوج کی تشکیل کی راہ میں پائی جانے والی رکاوٹ، ختم ہو گئی ہے مگر برطانوی وزیر جنگ مائیکل فالون کے بیان سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ لندن، یورپی فوج کی تشکیل کی شدید مخالفت جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حالانکہ لندن کے اس فیصلے سے یورپی یونین کے اہم رکن ملکوں خاص طور سے جرمنی میں سخت برہمی پائی جاتی ہے۔ جرمنی کے وزیر دفاع نے پیر کے روز برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ یورپی یورپی یونین سے علیحدگی کے ساتھ اب یورپی فوج کی تشکیل میں رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش نہ کرے۔ انھوں نے یورپ کے دفاعی منصوبے پر عمل درآمد کے لۓ جرمنی اور فرانس کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لندن ہمیشہ اس فوج کی تشکیل کی مخالفت کرتا ہے اور اس کا یہ رویہ، مثبت نہیں ہے اور یورپی یونین سے علیحدگی کے ساتھ برطانیہ کو متحدہ یورپی فوج کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ فوج تشکیل دینے کے منصوبے پر یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی سے پہنچنے والے نقصانات اور پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کی غرض سے عمل کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ یورپی فوج تشکیل دینے پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی حمایت کے پیش نظر اب اس فوج کی تشکیل کی مخالفت میں برطانیہ اب بالکل الگ اور تنہا پڑ گیا ہے۔ مسلمہ امر یہ ہے کہ یورپی فوج تشکیل دیئے جانے پر لندن کی جاری مخالفت، اس براعظم میں برطانیہ کے بالکل تنہا ہوجانے اور یورپ کے بڑے بڑے ملکوں منجملہ جرمنی اور فرانس کے ساتھ اس کے اختلافات بڑھنے  کا باعث بنے گی۔