ایران: شام کی مدد جاری رکھنے پر تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i250648-ایران_شام_کی_مدد_جاری_رکھنے_پر_تاکید
سلامی جمہوریہ ایران نے شام سمیت تمام ملکوں کی ارضی سالمیت اور اتحاد کو ایک بنیادی اصل قرارد یتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی سے مقابلے اور قیام امن کی راہ میں مدد کرنا ا پنا فریضہ سمجھتا ہے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۲۸, ۲۰۱۶ ۱۳:۵۲ Asia/Tehran
  • ایران: شام کی مدد جاری رکھنے پر تاکید

سلامی جمہوریہ ایران نے شام سمیت تمام ملکوں کی ارضی سالمیت اور اتحاد کو ایک بنیادی اصل قرارد یتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی سے مقابلے اور قیام امن کی راہ میں مدد کرنا ا پنا فریضہ سمجھتا ہے

 

اسلامی جمہوریہ ایران نے شام سمیت تمام ملکوں کی ارضی سالمیت اور  اتحاد کو ایک بنیادی اصل قرارد یتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی سے مقابلے اور قیام امن کی راہ میں مدد کرنا ا پنا فریضہ سمجھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ سرحدوں میں تبدیلی ہرگز علاقے کے فائدہ میں نہ ہوگی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کے دن تہران میں شام کی پارلیمنٹ کی اسپیکر ھدیہ خلف عباس سے ملاقات میں کہا کہ آج دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جو کسی بھی اخلاقی اور انسانی اصول کے پابند نہیں ہیں شام کے عوام پر ظالمانہ جنگ مسلط کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے مقابل شام کی قوم کی استقامت اور پائداری گذشتہ پانچ برسوں کے کٹھن وقت میں تعریف کے قابل ہے۔ صدر جناب حسن روحانی نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سے علاقائی ممالک دشمنوں کی سازشوں میں گرفتار ہوچکے ہیں اور علاقے کے عوام منجملہ عراق، یمن، شام اور لیبیا اور افغانستان کے عوام ان پر مسلط شدہ نہایت سخت حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اصولوں پر ڈٹا ہوا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ دہشتگردی علاقے اور پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہےکہ شام کے عوام کی مدد کی جانی چاہیے تا کہ وہ اپنے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کرسکیں اور دیگر ممالک کے سامنے بھی دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے حالیہ خطاب میں بھی اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ان رکاوٹوں کا ذکر کیا جو اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ شام کا پانچ سالہ بحران حل کیا جاسکے۔ انہوں نے اپنے اس معروف جملے کی بھی تکرار کی کہ جب علاقے میں جرنیل آئیں گے تو یہ توقع نہ رکھیں کہ ان کے استقبال کو سفارتکار جائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے دوسرے خطاب میں یہ معروف جملہ کہا تھا۔ یہ وہی انتباہ ہےکہ مغربی ملکوں نے اس پر توجہ نہیں کی اور آج بحرانوں کے شاہد ہیں اور شام کا بحران اس وقت علاقے میں ایک وسیع بحران میں تبدیل ہوگیا ہے۔

شام کا بحران اس وقت ایسا بحران ہے جسے حل کرنے کےلئے علاقائی اور عالمی سطح پر بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ گذشتہ دنوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر اس بحران کی طرف توجہ کی تا کہ اس ملک میں جنگ بندی کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرسکےلیکن اس سلسلے میں امریکہ کے نظریات محض یکطرفہ اور دہشتگردوں کی حمایت میں ہیں جس کی وجہ سے جنگ بندی کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔

موجودہ حالات میں جس چیز کی اہمیت ہے شام کے عوام کی مدد کرکے انہیں دہشتگردوں کے محاصرے سے نجات دلانا ہے۔اس نظریے کی بنا پر تمام دہشتگرد گروہوں  سے مقابلہ خواہ داعش ہو یا النصرہ ہو شام کی عوام کی مدد کے ساتھ ساتھ ضروری ہے۔ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ دہشتگردوں کے مقابل شام کی فوج کو کامیابیاں مل رہی ہیں۔ خبری حلقوں کا کہنا ہے کہ حلب پر شام کی فوج کا حملہ  اس شہر پر نئے حملوں کے شروع ہونے کے زمانے سے شامی فوج کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ بڑا حملہ گذشتہ ہفتے سے شروع ہوا تھا، البتہ ابھی کٹھن راستہ طے کرنا باقی ہے۔ یہ دیکھنا ہے کہ شام کی فوج کی پیش قدمی اور شام میں نو فلائی زون قائم کرنے کے خلاف شام اور روس کے صریحی مواقف جنہوں نے دہشتگردوں کے خلاف جدوجہد میں کلیدی رول ادا کیا ہے اس پر امریکہ کیا رد عمل دکھاتا ہے۔

ظاہر سی بات ہے صرف شام کی حکومت ہی اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے۔ ادھر شام کی حکومت اور ان مخالف دھڑوں کے درمیان مذاکرات جو شام کی قوم کی آزادی اور اس کے فیصلوں کا  احترام کرتے ہیں ایک جامع سیاسی راہ حل کے حصول کے لئے جس میں شام کی تمام  قومیں اور گروہ شامل ہوں ایک مناسب راستہ لگتا ہے۔ واضح سی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشتگردی کے خلاف مقابلے میں شام کی مدد کرنے اور علاقے میں امن و امان قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکہ بھی اگر حقیقت میں شام کے عوام کی مدد کرنے میں سچا ہے تو اسے بھی دہشتگردی کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے جو علاقے اور دنیا کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔