افغانستان میں امن کا ایک معاہدہ طے پاگیا ہے
حکمتیار نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ یہ معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے کیونکہ یہ کسی غیر ملکی طاقت کی مداخلت کے بغیر انجام پایا ہے۔
ایک ایسے عالم میں جب افغانستان میں امن کے تمام کبوتر پرواز سے پہلے دم توڑ چکے ہیں، افغان حکومت اور افغانستان کی ایک بڑی جماعت کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کی خبریں منظر عام پر آئی ہیں۔
افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان دوسالوں سے جاری تھکا دینے والی گفتگو کے نتیجے میں بلآخر جمعرات 29 ستمبر کو امن کا ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس سے اصولی طور پر داخلی جنگ ختم ہوجانی چاہیے۔
حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار نے ایک نامعلوم مقام سے اس معاہدے پر دستخط کیئے ہیں جس کی ویڈیو فلم منظر عام پر آگئی ہے۔
انہوں نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد جنگ، خونریزی اور جنگ کے عوامل کا خاتمہ ہے۔
حکمتیار نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ یہ معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے کیونکہ یہ کسی غیر ملکی طاقت کی مداخلت کے بغیر انجام پایا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ حکمتیار کے دستخطوں سے پہلے اس معاہدے پر افغان پارلیمنٹ کے اراکین نے دستخط کیئے، انجینیئر گلبدین حکمتیار کی پارٹی حزب اسلامی افغانستان میں سرگرم عمل حکومت مخالف چار جماعتوں، طالبان، حقانی گروپ، اور داعش میں سے ایک ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکمت یار کے لئے حکومت مخالف سلسلے کو جاری رکھنا ایک دشوار امر تھا کیونکہ شام، لیبیا، عراق اور یمن میں بیرونی مداخلت نے ان ممالک کو تباہی سے دوچار کردیا ہے، لہذا افغانستان میں اس عمل کو دہرانا، تباہی اور بربادی کے علاوہ کسی اورچیز پر منتج نہیں ہوسکتا، کیونکہ جنگ اور بدامنی بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا باعث بنتی ہے، لہذا مذکورہ ممالک کی تباہ کن صورتحال حکمتیار کے لئے ایک انتباہ تھی کہ جنگ سے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا۔
حکمت یار نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ غیر ملکی فوجوں کی ایک بڑی تعداد کے افغانستان سے انخلاء سے مذاکرات اور گفتگو کا دروازہ کھل گیا ہے۔
دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے معاہدے پر دستخط کرتے وقت کہا ہے کہ اس معاہدے میں کوئی شق افغانستان کے آئین سے تضاد نہیں رکھتی۔
افغان حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی اپنی طرف سے اس بات پر تاکید کی ہے کہ اس معاہدے میں ایک بھی شق ایسی نہیں ہے کہ جو افغان عوام کے حقوق سے متصادم ہو۔
عبداللہ عبداللہ نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں فریقین نے عہد کیا ہے کہ وہ جنگ کو ختم کریں گے، امن و امان کا قیام یقینی بنائیں گے، اسلامی اقدار کی پابندی کریں گے اور تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی اتحاد و وحدت پر اتفاق کریں گے۔
حکمت یار نے اس معاہدے کے تناظر میں اپنے اوپر اور اپنی جماعت کے بعض رہنماؤں پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی بھی بات کی ہے کیونکہ وہ اپنی جماعت پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہی افغانستان کے قومی انتخابات میں باقاعدہ شرکت کرسکتے ہیں۔
آیا یہ معاہدہ افغانستان کی حکومت کے دیگر مخالف گروہوں کےلئے بھی نمونہ عمل بن سکتا ہے یا نہیں، کیا وہ گروہ جنگ سے ہاتھ اٹھالیں گے اور مذاکرات شروع کردیں گے، اپنی جگہ پر قابل غور و خوص ہے۔
افغانستان کے آگاہ اور صاحب الرائے افراد کا اس بات پر یقین ہے کہ افغان عوام، ان کی اقدار نیز انکے مفادات سے جنگ کا نتیجہ، شکست، مہاجرت، آوارہ وطنی اور عالمی تنہائی کے علاوہ کچھ نہیں برآمد ہوگا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ معاہدوں پرپابندی کے حوالے سے افغانستان کا ماضی زیادہ شاندار نہ ہونے کے باوجود افغان حکومت کی حامی بعض حکومتوں اور سیاسی حلقوں نے اس معاہدے کو خوش آیند قرار دیا ہے۔