خلیج فارس کےممالک کو آمدنی میں کمی اور بجٹ خسارے کا سامنا
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i250990-خلیج_فارس_کےممالک_کو_آمدنی_میں_کمی_اور_بجٹ_خسارے_کا_سامنا
دفاعی شعبے کے عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق قطر اور کویت کے علاوہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی گذشتہ ایک سال میں یورپی اور امریکی کمپنیوں سے ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے پندرہ ارب ڈالر لاگت کے مختلف معاہدے کیئے ہیں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۳۰, ۲۰۱۶ ۱۶:۱۸ Asia/Tehran
  • خلیج فارس کےممالک کو آمدنی میں کمی اور بجٹ خسارے کا سامنا

دفاعی شعبے کے عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق قطر اور کویت کے علاوہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی گذشتہ ایک سال میں یورپی اور امریکی کمپنیوں سے ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے پندرہ ارب ڈالر لاگت کے مختلف معاہدے کیئے ہیں

خلیج فارس کے ممالک کے بارے میں موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک کو آمدنی میں کمی اور بجٹ خسارے کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود مغربی ذرائع خبر دے رہے ہیں کہ یہ ممالک ماضی سے کہیں زیادہ مغربی ممالک سے بڑے پیمانے پر جدید ہتھیار خرید رہے ہیں۔

روئیٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی بوئنگ نامی کمپنی نے قطر اور امریکہ کو جدید ساخت کے ایف اٹھارہ اور ایف پندرہ طیارے فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے، ان جنگی طیاروں کی خریداری پر سات ارب ڈالر خرچ ہونگے۔

واشنگٹن اس کے علاوہ بھی کویت اور قطر کے ساتھ تین ارب ڈالر کے اسلحہ خریداری کے ایک اور معاہدے کو آخری شکل دینے کی کوشش کررہا ہے۔

اس کے علاوہ فرانس نے بھی کویت اور قطر کے ساتھ ڈھائی ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کیئے ہیں، فرانس کی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق فرانس کاراکال نامی تیس جنگی ہیلی کاپٹر قطر اور کویت کو فروخت کرے گا۔

فرانس کے وزیر دفاع جان اف لردڈیاں نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ کویت نے اس معاہدے پر دستخط کر کے چند عشروں سے موجود اپنے اسٹراٹیجک اتحادی فرانس سے تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔

دفاعی شعبے کے عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق قطر اور کویت کے علاوہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی گذشتہ ایک سال میں یورپی اور امریکی کمپنیوں سے ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے پندرہ ارب ڈالر لاگت کے مختلف معاہدے کیئے ہیں اور اس طرح خلیج فارس کے یہ ممالک مغربی ممالک سے ہتھیار خریدنے والے ممالک میں سب سے بڑے خریدار قرار پائے ہیں۔

مغربی ممالک سے ہتھیار خریدنے کے بڑے بڑے معاہدوں کی خبریں ایسے عالم میں ذرائع ابلاغ میں سامنے آرہی ہیں کہ مختلف عالمی اداروں منجملہ ولڈ بینک اور عالمی مانیٹرینگ فنڈ نے اعلان کیا ہےکہ خلیج فارس کے تیل فروخت کرنے والے یہ ممالک آمدنی میں شدید کمی کی وجہ سے اقتصادی بحران کا شکار ہیں اور انہیں اربوں ڈالر کے خسارے کے بجٹ کا سامنا ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق خلیج فارس تعاون کونسل کے چھ ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، کویت اور بحرین کو 2016  کے اختتام تک 153  ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ سلسلہ اگر جاری رہتا ہے تو یہ ممالک سماجی مشکلات سمیت مختلف مسائل کا شکار ہوجائیں گے۔

خلیج فارس کے ان ممالک کی طرف سے جدید اسلحوں کی خریداری میں ایک ایسا اضافہ کہ جس کا ریکارڈ ماضی میں نہیں ملتا، ایسے عالم میں جاری ہے کہ ان ہتھیاروں کی ایک بڑی مقدار شام اور عراق میں سرگرم عمل دھشت گردوں کے اختیار میں دے دی جاتی ہے۔

دوسری طرف ہتھیاروں کی خریداری ایسی صورت حال میں جاری ہے کہ ان ممالک میں غربت و افلاس اور بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اس حوالے سے بعض ممالک منجملہ سعودی عرب میں دوسال پہلے حکومت مخالف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

اس صورت حال میں بعض تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ خلیج فارس کے یہ ممالک ہتھیاروں کی ایک بڑی مقدار خرید کر مغرب کو اقتصادی بحران سے نکال کر اسلحہ سازی کی صنعت کو دیوالیہ ہونے سے بچارہے ہیں۔

التبہ یہاں پر اس نکتہ کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ مغربی ممالک خطے میں بدامنی پھیلا کر نیز ایرانوفوبیا کا ماحول پیدا کر کے عرب ممالک کو ہتھیار خریدنے پر تیار کرتے ہیں تاکہ وہ رقم جو وہ عرب ممالک سے تیل خریدنے پر صرف کرتے ہیں وہ ہتھیار بیچ کر ان سے باآسانی واپس لے لیں۔