انتفاضۂ قدس کی پہلی سالگرہ
یکم اکتوبر دو ہزار سولہ کی تاریخ صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی انتفاضۂ قدس کی پہلی سالگرہ سے مناسبت رکھتی ہے۔
ایک سال قبل یکم اکتوبر کو بیت المقدس اور مسجد الاقصی پر صیہونیوں کے وسیع حملوں اور زمان و مکان کے اعتبار سے اس مقدس مقام کی تقسیم سے متعلق ان کی کوششوں کے بعد فلسطینیوں کی انتفاضۂ قدس تشکیل پائی جو بدستور جاری ہے اور فلسطینی عوام نے صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے مقابلے میں جاں فشانی کے ساتھ اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔ القدس تحقیقاتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق انتفاضۂ قدس کے آغاز کے بعد سے غاصب صیہونی حکومت کی جارحانہ کارروائیوں میں ڈھائی سو فلسطینی شہید اور مختلف علاقوں میں تقریبا اٹھارہ ہزار تین سو فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ صیہونی فوجیوں نے اس دوران آٹھ ہزار پانچ سو مرتبہ فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کی کارروائی کی۔ انتفاضۂ قدس کے عنوان سے فلسطینیوں کی استقامت کا نیا دور کہ جسے انتفاضۂ سوم سے تعبیر کیا جاتا ہے، فلسطینی مجاہدین کی تاریخ میں ایک سنگ میل شمار ہوتا ہے جس نے فلسطینی عوام کی مضبوط استقامت کا لوہا منوایا ہے۔ انتفاضۂ قدس نے فلسطین کے مختلف علاقوں خاص طور سے بیت المقدس پر قبضہ جمانے اور اس سلسلے میں منصوبہ بندی کرنے کے لئے صیہونی حکومت کی تمام سازشوں پر پانی پھیر دیا جس کے نتیجے میں غاصب صیہونی حکومت کو ہر طرح سے شکست و ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ غاصب صیہونی حکومت، اس غلط فہمی کا شکار تھی کہ مشرق وسطی میں برسہا برس کے سازشی عمل اور بعض عرب حکومتوں کے، سازش پسندانہ رویے نیز طویل مدت سے فلسطینی علاقوں پر قبضہ جاری رہنے سے فلسطینی عوام کی تحریک مزاحمت، اب ٹھنڈی پڑ گئی ہے مگراس غاصب حکومت کو انتفاضہ قدس کے زیرعنواں فلسطینیوں کی ایسی تحریک کا سامنا کرنا پڑا کہ جس نے غاصب صیہونی حکومت کی چولیں مکمل طور پر ہلا کر رکھ دیں۔ انتفاضۂ قدس کا ایسی حالت میں ایک سال مکمل ہوا ہے کہ فلسطینیوں کی صیہونی مخالف کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور فلسطینی جوانوں نے تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کے مقاصد کے حصول تک ان کی جدوجہد یونہی جاری رہے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ انتفاضۂ قدس اور حالیہ مہینوں کے دوران اس میں آنے والی شدّت نے صیہونی حکومت کو ماضی سے کہیں زیادہ بے بس کر دیا ہے اور اس غاصب حکومت کو زوال کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب سے غاصب صیہونی حکومت وجود میں آئی ہے اور اس نے فلسطینی علاقوں پر غاصبانہ قبضہ جمایا ہے اس وقت سے ہی فلسطین کے مختلف علاقوں میں صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینیوں کی استقامت و مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینی عوام نے ہمیشہ اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ، فلسطینی علاقوں منجملہ بیت المقدس پر غاصبانہ قبضہ جمانے کے لئے صیہونی حکومت کی پالیسیوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ سن دو ہزار میں انتفاضۂ الاقصی کا آغاز، جو صیہونی حکام کی جانب سے مسجد الاقصی کی بارہا بے حرمتی خاصطور سے ایریل شیرون کے اس مقدس مقام میں داخل ہونے کے ردعمل میں شروع ہوئی، مذکورہ حقیقت کا بیّن ثبوت ہے۔ مختلف سیاسی و فوجی شعبوں میں فلسطینیوں سے غاصب صیہونی حکومت کو ملنے والی متعدد شکست و ناکامی کے پیش نظر فلسطینی عوام کا خیال ہے کہ فلسطینی امنگوں کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں اپنی پائیدار استقامت و مزاحمت جاری رکھیں۔ سن دو ہزار پانچ میں غزہ کے علاقے سے صیہونی فوجیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا اور غزہ کے خلاف دو ہزار نو، دو ہزار بارہ اور دو ہزار چودہ میں مسلط کی جانے والی جنگوں میں اس غاصب حکومت کو شکست سے دوچار کرنا، اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ استقامت و مزاحمت ہی ایسا عمل ہے جس نے فلسطینیوں کو اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب بنایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں نے ہمیشہ سازشی عمل کی مخالفت کرتے ہوئے انتفاضہ جاری رکھے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ فلسطینی عوام کی جاری مزاحمتی تحریک نے فلسطین اور فلسطینیوں کی مظلومیت کی طرف رائے عامہ اور پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائے جانے پر گہرے اثرات مرتّب کئے ہیں۔ اس درمیان یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ فلسطینی عوام صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے مقابلے میں اپنی امنگوں کو پورا کرنے کے لئے آہنی عزم و ارادے کے مالک ہیں اور جب تک ان کے تمام مقاصد پورے نہیں ہو جاتے ان کی استقامت و مزاحمت کا عمل بدستور جاری رہے گا۔ عالمی سطح پر مظلوم فلسطینیوں کے حقوق پر بڑھتی ہوئی توجہ اور غاصب صیہونی حکومت کے خلاف پابندیاں، انتفاضۂ قدس کی کامیابیوں کا حصہ شمار ہوتی ہیں۔ چنانچہ فلسطین کی تبدیلیوں کے عمل سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فلسطینی عوام کی استقامت و مزاحمت کا عمل نہ صرف یہ کہ رکنے والا نہیں ہے بلکہ وہ وسیع پہلو بھی اختیار کر گیا ہے۔