مغرب ایران کی منڈیوں فائدہ اٹھائے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i251299-مغرب_ایران_کی_منڈیوں_فائدہ_اٹھائے
کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کے لئے پیشگی شرط نہیں رکھ سکتا
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۲, ۲۰۱۶ ۱۱:۴۵ Asia/Tehran
  • مغرب ایران کی منڈیوں فائدہ اٹھائے

کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کے لئے پیشگی شرط نہیں رکھ سکتا

 

کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کے لئے پیشگی شرط نہیں رکھ سکتا۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ہفتے کو مذاکرات کے ظریف پہلو نامی کتاب کی رسم اجرا میں جرمنی کے وزیر اقتصاد کے جواب میں کہا کہ ایران ایک خود مختار ملک ہے اور اسکی پالیسیاں بھی واضح ہیں اور مختلف ممالک ایران کی پالیسیوں سے آگہی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران امن پسندی کے ساتھ ساتھ داعش اور دہشتگردی کے خلاف ڈٹا ہوا ہے اور اسی اساس پر ایران کے ساتھ تعلقات رکھنا سب کے لئے فخرکی بات ہونی چاہیے۔

واضح رہے جرمنی کے وزیر اقتصاد زیگمار گابریل نے جو پروگرام کے مطابق اتوار کی رات تہران پہنچیں گے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کی شرط صیہونی حکومت کو تہران کی جانب سے تسلیم کرنا ہے۔انہوں نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارےمیں بھی کچھ بیانات دئے تھے۔

جب ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان  ایٹمی معاہدہ طے ہوا ہے تو گابریل زیگمار یورپی یونین کے پہلے وزیر تھے جنہوں نے تہران کا دورہ کیا تھا اور ان کےبعد جرمنی کے دیگر سیاسی رہنماوں نے یہ کوشش کی کہ ایران کے سات اچھے تعلقات کو دوبارہ زندہ کریں۔ کہاجارہا ہے کہ گابریل زیگمار کے دورہ تہران میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تین ارب یورو سے زیادہ کے معاہدے کئےجائیں گے۔یہ رقم جرمنی کے چھے بینک ایک کنسورشیم کی صورت میں ایران کو دیں گے۔زیگمار کے دورہ تہران کے موقع پر ایران اور جرمنی کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا  پانچواں  اجلاس بھی ہوگا جو چودہ برس کے بعد منعقد  ہورہا ہے۔ اس اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیاں جامع  اقتصادی تعاون کی دستاویز پر دستخط کئے جائیں گے۔

دویچے ویلے کی ویب سائٹ نے جرمن وزیر اقتصاد کے دورہ تہران کے بارے میں رپورٹ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جرمنی یہ کوشش کررہا ہے کہ ایران کی منڈی میں فراہم ہونے والے مواقع سے بہرہ مند ہو۔

اس رپورٹ میں آیا ہے کہ جب گابریل زیگمار کا طیارہ تہران کی طرف روانہ ہوگا تو اس دورے میں بہت کم لوگوں کو شامل ہونے کا موقع مل سکے گا، صرف سینتیس افراد ان کے ساتھ طیارے میں ہونگے اور جب وہ ایران پہنچ جائیں گے تو تقریبا سو تاجر ان کے وفد میں شامل ہوجائیں گے۔

موجودہ حالات میں گابریل زیگمار کے بیانات کے بارے میں ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ  جرمنی ایران کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے تعلق سے کچھ تحفظات رکھتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ جرمنی کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنے مفادات کے دائرے میں اقتصادی مواقع کو ہاتھ سے جانے نہ دے۔ایران کے عالمی اقتصادی میدان میں داخل ہونے سے جرمنی خود کو فرانس اور اٹلی جیسے ملکوں سے شدید مسابقت میں پارہا ہے۔ گابریل زیگمار کے جواب میں محمد جواد ظریف کا بیان در حقیقت متوازن تعلقات اور پیشگی شرط پر استوار تعلقات کے فرق کو واضح کرتا ہے اور یہ بہت بعید ہے کہ جرمنی کے وزیر اقتصاد ایران سے خالی ہاتھ جانا چاہیں گے۔ جرمنی کی ریاست باواریا کی وزیر اقتصاد ایلسہ آیگنر نے کچھ دنوں قبل ایران کا دورہ کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نےگذشتہ برس ایران کے دو دوروں میں ان خدشات کا اظہار کیا تھا اس کے باوجود وہ تجارتی اور اقتصادی معاہدوں کے ہمراہ منجملہ تین ایرانی بینکوں کی شاخیں کھولے جانے کا وعدہ لے کر جرمنی لوٹی ہیں۔ ایران کے اقتصادی اور تجارتی تعاون کرنے کے لئے جرمنی کی حکومت کا اشتیاق یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے انسانی حقوق کے دعوؤں کے پیچھے ان کے اقتصادی مفادات چھپے ہیں اور ان کو اولین ترجیح حاصل ہے لھذا جرمن وزیر اقتصاد کے بیانات زیادہ تر داخلی پروپگینڈے اور یورپی رائے عامہ کو مطمئن کرنے نیز امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ ہمنوائی ظاہر کرنے کےلئے ہوسکتے ہیں۔